ہم نہیں چاہتے کہ طاقت کے زور پر کوئی افغانستان میں مسلط ہو: شاہ محمود قریشی

128

اسلام آباد: وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی طاقت کے زور پر افغانستان میں مسلط ہو، افغان امن عمل میں ہمارا کردار مثبت رہا ہے اور ہم امن کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ 
تفصیلات کے مطابق افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں بہتری چاہتے ہیں اور وہاں کے عوام امن چاہتے ہیں، افغان امن عمل میں ہمارا کردار مثبت رہا ہے، حالانکہ اشرف غنی کے پاکستان پر الزامات بھی جاری ہیں مگر پھر بھی ہمارا رویہ مثبت ہے اور آج بھی دوحہ میں امن مذاکرات میں پاکستانی وفد شامل ہے، امن کیلئے ہماری کوششیں ہمیشہ جاری رہیں گی۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مثبت کردار اور قیام امن کیلئے کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور آج دنیا افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی مصالحانہ کوششوں کو تعریف کر رہی ہے مگر دوسری طرف افغانستان کے حالات کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے باہر ایک طبقہ تخریب کاری کا کردار ادا کر رہا ہے اور ایسا کہنا ہرگز درست نہیں کہ پاکستان نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے، ہم ناصرف عالمی اتفاق رائے کا حصہ ہیں بلکہ ہمارے مقاصد بھی یکساں ہیں لیکن کچھ قوتیں خطے میں امن کے خلاف کام کر رہی ہیں جن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ 
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں کسی کے فیورٹ ہونے کا تاثر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان مسئلے کا فوجی حل ہوتا تو وہ نکل چکا ہوتا، افغانستان میں امن عمل کے آگے بڑھنے میں پاکستان کی کوششیں شامل ہیں، ہم افغانستان کے تمام ہمسائیوں سے رابطے میں ہیں اور مل کر ایک مربوط حکمت عملی بنانا چاہتے ہیں، خطے میں تمام ممالک کو مل کر قیام امن کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔
شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں تشدد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان میں کوئی طاقت کے زور پر مسلط ہو، ہم ان کے معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے لیکن اچھے ہمسائے کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار تھے اور تیار ہیں، ہم نے باڈر فینسنگ بھی ناپسندیدہ عناصر کی نقل و حرکت کو روکنے کیلئے کی۔ 
ان کا کہنا تھا کہ روزانہ 25 سے 30 ہزار لوگ بارڈر کراس کرتے ہیں اور ہمیں تشویش ہے کہ حالات خراب کرنے والے عناصر ملک میں داخل نہ ہوں، ہمیں یہ بھی ادراک ہے کہ افغانستان ایک لینڈ لاک ملک ہے، ہمیں اس کیلئے درمیانہ راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.