بچوں کی خوراک……

61

حلقہ احباب میں سے ایک کے فرزند ارجمند ایک موذی بیماری میں مبتلا ہیں اور وہ ایک ایسے شفاخانے میں زیر علاج ہیں جو کینسر کے حوالہ سے معروف ہے،جس میں پرائیویٹ کمرہ کا رات بھر کا کرایہ تیس ہزارروپیہ سے زائد ہے،متوسط طبقہ کے لئے اس مرض کا علاج ہی وبال جان ہوتا ہے اوپر سے بھاری بھر اخراجات جان نکال دیتے ہیں، پرائیوئٹ شفاخانہ کے اپنے قواعد و ضوابط ہیں، نجانے اس پر قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا؟لیکن اس سے بڑھ کر جس موضوع پر ارباب اختیار والدین کی توجہ مبذول کروانا ہے، وہ بیماری کے اسباب اور ناقص غذا ہے۔
عید الضحیٰ کے موقع پر اپنے دیہات میں ان سے ایک نشست ہوئی،تو وہ گویا ہوئے کہ جب بھی کوئی مریض اس ہسپتال میں جاتا ہے تو سب سے پہلے اسکی ہسٹری لی جاتی ہے، مریض کے معمولات سے لے کر اسکی خوراک رہن سہن سب کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، اس مرض میں خاندان کا کوئی مریض مبتلا رہا ہو تو اِسکی کیفیت اور موجودہ سٹیٹس بھی معلوم کیا جاتا ہے، وہ اپنے مریض کی بدولت ناگہانی آفت سے گذر رہے ہیں اس لئے انکا ہر مریض کے علاج، اسکی صحت کے بارے میں دلچسپی لینا بھی فطری امر ہے۔
مریض کی ہسٹری بتاتی ہے کہ موذی بیماری کے اسباب کا تعلق خوراک سے بھی ہے، اس ضمن میں نہ تو والدین ہی آگاہی رکھتے ہیں نہ ہی ریاست، تعلیمی اداروں کو اس میں دلچسپی ہوتی ہے،محض کوئی چیز کھا لینا اِتنا اہم نہیں ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ وہ چیز کیا صحت کے اعتبار سے کھانے کے قابل بھی ہے کہ نہیں، اسکے اجزاء کا پاکیزہ، صاف، معیاری صحت مند ہونا بھی ناگزیر ہے،وہ بچے جو دن بھر تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں،اور اپنی پاکٹ منی سے خوانچہ فروشوں سے کھانے کی اشیاء خرید کر کھاتے ہیں، کسی سربراہ ادارہ نے ان کا جائزہ لینے کی کبھی کاوش کی ہے، کیا کسی اتھارٹی نے انکو بھی چیک کرکے سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے؟ ان اشیاء کی تیاری میں راہنماء اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے یا نہیں کسی کو کوئی خبر نہیں ہے۔
قابل توجہ یہ ہے چھوٹی عمر میں بچوں کا کسی موذی مرض میں ناقص خوراک کی بدولت مبتلا ہو جانا کسی مجرمانہ غفلت سے کم نہیں خواہ اِسکے ذمہ دار ریاستی ادارے ہوں یا والدین۔ جب یہ موضوع زیر بحث تھا تو وہ گویا ہوئے کہ ہسپتال میں بچوں کی اس مرض کے ساتھ آمد سے یوں محسوس ہوا کہ ہم خود بچوں کو اپنے ہاتھوں سے زہر کھلا رہے ہیں، بلڈ کینسر میں جو بچے بھی مبتلا تھے انکی ہسٹری بتاتی ہے کہ وہ پاپڑ اور ناقص غذا کھاتے رہے ہیں،ان میں سے کچھ فاسٹ فوڈ کے رسیا نکلے، جس میں پیزا، شوارماء،برگر،گولی ٹافی اور بیکری آئٹم، قفلی، برف کے گولے بھی شامل تھے، اس طرح ناقص پینے کا پانی، آلودہ خوراک بھی اسکی وجوہات تھیں۔
ہماری کثیر آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے، وہاں پر مذکورہ اشیاء کریانہ سٹورو ں پر فراہم کی جاتی ہیں، کیمیکل ملی یہ اشیاء انتہائی ناقص میٹریل سے بنائی جاتی ہیں، اس لئے کم نرخوں پر فروخت کی جاتی ہیں، سکول کے بچے دوچار روپے میں گولی ٹافی، پاپڑ، قفلی،برف کے گولے،چٹ پٹی چیزیں خرید کر خوش ہو جاتے ہیں کہ انھوں نے کم پیسوں میں بڑی شاپنگ کرلی ہے، والدین بھی بچے کو خوش دیکھ کر شادہو جاتے ہیں۔
