اُستاد تُہاڈا’کاما‘ اے؟

513

خدا خدا کر کے سکول کھلے ہیں مگر خدا لگتی تو یہ ہے کہ سکول کھلنے کے باوجود سرکاری سکولوں میں استاد ہی نہیں کہ ان کی اکثریت پولیو کے قطرے پلانے کی ڈیوٹی پر ہے۔ خداجانے یہ دو ہزار آٹھ سو ستاسویں پولیو مہم کے بعد آگے مزید کتنی مہمات ہوں گی تو ملک سے پولیو ختم ہو گا، کہتے ہیں کہ یہ تب ختم ہوگا جب اس کے لئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن فنڈ ز دینا بند کرے گی، اس مہم کے نام پر بڑے بڑے ٹائروں والی اونچی اونچی گاڑیوں، ٹھنڈے ٹھار دفتر وں اور کمیشنوں کے دھندے ختم ہوں گے، جب تک اس سے’انھے وا‘ ملنے والا مال ختم نہیں ہوگا کرپٹ بیوروکریسی یہاں پولیو ختم نہیں ہونے دے گی۔ ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر کا حکم ہے لہٰذا یہ استادوں کی کیا جرأت کہ وہ پولیو کی مہم میں نہ جائیں اور بچوں کو پڑھانے میں وقت ’ضائع‘کریں۔
بات پولیو کے قطروں کی طرف چلی گئی حالانکہ اس کام پر لگے استاد چار، چھ روز میں فارغ ہو ہی جاتے ہیں مگر دوسری طرف یہی استاد خوشحالی سروے پر بھی لگے ہوئے ہیں۔ یہ بھی ریاست کی عجیب وغریب خدمت ہے جس کے تحت پاکستان کے شہریوں کا ایک مختلف قسم کا ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں ڈیٹا کلیکشن کے لئے پروفیشنل ادارے اور ٹیمیں ہوتی ہیں مگر یہاں یہ کام بھی اساتذہ سے ہی لیا جا رہا ہے۔دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب کسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد استاد کے ساتھ فقیر والا سلوک ہوجاتا ہے، جا چاچا معاف کر، کی دماغ کھان آ گیا ایں اور کئی تو سیدھے ہوجاتے ہیں کہ تمہیں اپنی پرسنل باتیں کیوں بتائیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ خوشحالی سروے کے لئے حکومت نے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر کسی قسم کی اشتہاری اور آگاہی مہم نہیں چلائی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب ایک  بیچارہ استاد کسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور بتاتاہے کہ وہ خوشحالی سروے کے لئے آیا ہے تو (الفاظ کے لئے معذرت کے ساتھ) گھر والے سمجھتے ہیں کہ کوئی فراڈیا یا نوسر باز آ گیا ہے۔ محکمے والوں سے کہا جائے کہ اساتذہ کرام کو معاف کر دیں، انہیں سکولوں میں پڑھانے دیں اور یہ کام کسی پرائیویٹ فرم یا دیہاڑی پر لوگوں سے کروا لیں تو بڑے بڑے دفتروں میں بیٹھے ہوئے کھڑوس کہتے ہیں کہ ہمیں اُن پر اعتماد نہیں کہ صحیح ڈیٹا جمع کر کے دیں گے، ہمیں تو استادو ں سے ہی کام لینا ہے جو ہمارے نوکر ہیں۔
بات پولیو کے قطروں اور خوشحالی سروے تک بھی محدود نہیں ہے کہ اگر سرکار نے مردم شماری کروانی ہے یا خانہ شماری کروانی ہے تو تب بھی استاد ہی ہتھے چڑھتے ہیں۔رمضان یا سستے بازار ہوں، گندم کی خریداری کا معاملہ ہو تو وہ بوریاں جمع، تقسیم کرنے لگ جاتے ہیں۔ ڈینگی کے خلاف مہم میں اوپر سب اچھا کی رپورٹ دینی ہوتی ہے تو بڑے بڑے پرفارمے دے کر انہیں گلی محلوں میں نکال دیاجاتا ہے کہ گھر گھرجا کر دیکھو کہ گملوں اور روم کولروں میں پانی تو نہیں کھڑا۔ اب استادوں سے سکولوں میں کارکردگی ایپ پرایک اور دلچسپ ڈیوٹی لی جا رہی ہے کہ ہر سکول میں ایک استاد ڈینگی کی روک تھام اور صٖفائی کو یقینی بنانے کے لئے موبائل فون کے کیمرے سے ٹوائلٹس کی تصویریں بناتا ہے اور ایک واٹس ایپ گروپ میں بھیجتا ہے مگر ٹھہرئیے، صرف صاف ٹوائلٹ کی تصویر نہیں بنانی بلکہ پہلے اس کے گندا ہونے کی بھی بنانی ہے سو پہلے استاد کی ذمے داری ہے کہ وہ تمام ٹوائلٹس کو گندا کرے، پھر انہیں صاف کرے اور پھر فوٹوئیں بنا کے بھیجے۔ ڈینگی ایپ پرایکٹیویٹی کے نام پر پرائمری سکولوں کے اساتذہ پہلے اور بعد کی پانچ پانچ یعنی ٹوٹل دس، مڈل کے بیس اور ہائی سکولوں کے اساتذہ چالیس تصویریں بھیجنے کے پابند ہیں۔کمپیوٹر ٹیچر تو عملی طور پر سکول کا کلرک بن چکا ہے جو روزانہ کی ڈاک، داخلوں، تمام ایپس سمیت کلرکوں والے تمام کام کرتا ہے۔ سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پر ڈیٹا اپ لوڈ کرنا، ایڈٹ اور اپڈیٹ رکھنا ہی نہیں ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم پر تمام اساتذہ کا سروس رکارڈ اپڈیٹ رکھنا بھی اساتذہ کی ہی ذمے داری ہے۔سچ پوچھیے تو اس قسم کے کام تو پنڈ کے چوہدری بھی اب اپنے کاموں اور میراثیوں سے نہیں لیتے جیسے ڈی سی آفس میں کسی کامے کی ضرورت ہو یا سی ای او کے، سکول سے استاد طلب کر لیا جاتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ اساتذہ کرام کی پروفیشنل صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے پالیسیاں بنیں مگر وزیر صاحب چونکہ خود ٹوئیٹر اور واٹس ایپ کے ماہر ہیں سو پالیسیاں بھی اسی معیار کی آ رہی ہیں۔ کہتے ہیں کہ وزیر صاحب نے ایک سافٹ وئیر بنا دیا ہے جس کے تحت عام اساتذہ ٹرانسفر کروا کر سکتے ہیں۔ میں نے اس کی تعریف کی تو اساتذہ پھٹ پڑے، بولے، جس کی ٹرانسفر ایک مرتبہ ہوجائے سافٹ وئیر کے پر لگے لاک کے مطابق دوبارہ ایک برس تک نہیں دوبارہ نہیں کروا سکتا مگرہارڈ شپ کیسز کے نام پرجب چاہے ٹرانسفر کروا لیں اگر آپ کے پاس پی ٹی آئی کے کسی تگڑے بندے کی سفارش ہے یا آپ کے پاس نذرانہ دینے کے لئے رقم موجود ہے تو پھر سافٹ وئیر اور پابندی جائے بھاڑ میں، ایک صاحب نے ایک ہفتے میں دویا تین مرتبہ ٹرانسفر کروائی۔ 
یہ پنجاب کا سکول ایجوکیشن کامحکمہ ہی ہے جس کی تنظیموں کے مطابق وزیر صاحب کی ویژنری قیادت میں ایک لاکھ خالی پوسٹوں کا ریکارڈ قائم ہونے جا رہا ہے یعنی اساتذہ کم بھی ہیں اور ان سے غیر نصابی کام بھی ٹکا کے لینے ہیں مگر اس کے ساتھ پنجاب کے ٹیچرز اپنی تنخواہوں میں دوسرے صوبوں باالخصوص سندھ کے ٹیچرز کے مقابلے میں بھی اپنی تنخواہوں اور پروموشنز میں شودر سمجھے جا سکتے ہیں۔ پنجاب میں اساتذہ کی تنخواہیں، اسی گریڈ کے سندھ کے اساتذہ کے مقابلے میں، کم و بیش چالیس فیصد تک کم ہیں کیونکہ پیپلزپارٹی کی ”کرپٹ‘‘ حکومت نے ہمیشہ ان کی تنخواہیں پنجاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھائی ہیں۔ پنجاب کے ٹیچرز سے اس ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤ نس میں بھی ہاتھ ہو گیا ہے جسے وفاق اور سندھ وغیرہ میں رننگ بیسک پر پچیس فیصد دیا گیا ہے مگر پنجاب میں اسے چار برس پہلے کی ابتدائی بنیادی تنخواہ پر سپیشل الاؤنس کے نام پر دیا گیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پچیس فیصد کم ہو کر نو سے بارہ فیصد تک رہ گیا ہے۔
روزی روٹی اور نوکریوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ باعزت روزگار کمانا چاہتے ہیں تو کبھی استاد نہ بنیں اور کم از کم پنجاب میں سرکاری سکول کا استاد تو ہرگز نہ بنیں۔ اس سے بہتر ہے کہ قریب کسی بڑی سڑک پر نان چھولے کی ریڑھی لگالیں اور افسروں کے پیر دبانے سے بہتر ہے کہ صبح ساتھ پائے بھی رکھ لیا کریں۔ عزت سے زندگی گزر جائے گی کہ استاد اس وقت پورے شہر کا کاما ہے اوریہ نوکری صرف درجہ چہارم کی نوکری سے کچھ کچھ بہتر قرار دی جا سکتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.