جارحیت اور جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے، اشرف غنی

142

کابل: افغان صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی تباہ کن قوت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔

 

افغانستان کی قومی اسمبلی کے مشترکا سیشن سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ حالیہ صورتحال غیر ملکی افواج کے فوری انخلا کے فیصلے کے باعث ہوئی اور آج ہمارے لوگ جارحیت کی واضح حالت میں ہیں جبکہ جارحیت اور جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔

 

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ جب تک طالبان امن کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کرتے اس وقت تک صورت حال تبدیل نہیں ہو سکتی۔ سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے اور سیکیورٹی پلان کے تحت آئندہ 6 ماہ میں صورت حال قابو میں آ جائے گی اور ہمارے سیکیورٹی پلان کو امریکا کی حمایت حاصل ہے۔

 

افغان صدر کا کہنا تھا ہم نے اپنی ترجیحات طے کر لی ہیں جبکہ طالبان اور ان کے حامی اپنی ترجیحات طےکر لیں اور ہم یا تو مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے یا ان کے گھٹنے میدان جنگ میں توڑ دیں گے۔

 

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ہماری جیت کے لیے واحد راستہ صرف اتحاد ہے اور افغان خواتین کو یقین دلاتا ہوں کہ قوم ان کے حقوق کا دفاع کر رہی ہے۔

 

 

تبصرے بند ہیں.