ضمنی الیکشن کا غیر متوقع نتیجہ

176

پی پی 38سیالکوٹ کی نشست پی ٹی آئی کے امیدوار احسن سلیم بریار نے سات ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت لی ہے عام انتخابات2018میں مسلم لیگ ن کے خوش اختر سبحانی اسی حلقے سے موجودہ حکمران جماعت کے امیدوار سعیدبھلی سے سترہ ہزار زائد ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے لیکن تین برس کے دوران کیسے برتری ختم ہو ئی اور پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ہارتی پی ٹی آئی کی پہلی فتح کیونکرممکن ہوئی؟ واقفانِ رازہنوز سوچ وبچار میں ہیں ضمنی انتخاب میں فتح حاصل کر نے والے امیدوار کے والد سلیم بریار مسلم لیگ ق پنجاب کے سینئر نائب صدر ہیں اُن کا شمار سیالکوٹ کے امیر ترین صنعتکاروں میں ہوتا ہے وہ کچھ عرصے سے ٹیلن نیوز کے نام سے اپنازاتی ٹی وی نیوز چینل شروع کررکھا ہے جیتنے والے امیدوار احسن سلیم بریار کا ایک اور تعارف وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کا داماد ہونا ہے ہمہ پہلو وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ قارئین کو تحریرپڑھتے ہوئے کسی حوالے سے تشنگی کا احساس نہ ہو۔
یہ حلقہ بریار خاندان کا نہیں بلکہ دوسرے حلقے سے آکر احسن سلیم بریار نے اِس اجنبی حلقے سے کامیابی حاصل کی ہے جو خاصی انہونی بات ہے یہاں جاٹ اور گجر ووٹروں کی اکثریت ہے دیگر برادریاں بھی ہیں لیکن نتائج میں اثر انداز ہونے کے لیے ناکافی ہیں مگرامیدوار کا حلقے کا رہائشی نہ ہوکر فتح حاصل کر نے پر کسی کو یقین نہیں آرہا بلکہ پولنگ کے قریب سروے رپورٹس کی بناپر اکثرمبصرین متفق تھے کہ سترہ ہزار کی لیڈ تو شاید کم ہو جائے لیکن طارق سبحانی بہرحال جیت ضرور جائیں گے لیکن تمام اندازے و قیافے دھرے کے دھرے رہ گئے ویسے بھی جب امیدوار کے سُسر وزیراعلیٰ کے پر نسپل سیکرٹری ہوں پٹواری،ایس ایچ او، ڈی پی او اور ڈی سی دست بستہ حاضر ہوں تو جیت زیادہ حیران کُن نہیں رہتی مگر اب یہ سمجھ لینا کہ یہ نشست آئندہ ہمیشہ کے لیے پی ٹی آئی کی ہو گئی ہے درست نہ ہو گا چودھری اختر وریوکی وفات سے اِس خاندان کے عوامی روابط کم اور سیاسی معاملات پر گرفت کمزورضرور ہوئی ہے لیکن حالیہ شکست میں دیگر اسباب کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔
حکمران جماعت کا موقف ہے مودی کے معاون بیانیے کو شکست ہوئی ہے جبکہ مسلم لیگ ن ہار کا جوازآزادکشمیر والی دھاندلی کی روایت قرار دیتی ہے اِس میں شائبہ نہیں کہ ضمنی الیکشن کی انتخابی مُہم کے دوران سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کیا گیا مودی کی لاہور آمد اور شریف خاندان کی طرف سے پذیرائی پر مشتمل کلپ بھجوائے جاتے رہے آزادکشمیر کے حلقہ ایل اے 35 جموں 2سے امیدوار چودھری اسماعیل گجر کی طرف سے انتظامیہ نے بات نہ سنی تو بھارت سے مدد مانگنے کی ویڈیو منظم انداز میں پھیلائی گئی اسی طرح ن لیگ کے امیدوار طارق سبحانی کے کزن ایم این اے ارمغان سبحانی کی طرف سے ایک ٹی وی پروگرام 
میں عمران خان کے بجائے مودی کی تصویر دیکھنے کے غیر ذمہ دارانہ بیان پر مشتمل ویڈیو کی بھی خوب تشہیر کی گئی اور انتخابی مُہم کے دوران وریوخاندان وضاحتیں ہی کرتا رہا کیونکہ سیالکوٹ ویسے ہی ایک سرحدی ضلع ہے جہاں بھارت کے خلاف نفرت عروج پر ہے مذکورہ طرزِ عمل اپنانا شکست کو دعوت دینے کے مترادف ہے اِن عوامل کا نتائج پر اثرانداز ہونا ایک حقیقت ہے جسے تسلیم نہ کرنا دراصل حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے لیکن یہ کہنا کہ شکست کاباعث صرف یہی عوامل ہیں مکمل طور پر درست نہیں۔
