ڈپٹی کمشنر صا حب کا کتا اور عوام

165

نہیں صا حب نہیں، آپکو گو جرانو الہ پولیس اور جنا ب ڈپٹی کمشنر گو جرا نو الہ کی ایڈ منسٹر یٹو مشینری کی کا ر کر دگی کو داد دینا پڑے گی کہ پورے شہر کی چھان بین کر کے جنا ب ڈپٹی کمشنر صا حب کا گمشد ہ کتا آ خر کا ر ڈھو نڈ نکا لا۔جی صا حب یہ کو ئی ایسا ویسا کتا نہیں تھا،بلکہ اعلیٰ نسل کا جر من شیفرڈ ڈاگ تھا۔ تو پھر مان لیجئے کہ جنا ب ڈپٹی کمشنر صا حب اور ان کی فیملی کی پر یشا نی بجا تھی۔ اور پھر جہا ں تک ان کی ایڈ منسٹریٹو عملے کا تعلق ہے تو انہیں کسی نہ کسی طور ورکنگ آورز پورے کرنا ہی ہو تے ہیں، تو پھرکتا ڈ ھو نڈ نے کی مصر و فیت سے بڑھ کر ان کی کو ئی اور مصر و فیت کیا ہو سکتی تھی۔ڈ یو ٹی کی ڈ یو ٹی پو ری ہو ئی اورصا حب بھی خوش ہوئے! تا ہم جنا ب ڈپٹی کمشنر صا حب کو یہ غور فر ما نا چاہیے کہ آ خر کتا چوری کیسے ہوا۔کیو نکہ ان کی سرکاری کو ٹھی کی حفا ظت تو مثا لی پیما نے پر ہو گی۔ تو پھر یہی مطلب ہو انا کہ گا رڈز سو رہے تھے یا پھر ڈیو ٹی ہی سے غا ئب تھے۔ مگر ڈپٹی صا حب انہیں اس کی سزا دیں تو کیو نکر دیں کیونکہ خو د ان کی اپنی برادری،یعنی سب بیو رو کر یٹس کا یہی حا ل ہے۔ جی ہا ں، کسی با بو یعنی بیو رو کر یٹ کا ا پنی سیٹ پر پو رے آ فس ٹا ئم میں مو جو د رہنا ایک معجزے سے کم نہیں ہو تا۔ تب ہی تو کسی بھی سا ئل کی فا ئل مختلف میز و ں پہ پڑی سڑ تی رہتی ہے۔ ایسے میں رشوت کے کا م میں ما ہر سا ئل حضرا ت اپنی فا ئلو ں کو پہیے لگا دیتے ہیں۔ گو یا آ وے کا آ وا بگڑا ہو ا ہے۔ چا ہے اسمبلیا ں ہو ں یا سرکا ری دفا تر، ملک میں الزا م سا زی اور لڑائی جھگڑے کے علا وہ کو ئی کا م نہیں ہو رہا۔چور چوروں کے گریبان پکڑیں۔ اس جھگڑے پہ نہیں کہ لوٹے ہوئے مال کی تقسیم یکساں ہو، بلکہ یہ الزا م دیتے ہوئے کہ تم نے غریبوں کا پیسہ لوٹ لیا، تمہیں کچھ خیال نہیں آیا۔ کوئی حیا ہوتی ہے، کوئی شرم ہوتی ہے۔ جواب میں جن کا گریبان پکڑا جارہا ہے کہیں تم نے بھی تو لوٹا ہے۔ فلاں موقع کا لوٹا ہوا مال کیا یاد نہیں؟ اور پھر یہ باتیں سچ بھی ہوں تو کیا کہیں گے آپ؟ لامحالہ یہ لڑائی آہستہ آہستہ اپنی شدت کھو دے گی۔ دوسرے پہ الزام لگانا، بے شک وہ حقیقت
پہ مبنی ہو آسان ہوتا ہے۔ خود پہ سچے الزام کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دھاڑتی ہوئی آوازیں سرگوشی کی صورت اختیار کرنے لگتی ہیں۔رہے عوام، تو وہ وہی قدرتی عوامل کے رحم و کرم پر۔ گرمی اپنے تاریخ ساز نئے ریکارڈ بناتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوئی تو لوڈ شیڈنگ کے دورانیے بھی با رہ با رہ گھنٹوں تک پہنچنے لگے۔ پانی ناپید ہونے لگا۔ آلودگی سے بھر پور پانی پینے سے ہیضے کی خبریں اخبار بھرنے لگیں۔ تو پھر حساس شاعر یہی تو کہے گا ؎
