پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 67 اموات رپورٹ، 3 ہزار 582 افراد کا ٹیسٹ پازیٹو

137

لاہور: پاکستان میں کورونا سے اموات میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے۔ اس موذی مرض میں مبتلا ہو کر مزید 67 افراد انتقال کر گئے ہیں۔ اموات میں حالیہ اضافے سے ملک بھر میں جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہزار 529 تک پہنچ چکی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 49 ہزار 798 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 3 ہزار 582 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 7.19 فیصد رہی۔ ملک بھر میں مہلک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 10 لاکھ 43 ہزار 177 ہو گئی ہے۔

گزشتہ روز ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا تھا کہ ملک میں کورونا وبا کا تیزی سے پھیلاؤ ہو رہا ہے، ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کچھ فیصلے کئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹس کے اوقات رات 10 سے کم کرکے 8 بجے تک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تمام مارکیٹیں ہفتے میں 2 روز بند رہیں گی، دفاتر میں ملازمین کی 50 فیصد حاضری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راولپنڈی، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد اور ملتان میں بندشوں کا اطلاق 3 اگست سے 31 اگست تک ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے روزگار کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان بندشوں کے ہمارے کمزور اور غریب طبقے پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے کوئی لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے تین مرحلوں میں لاک ڈاؤن کیوں کرتے ہیں اور پہلی دفعہ میں ہی مکمل لاک ڈاؤن کیوں کرتے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے ایک بہت بڑے دیہاڑی دار طبقے کے روزگار کا تحفظ بھی کرنا ہے، اس لیے ہم بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن شہروں میں پابندیوں کا اطلاق ہو گا ان میں صوبہ پنجاب میں راولپنڈی، لاہور اور فیصل آباد شامل ہیں، خیبر پختونخوا میں پشاور اور ایبٹ آباد، صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں 8 تاریخ تک پابندیوں کا اطلاق ہو گا۔ مثبت کیسز کی شرح برقرار رہتی ہے تو کراچی اور حیدر آباد میں 8 تاریخ کے بعد بھی یہ پابندیاں لاگو رہیں گی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں میرپور اور گلگت بلتستان میں گلگت اور اسکردو میں بھی ان پابندیوں کا اطلاق ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہفتے میں ایک دن کے بجائے اب دو دن چھٹی ہو گی جنہیں ‘سیف ڈیز’ کا نام دیا گیا ہے البتہ اس بات کا اختیار صوبے کو ہو گا کہ وہ کن دو دنوں میں چھٹی کریں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہم نے ویکسینیشن کرانے والے افراد کو ان ڈور ڈائننگ کی اجازت دی تھی لیکن بدقسمتی سے اس کا اطلاق بالکل بھی نہیں ہو رہا اور اس پر عملدرآمد میں کمزوریاں سامنے آئی ہیں جبکہ انتظامیہ بھی یہ کہہ رہی تھی کہ ہر ریسٹورنٹ میں جا کر دیکھنا ممکن نہیں کہ صرف ویکسینیشن والوں کو آنے دیا جا رہا ہے یا نہیں، اس لیے ان ڈور ڈائننگ کو بند کیا جا رہا ہے البتہ باہر بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی 24 گھنٹے اجازت ہے۔انہوں نے کہا کہ شادیوں پر بھی یہی قانون لاگو کیا گیا تھا کہ اگر آپ کی ویکسینیشن ہو چکی ہے تو آپ شادی میں جا سکتے ہیں لیکن اس پابندی پر بھی اطلاق نہیں کیا گیا لہٰذا 400 لوگوں سے زائد افراد کو شادی میں بلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

دفاتر پر پابندیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پہلے یہ کہا گیا کہ 50فیصد افراد کو آنے کی اجازت ہو گی اور بقیہ عملہ گھر سے کام کر لے گا، اب کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے وہی پالیسی دوبارہ سے لاگو کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ 70فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کی اجازت میں کمی کرتے ہوئے اسے 50 فیصد کیا جا رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.