پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور طالبان نے بات کرنے سے بھی انکار کر دیا، وزیر خارجہ

206

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان امن میں معاون ہیں جنگ میں نہیں اور پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن ہم نہیں گھبراتے کیونکہ نیت صاف ہے۔

 

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے اور افغانستان کو پاکستان سے کوئی شکوہ ہے تو آئیں میکینزم کے تحت بات کرتے ہیں۔ ہم نے افغان مہاجرین کے لیے بہترین سہولیات فراہم کیں۔افغانستان کے نقصان میں ہمارا نقصان ہے اور افغان بھائی سازشوں کو سمجھیں ۔

 

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ بات کرنے سے انکار کر دیا اور پاکستانیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

 

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہم افغان امن عمل میں اہم اسٹیک ہولڈر ہیں اور پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے کیونکہ افغانستان میں ہمارا کردار معاونت کا ہے ضامن کا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 6 اگست کو سکیورٹی کونسل میں افغانستان سے متعلق بریفنگ ہوئی اور بھارت نے سیکیورٹی کونسل کی صدارت کے دوران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور افغانستان سے متعلق بریفنگ کیلئے بھارت سے بطور سیکیورٹی کونسل کے موجودہ صدر رابطہ کیا لیکن بھارت نے مثبت ردعمل نہیں دیا اور بھارت کی جانب سے ہماری درخواست کو قبول نہیں کیا گیا جبکہ بھارت کو سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے ایسا منفی رویہ زیب نہیں دیتا جبکہ وزیراعظم عمران خان کے افغان مسئلے پر  موقف کی دنیا نے تائید کی۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے افغان مسئلے کا حل فریقین کے درمیان مذاکرات میں ہے اور افغان دھڑوں میں مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں اجلاس طلب کیا تھا لیکن صدر اشرف غنی کی درخواست پر اجلاس کو ملتوی کیا گیا۔ اب ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے پائیدار امن کے لیے آگے بڑھا جائے اور سلامتی کونسل اجلاس میں افغان نمائندے نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی لیکن ہم افغان قیادت کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں کیونکہ بدقسمتی سے دوسروں کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جا رہا ہے۔ 

وزیر خارجہ نے کہا غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش ہے اور افغانستان کے بارے میں پاکستان کا موقف مستقل اور واضح ہے جبکہ افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورت حال پر تشویش ہے اور بار بار اس چیز کو واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان میں ہمارا کوئی پسندیدہ فریق نہیں ہے بلکہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے۔ 

 

تبصرے بند ہیں.