پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا

132

اسلام آباد: پاکستان نے کنٹرول لائن پار سے مقبوضہ کشمیر میں دراندازی کے بھارتی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر لگی باڑ، الیکٹرانک آلات سے نگرانی اور بڑی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی بھارتی الزام کے بے بنیاد اور جھوٹا ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 

 

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی جھوٹے پراپیگنڈے کی مہم کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مقبوضہ جموں وکشمیر دنیا کا ایسا زون ہے جہاں سب سے زیادہ فوجی موجود ہیں اور اس وقت 9 لاکھ سے زائد بھارتی فوجی کشمیر میں موجود ہیں۔

 

ترجمان نے کہا کہ بھارت نے کنٹرول لائن پر باڑلگائی ہے ،الیکٹرانک آلات سے بھی نگرانی کرتا ہے  ۔بھارت نے سیکیورٹی کے کئی حصار قائم کر رکھے ہیں اور ان اقدامات کے تناظر میں کسی کے لیے ایل او سی پار کرنا ممکن نہیں  جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیر اور پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، سمجھوتہ ایکسپریس سے لے کر لاہور بم دھماکے تک بھارتی دہشت گردی عیاں ہے اور 2020 میں دنیا کو بھارتی دہشت گردی جبکہ مالی معاونت سے متعلق ٹھوس ثبوت دیئے ۔

 

انہوں نے کہا کہ فروری 2021 میں پاکستان نے فائر بندی معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے بھارت سے بات کی اور اقدام کا مقصد خطہ میں امن اور کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا ۔

 

دفتر خارجہ ترجمان نے بھارت کو متنبہ کیا کہ دراندازی کے نام پر جھوٹ بول کر فائربندی مفاہمت کو نقصان نہ پہنچایا جائے ،بھارت فلیگ آپریشنز کے ذریعہ جھوٹ پھیلانے سے باز رہے ، غیر ذمہ دارانہ بھارتی بیاناتت سے خطہ میں امن اور سیکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.