قومی اسمبلی میں ایک بار پھر ہنگامہ ہوتے ہوتے رہ گیا 

145

اسلام آباد:قومی اسمبلی اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کا شکار ہوتا ہوتا رہ گیا مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے حکومت کو چور کہہ دیا جس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا اس کا جواب ہم دے سکتے ہیں مگر دے نہیں رہے پہلے بڑی مشکل سے اس ایوان کا ماحول ٹھیک ہوا ہے ایسے الفاظ نہ بولیں کہ پھر ایوان کا ماحول خراب ہوجائے۔

 

نمائندہ نیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ایک دفعہ پھر ہنگامے سے بال بال بچ گیا ،مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی کی طرف سے حکومت کو چو رکہنے پر حکومتی اراکین آگ بگولہ ہو گئے ،جس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا اس کا جواب ہم اسی انداز میں دے سکتے ہیں لیکن ہم ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے ،بہتر ہے  ایوان کے ماحول کو اچھارکھنے کے لئے چور کا لفظ حذف کیا جائے ،پینل آف چیئرامجد علی خان نے چور کا لفظ حذف کیا تو لیگی رکن علی گوہر بھڑک اٹھے کہا اگر چور کا لفظ حذف کریں گے تو پھر ایوان کی چار سال کی کاروائی حذف کرنا پڑ جائے گی کیونکہ یہ چار سال یہاں چور چور ہی کرتے رہے ہیں۔

 

اسلام آباد سے رپورٹ کرتے ہوئے نمائندہ نیو نیوزعلی شیر نے کہا قومی اسمبلی اجلاس حکومت اور اپوزیشن کے تعاون سے کچھ عرصے سے بہتر ماحول میں چل رہا ہے جسے سراہا جارہا ہے آج ایک بار پھر ایسا موقع پیدا ہوگیا کہ یہ ماحول بمشکل خراب ہوتا ہوتا رہ گیا۔

 

ایوان کی کاروائی کا ذکر کرتے ہوئے علی شیر نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رکن مرتضی جاوید عباسی نے خیبرپختونخواہ میں کرونا فنڈ میں تین ارب روپے کی کرپشن پر حکومت کو چور کہہ دیا اور الزام لگایا کہ حکومت گیس کنکشن دینے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کررہی ہے ،مرتضی جاوید عباسی کے نکتہ اعتراض پر جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ حکومت پر تنقید مناسب انداز میں کی جائے جواب دیا جائیگا جو الفاظ یہاں استعمال ہوئے ہیں وہ نامناسب ہیں انہیں حذف کیا جائےمشکل سے ایوان کا ماحول اچھا ہوا، اس کو خراب نہ کیا جائے۔

 

پینل آف چیئر نے بھی نامناسب الفاظ حذف کرنے کی تائید کرتے ہوئے الفاظ حذف کردیے ،مسلم لیگ ن کے ارکان نے احتجاج ریکارڑ کرواتے ہوئے کہا کہ آپ کیسے چور کا لفظ حذف کر سکتے ہیں ؟ چار سال یہاں چور چور کے نعرے لگاتے رہے ہیں یہی ایوان کی کارروائی ہوئی پھر آپ چارسال کی کارروائی کو بھی حذف کریں۔

تبصرے بند ہیں.