پنجاب اسمبلی استحقاق بل پر نظرثانی کی ضرورت

166

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے منتخب ایوان نے حال ہی میں ارکان اسمبلی کا ترمیمی استحقاق بل منظور کیا ہے۔ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم ؒ اور تصور پاکستان کے خالق حکیم الامت علامہ اقبالؒ بھی قرآن و سنت کے اصولوں پر مبنی ایک ریاست چاہتے تھے۔ پنجاب اسمبلی کا حالیہ اقدام اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ نے بار بار فرمایا کہ پاکستان کا آئین اور قانون اسلام کے جمہوری اصولوں پر مبنی ہوگا۔
ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ ریاست کے تینوں ستون، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں کیونکہ ایک دوسرے کے کام میں مداخلت سے نہ صرف بدنظمی پیدا ہوتی ہے بلکہ آئینی و قانونی نظام کی کمزوری کا باعث بھی بنتاہے۔ آئین میں پارلیمان کی بالادستی جمہوریت کی بنیاد ہے اور منتخب قومی نمائندے نہایت قابل احترام ہیں۔ انہیں ایوان کے اندر اور باہر عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرنے کا حق حاصل ہے۔
پارلیمنٹ یا اسمبلی کے ارکان کے استحقاق کا حق آئین اور قانون کی رو سے پہلے ہی موجود ہے لیکن اس کی موجودگی کے باوجود ایک ایسے بل کی منظوری کا قانونی جواز یا وجہ نظر نہیں آتی۔ آئین اور جمہوری اصولوں کے مطابق جو بھی بل اسمبلی میں پیش کیا جائے تو اس بارے میں رائے عامہ معلوم کرنے کیلئے اسکی دو تین ماہ بخوبی تشہیر ہونی چاہیے تاکہ عوام اس کے بارے میں اپنی رائے اور جذبات و احساسات کا کھل کراظہار کر سکیں۔ حال ہی میں جو مسودہ منظور کیا گیا ہے، گورنر نے اس بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسمبلی کو واپس کر دیا ہے۔ اس لئے یہ بل نہایت خاموشی سے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اسے خفیہ طریقے سے منظور کیا گیا ہے۔
اسمبلی پنجاب کے عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور پنجاب کے عوام، انتظامیہ کے ارکان اور ابلاغ عامہ کے نمائندوں کو کسی بھی قانونی مسودے یا اس کی منظوری پر اعتراض کرنے کا حق موجود ہے۔ ارکان اسمبلی کے استحقاق کا جو بل منظور کیا گیا ہے اس کے بارے میں محکمہ قانون کو بھی کانوں کان خبر نہ مل سکی۔چہ جائیکہ پنجاب کے بارہ کروڑ عوام کو کھل کر اس پر اظہار رائے کر سکیں۔
دنیا میں کسی بھی جمہوری حکومت میں اس قسم کی قانون سازی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ باشعور لوگ اور ابلاغ عامہ سے تعلق رکھنے والے افراد اس بل کی منظوری پر نہ صرف حیران ہیں بلکہ ان کے ذہنوں میں اس بل کی تیاری اور اسے خفیہ رکھ کر منظور کرانے کے بارے میں چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں اور اس بارے میں بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں۔ عوام کو اپنے نمائندوں کی جانب سے رائے دینے، تنقید کرنے اور سوال اٹھانے کا حق موجود ہے جس کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے۔ ہمارے آئین میں یہ بھی آرٹیکل موجود ہے کہ اسمبلی میں قرآن و سنت کے اصولوں سے متصادم قانون سازی نہیں ہو سکتی بلکہ آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام سے متصادم قانون سازی سے قبل مسودہ قانون پر اسلامی شرعی کونسل سے رائے لی جائے۔
راقم الحروف تحریک پاکستان کے کارکن کی حیثیت سے محترم ارکان اسمبلی سے یہ گذارش کرناجائز سمجھتا ہے کہ کسی بحث کے بغیر خفیہ طریقے سے یہ بل انہوں نے متفقہ طورپر کیسے منظور کر لیا؟۔ اس مسودہ قانون کی پارلیمانی روایات میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ نہ ہی محکمہ قانون سے اس بارے میں کوئی رائے لی گئی۔ 23 جون کو ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا لیکن یہ بل زیر بحث نہیں لایا گیا اور محکمہ قانون کو بھی اس کمیٹی کے اجلاس سے لا علم رکھا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی مخدوم عثمان محمود صاحب نے نہ صرف بل کو آئینی اور وقت کی ضرورت قرار دیا بلکہ اس کا بھرپور دفاع بھی کیا۔