یہی صورت حال شہروں میں ہے کہ نسل نو میں سے نو عمر دوستوں کے ساتھ پیزا،شوارماء برگرز کی پارٹیاں کرتے ہیں، مقام حیرت ہے کہ مرغی کا ریٹ کم یا زیادہ ہو خوانچہ فروشوں کے پاس پیزا یا شووراماء،برگر اِسی قیمت پر فروخت ہوتا رہتا ہے مڈل کلاس طبقہ کے بچوں کیلئے یہ قیمت افورڈ ایبل ہوتی ہے،نسل نو کی فاسٹ فوڈ میں دلچسپی دیکھ کر نئے نئے برانڈ متعارف کرائے جارہے ہیں، آن لائن آڈر کی سہولت بھی موجود ہے وہ کس قسم کا کھانا فراہم کرتے ہیں، ہمارے بچے ناقص غذا کیوں کھا رہے ہیں، میڈیا کی دلچسپی اس میں کم دکھائی دیتی ہے،ا گرچہ فوڈ اتھارٹیز کا قیام بھی عمل میں لایا جاچکا ہے، مگر اَرزاں قسم کے فوڈ ز کی فروخت پر کوئی قدغن نہیں ہے، یہ فوڈزہر شہر، قصبہ، دیہہ میں دھڑلے سے فروخت ہو رہے ہیں یہی غیر معیاری خوراک بیماریاں پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں کی مکمل خوراک دودھ ہی ہے جو کسی جسم کو توانا بناتی ہے، ہمارا المیہ یہ بھی کہ وہی بچوں کو خالص دستیاب نہیں ہے، ملاوٹ کرنے والا طاقت ور مافیا ہر جگہ موجود ہے جو خود کو قانون سے طاقتور سمجھتا ہے،اس کی منفی سرگرمیوں کی بدولت شائد کوئی خوش قسمت شہری ہو گا جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اسے خالص غذا میسر ہے، اسی کا فیض ہے کہ ہمارے ہاں دن بدن نئی نئی موذی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، بچوں میں ان بیماریوں کا عود آنا لمحہ فکریہ ہے۔
اگرچہ شعبہ طب سے متعلق افراد والدین کو آگاہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ بچوں کو فاسٹ فوڈ سے دور رکھیں، بازاری چیز نہ دیں لیکن یہ موقع تب آتا ہے جب والدین بیماربچے کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتے ہیں۔ ماضی میں پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں میں خوراک کی آگاہی کے لئے غذائی ماہر تعینات کئے تھے کہ وہ بچوں اور انکے والدین کو اس بابت آگاہی دیں، لیکن پھر یہ سلسلہ بند کردیا گیا،معیاری اور ضرورت کی غذا کے متعلق آگاہی دے کر بچوں کو ہسپتال جانے سے روکا جا سکتا ہے۔
غذائی ماہرین کی وساطت سے دیہاتوں میں کھانے کی ان اشیاء کا جائزہ لینا لازم ہے جو شہروں سے مگر ناقص فراہم کی جاتی ہیں،جس طرح ریلوے اسٹیشن پر وینڈرز کے لئے لائسنس ضروری ہے اسی طرح تعلیمی اداروں کے باہر صرف ان خوانچہ فروشوں کو اشیاء بیچنے کی اجازت ہونی چاہئے جن کو فوڈ اتھارٹی پرمٹ جاری کرے۔
صاف پانی سے بھی بہت سی بیماریوں کی روک تھام کی جاسکتی ہے، اسکی فراہمی کو یقینی بنانا تو سرکار کے ذمہ ہے البتہ ہر گھر تک صاف پانی پہنچانے کے لئے فلٹر میں استعمال ہونے والی اشیا کو انتہائی سستا کیا جائے تاکہ ہر گھرانہ فلٹر نصب کروا کر شفاف پانی باآسانی پی سکے۔
متوسط طبقہ بھی اب ہوٹلنگ کا شوقین ہوتا جارہا ہے، گھر سے باہر اور برانڈ کے کھانے اب سٹیٹس سمبل بنتا جارہا ہے،اسکی دیکھا دیکھی نسل نو بھی باہر کھانے کو ترجیح دیتی ہے،کم خرچ بالا نشین کے طور پر غیر معیاری ریسٹورنٹ کے کھانے بھی بیماریوں کے پھیلاؤ کا موجب ہیں۔
والدین، نسل نو اور طلباء طالبات اس کلچر کو تبدیل کریں، فاسٹ اور جنک فوڈ سے اجتناب کریں، گھر کا بنا کھانا کھائیں، ماہرین صحت کا خیال ہے کہ پھل، نیچرل فوڈز اور گھر کے کھانے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے زمین سے طرح طرح کا اناج پید ا کیا ہے، جس کو ہر امیر غریب اپنی اپنی استعاعت کے مطابق کھا سکتا ہے، جو اچھی صحت کی ضمانت بھی ہے،فاسٹ فوڈز کے زیادہ رسیاء یہ شوق گھر میں فوڈز تیار کروا کر پورا کر سکتے ہیں، صحت آپکے اپنے اختیار میں ہے جبکہ موت اللہ کے، تاہم جانتے ہوئے بھی ناقص غذا کھا کرموذی بیماری کودعوت دینا کسی طرح بھی دانشمندی نہیں ہے۔ اس مرض میں مبتلانو عمر بچوں کو اندازہ ہی نہیں کہ اِنکے والدین کس کرب سے گزرتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.