کینیڈا کے سابق وزیر کا پاکستان سے متعلق منفی بیان، دفتر خارجہ کی شدید مذمت

194

اسلام آباد: پاکستانی دفتر خارجہ نے کینیڈا کے سابق وزیر کرس الیگزینڈر کی ہرزہ سرائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف کے اندر ناصرف سمجھ بوجھ کا فقدان ہے بلکہ انھیں افغانستان کی صورتحال کا بھی قطعی کوئی علم نہیں ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری کی جانب سے جاری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر کرس الیگزینڈر کا معاملہ کینیڈا کی حکومت کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔

اس معاملے پر دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان امن عمل کے بارے میں کینیڈا کے سابق وزیر کی جانب سے جو گمراہ کن اور بے بنیاد دعوے کئے جا رہے ہیں، اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

دفتر خارجہ کی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات افغان امن عمل کے معاملے پر اصل زمینی حقائق سے مکمل لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔

زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے اس ہرزہ سرائی کو کینیڈین حکومت کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔ ہم کینیڈین حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بدنیتی سے نمٹنے کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے افغانستان کے بارے میں جو خدشات طویل وقت سے ظاہر کئے جا رہے تھے، اب انٹرنیشنل طاقتیں ابھی اب انھیں اپنا رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان امن عمل کے اس موقع پر اس قسم کا بلا ضرورت تبصرہ قابل افسوس ہے۔ حالانکہ دنیا اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، یہ تصفیہ صرف سیاسی طور پر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ دنیا نے بالاخر وزیراعظم عمران خان کی اس بات کو تسلیم کر لیا ہے۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ کینیڈا کے سابق وزیر کرس الیگزینڈر کی جانب سے ابھی حال ہی میں ایک ٹویٹ جاری کی گئی تھی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ طالبان جنگجو پاکستانی سرحد پار کرکے افغان سرزمین میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.