اس بل کے مطابق ارکان اسمبلی کے پہلے سے موجودتحفظ استحقاق قانون میں مزید ترمیم کی منظوری دی گئی ہے۔ جس کے مطابق اب کوئی سرکاری افسر، بیوروکریٹ یا صحافی اسمبلی میں تلخ کلامی کرے گا تو اسے تین ماہ تک سزا اور 10 ہزار روپیہ جرمانہ ہوگا۔ اسی طرح اس اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کو مجسٹریٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوگئے ہیں ا ور اس کے آرٹیکل 11-A کے تحت ارکان کے استحقاق کی خلاف ورزی قابل سزا ہوگی۔ بل کے تحت جوڈیشل کمیٹی بنائی جائے گی جس کے پاس 6 ماہ قید کی سزا اور دس ہزار روپے جرمانہ کرنے تک کے اختیارات ہوں گے۔ جوڈیشل کمیٹی کے پاس فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات بھی ہوں گے اور وہ خود ہی سزا و جزا کا فیصلہ کرے گی۔ اس بل کے تحت اگر کسی رکن اسمبلی کے استحقاق کو مجروح کیا گیا تو سپیکر اسمبلی گرفتاری کا حکم دے سکتے ہیں۔ اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایوان میں ایم پی اے کی کسی تقریر میں ردوبدل کیا گیا تو وہ رکن سپیکر سے صحافی کی شکایت کرے گا تو وہ بھی قابل گرفت سمجھا جائے گا۔ سرکاری محکموں کے افسران اگر اسمبلی بلانے پر نہ آئیں تو وہ بھی قابل گرفت ہوں گے۔ اگر کسی محکمے کی طرف سے غلط جواب اسمبلی بھیجا گیا تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ بل کے تحت سپیکر اور استحقاق کمیٹی کو دیئے گئے اختیارات آئین کے آرٹیکل 3-66 اور 10-A سے متصادم ہیں لہٰذا آئین کے آرٹیکل 8,10.10 اے اور آرٹیکل 25 کے تحت بل کا از سر نو جائزہ لینا ضروری ہے۔
گویا اس قانونی مسودہ کو پڑھنے سے باآسانی معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معزز ارکان اور محترم سپیکر نے انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات بھی حاصل کر لئے ہیں۔ ہمارے آئین میں انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں، یہ مسودہ قانون اس سے متصادم ہے۔
پنجاب اسمبلی کا حال ہی میں جواجلاس ہوا اس میں سپیکر محترم چودھری پرویز الٰہی صاحب بہت غصے میں تھے۔ حالانکہ پنجاب کے تمام پڑھے لکھے اور باشعور لوگ چودھری پرویز الٰہی کے خاندان، چودھری ظہور الٰہی مرحوم کے طرز عمل کے ہمیشہ نہایت معترف رہے ہیں۔ تحریک پاکستان میں چودھری ظہور الٰہی مرحوم اور ان کے بڑے بھائی چودھری منظور الٰہی مرحوم نے سرگرمی سے حصہ لیا۔ وطن عزیز میں جمہوریت کی بحالی کیلئے چودھری برادران اور ان کے خاندان نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور لوگ برملا کہتے ہیں کہ چودھری برادران کی سیاست سے استفادہ اور سبق سیکھا جائے۔ وہ نہایت معتدل مزاج رکھتے ہیں اور عوام سے ہمیشہ بڑے اخلاق سے پیش آتے ہیں۔ راقم کو خود چودھری برادران اور ان کے بزرگوں چودھری منظور الٰہی مرحوم اور چودھری ظہور الٰہی مرحوم سے بار ہا ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور راقم نے انہیں ہمیشہ دوسروں کے نقطہ نظر کو اہمیت دیتے اور ان کی بات احترام کے ساتھ سنتے پایا۔ پنجاب میں چودھری شجاعت حسین صاحب اور چودھری پرویز الٰہی صاحب اور ان کے آباو اجداد کی روایات بلا شبہ باعث تقلید رہی ہیں۔
مجھے حیرانگی اور تعجب ہے کہ چودھری پرویز الٰہی صاحب نے اسمبلی کے اجلاس میں زندگی میں پہلی بار سخت طرز عمل اپنایا۔ میں چودھری پرویز الٰہی صاحب اور ارکان اسمبلی سے مؤدبانہ درخواست کروں گا کہ وہ اپنی خاندانی اور جمہوری روایات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس ترمیمی بل کو قانونی شکل دینے سے اجتناب کریں۔ اس طرح پنجاب کے عوام کی نظر میں ان کے وقار اور عزت میں مزید اضافہ ہو گا۔ چودھری پرویز الٰہی نائب وزیر اعظم بھی رہے ہیں اورسب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ بھی رہے ہیں۔ راقم الحروف نے ہمیشہ انہیں جمہوری روایات، عزت و احترام اور رواداری کا علمبردار ہی پایا ہے۔
میں صوبے کے جمہوریت پسند لوگوں سے بھی گذارش کروں گا کہ وہ اس بل کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کریں تاکہ عدلیہ اس بارے میں جائزہ لے کر قانونی اور آئینی حکم صادر کرے۔ عدلیہ سے رجوع کرنا اس متنازع قانون کیلئے موزوں اور مناسب اقدام ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.