منظر سے غائب نہیں ہوا اور میرے استعفے کی خبریں بھی جعلی ہیں، شہباز شریف

229

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنے استعفے کی خبروں کو جعلی اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا میں منظر سے غائب نہیں ہوا اور نواز شریف میرے قائد ہیں جبکہ ہر معاملے میں ان سے مشاورت کرتا ہوں اور مسلم لیگ (ن) ہمارا گھر ہے جسے بڑی محنت سے نواز شریف نے بنایا۔

نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سیاستدان بھی استعمال ہوئے اور ہم یہ نہیں کہہ رہے ہم فرشتے ہیں بلکہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں تاہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ ہم سیاستدان آلہ کار بنے ہیں، اس حمام میں سب ننگے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے استعفے کی خبریں جعلی ہیں، میں منظر عام سے غائب نہیں ہوا۔ میری رائے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کوئی بھی ہو ہمیں ملک کی خاطر اپنی انا کو ختم کرنا ہوگا۔ حکمت عملی بناتے تو نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم ہوتے۔
انٹرویو کے دوران شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ غلام اسحاق خان اور اس کے بعد پرویز مشرف نے بھی مجھے وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی تھی۔ جتنی سپورٹ عمران خان حکومت کو ملی اس کا 100واں حصہ بھی کسی کو نہیں ملا لیکن اتنی سپورٹ کے باوجود ملکی حالات خراب ہیں اور ہمیں ملک کیلئے ذاتی انا کو ختم کرنا ہو گا جبکہ آئیں ماضی کی تلخیوں کو دفن کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) بنی اور ٹوٹ بھی گئی، ان دنوں میں جیل میں تھا۔ اب میں بطور اپوزیشن لیڈر تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں۔ اگر اپوزیشن باہر اکھٹی نہیں ہوتی تو اسے کم از کم پارلمینٹ میں اکھٹے ہونا چاہیے۔

ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کارگل معاملے پر نواز شریف کو کہا کہ پرویز مشرف کو امریکا ساتھ لے جائیں لیکن ایک دوست نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جیلوں میں ڈالنے کا فیصلہ فرد واحد مشرف کا تھا۔

قومی احتساب بیورو کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں دو مرتبہ نیب کا مہمان بن چکا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان کا بس چلے تو وہ مجھے دوبارہ گرفتار کرا دیں۔ مجھ پر جو سختیاں کی گئیں، ان سے میری سوچ نہیں بدلی۔

تبصرے بند ہیں.