حکومتی امیدوار کو کمزور سمجھنا بھی ایک فاش غلطی تھی لیکن وریو خاندان سے یہ غلطی ہوئی انہیں کامل یقین تھا کہ حریف امیدوار جس کی رہائش بھی پی پی 38میں نہیں اُسے لوگ کیونکر امیدوار کووٹ دے سکتے ہیں لیکن یہ خیال کرتے ہوئے بھول گئے کہ اب کی بار مقابلے پر صوبائی وزیراعلیٰ کے پر نسل سیکرٹری بھی ہیں جنہوں نے جیت کی یقین دہانی کراتے ہوئے اپنے داماد کو ٹکٹ دلایا ہے اِتنے بڑے بیوروکریٹ نے اعتماد سے جیت کا دعویٰ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگاجب ساری صوبائی مشینری کا تعاون حاصل ہو وہ کیسے شکست کی پاتا ل میں گر سکتا ہے؟بلکہ اب توشنید ہے کہ داماد کے لیے وزارت کا بھی تقاضا کیا جارہا ہے جس کے بظاہر آثار نہیں کیونکہ عثمان ڈار مرکزمیں معاونِ خصوصی ہیں فردوس عاشق اعوان پنجاب میں معاونِ خصوصی کے منصب پر فائز ہیں چودھری اخلاق اور باؤ رضوان دونوں پنجاب کابینہ کا حصہ ہیں اِس وجہ سے کابینہ کا حصہ بننا تومشکل ہے مگریہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پی ٹی آئی سے کچھ بھی نا ممکن نہیں کیونکہ کارکردگی سے زیادہ یہاں دوستیاں و تعلق ہی اہم ہیں۔
بریار خاندان سیالکوٹ کا ایک امیر کبیر خاندان ہے جس نے الیکشن جیتنے کے لیے دولت کا بے دریغ استعمال کیا ہے سُسر کے عہدے کا اثرورسوخ،دولت کی چمک، روزگار دلانے اور ترقیاتی کاموں کے وعدوں کا بھی نتائج کا رُخ بدلنے میں کردار ہے اِس حلقے میں ووٹوں کی خریدوفروخت منہ مانگے داموں ہوئی  محتاط اندازے کے مطابق یہ انتخابی معرکہ لاگت کے اعتبار سے پورے ملک سے زیادہ مہنگا ثابت ہوا ہے ایک ارب سے زائد کے اخراجات کا اندازہ ہے جب پیسہ پانی کی طرح بہایا جائے اور مدِ مقابل بھی پُراعتمادی کا شکار ہوتو حالات بدلنا ناممکن نہیں رہتا غداری کے الزامات اور غیر ذمہ دارانہ بیان بازی نے الگ شکوک و شبہات میں اضافہ کیا یوں مسلم لیگ ن نے جیتی ہوئی نشست حریف کی جھولی میں ڈال دی۔
چودھری برادران اور بریار خاندان میں اچھے خاصے مراسم ہیں دونوں طرف ایک دوسرے کے لیے عزت و احترام ہے لیکن اب احسن سلیم بریارکی کامیابی سے حاات بدل چکے ہیں اِس لیے ممکن ہے عزت واحترام توشاید موجود رہے لیکن سیاسی راہیں جُدا ہو جائیں گی جس کا آغاز بھی ہو گیا ہے اور مسلم لیگ پنجاب کے سینئر نائب صدر سلیم بریار نے ق لیگ کی حمایت کرنے کے دعوے کو جھٹلاتے ہوئے باؤ رضوان کی طرف سے مخالفت اور یہ کہنا کہ نشست ہم نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتی ہے انہوں نے طارق بشیر چیمہ کی طرف سے فارمولے کے ذکر کی بھی نفی کرتے ہوئے وفاقی وزیر کو آئندہ ایسا کہنے اور بہاولپور کی سیاست پر دھیان دینے کامشورہ دیا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ٹکٹ دلوانے سے لیکر کامیابی سے ہمکنارکرنے تک ق لیگ کااہم کردار ہے ممکن ہے سلیم بریاریہ سب کچھ بیٹے کی وزارت کے لیے کر رہے ہوں کیونکہ ق لیگ نے معاہدے کے مطابق پنجاب سے دونوں وزارتیں حاصل کر لی ہیں اِس بنا پرتیسری وزارت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے قبل ازیں ساجد بھٹی ایم پی اے نے پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمینی حاصل کرنے کے لیے استعفیٰ دے دیاتھا مگر باوجود کوشش کے دل کی مراد پوری نہیں ہوئی مطلب یہ کہ حکمران جماعت اب کوئی مزید اہم عہدہ اپنی اتحادی جماعت کودینے پر آمادہ نہیں مگر یہ بھی پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ احسن سلیم بریار وزارت تو نہیں البتہ سُسر کی بنا پر کوئی غیر اہم عہدہ حاصل کرسکتے ہیں مگرپوچھنا یہ ہے کہ غیر اہم عہدے کی خاطر برسوں کے روابط قربان کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟۔

تبصرے بند ہیں.