پھر وہی گوشہئ زنداں ہے، وہی تاریکی
پھر وہی کہنہ سلاسل، وہی خونیں جھنکار
پھر وہی بھوک سے انساں کی ستیزہ کاری
پھر وہی ماؤں کے نوحے، وہی بچوں کی پکار
تو عوام تو اس قدر مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ تو اب کسی نجات دہندہ کی جانب بھی نہیں دیکھ رہے۔آج 15 ہزا ر روپے کما نے وا لے 15کر و ڑ مز دو رں کا مطا لبہ ہے کہ اگر کسی کا ٹیلی فو ن پر وز یرِ اعظم جنا ب عمرا ن خان صا حب سے ہو جا ئے تو وہ انہیں ہما را یہ پیغا م پہنچا دے کہ وز یرِ اعظم صا حب ہمیں آ ٹا،چینی،گھی سمیت زرعی اجنا س کی تین سا ل پرا نی قیمتیں وا پس کر دیں۔ ہم تبد یلی سے بھر چکے۔پٹر ول کی کی قیمت، آ ٹے کی قیمت، چینی کی قیمت، اور گو شت وغیر ہ کی قیمت جس سطح پہ پہنچ چکی ہے، وہ کبھی وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
ہم عوا م جب اپنی غر بت سے مجبو ر ہو کر اپنی بد نصیبی کا رو نا رو تے ہیں تو ہمیں طفل تسلی دی جا تی ہے کہ ہما را ملک قد رتی وسا ئل سے ما لا ما ل ملک ہے۔افسو س تو یہ ہے کہ ہم بھی اس پہ ڈینگیں مارتے چلے جارہے ہیں۔ 1970ء کی دہائی سے پہلے ہماری درسی کتاب میں ایک باب یا سبق ہوا کرتا جس میں بیان کیا جاتا کہ مغربی پاکستان کو کپاس سے مالا مال ہونے کی بنا پر چاندی کا دیس کہا جاتا ہے، اور مشرقی پاکستان کو پٹ سن سے مالا مال ہونے کی بنا پر سونے کا دیس کہا جاتا ہے۔ ہم بغلیں بجاتے رہے، سونے کا دیس ہم سے چھن گیا اور پھر چاندی کے دیس کی چاندی یعنی کپاس کی فصل کا ہم نے کیا کیا؟ ہم نے کپاس کے کھیتوں میں گنے اگانا شروع کردیئے۔ اس لیے کہ ہمارے ملک کے سربراہوں کی، بڑے بڑے سیاستدانوں کی اور بڑے برے کرتے دھرتوں کی شوگر ملیں ہیں۔ کپاس کے کھیتوں کی ا س بربادی سے ہماری ٹیکسٹائل ملیں بند ہوگئیں۔ ہمار ے مانچسٹر یعنی فیصل آباد میں بے روز گاری عام ہوگئی۔ اب بتایا جارہا ہے کہ وہاں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی آماج گاہیں پنپ رہی ہیں، مگر ہم چپ ہیں۔ ہمارے بڑے ا پنی شو گر ملوں کی تعداد بڑھانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ انہیں یہ فکر ہے کہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں اور زیادہ سے زیادہ گنا کیسے حاصل کیا جائے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ کس طرح طاقت کے زور پہ کم سے کم قیمت پہ، یہاں تک کہ بغیر ادائیگی کے گنا حاصل کریں۔ ہمارا کسان اس ظلم پہ دہائی دے رہا ہے، مگر ہم چپ ہیں۔ اور ہما رے ملک کے با بو لو گ ہما ری فا ئلو ں پہ سرخ فیتے لپیٹنے میں مصر وف ہیں اور ان کا عملہ ان کے کتوں کی دیکھ بھا ل پہ جتا ہوا ہے۔

تبصرے بند ہیں.