تحریک اصلاحات پاکستان

72

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم ہوئے 3سال کا عرصہ ہو گیا، قبائلی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے۔ قبائلی اضلاع کیلئے سپیشل پیکیج دینے کی منظوری دی گئی تھی۔ 10سالہ سپیشل پیکیج کے تحت ہر سال 100ارب روپے دیے جانے تھے، قبائلی اضلاع میں بے روزگار ی کے خاتمے کیلئے 25ہزار لیویز کو بھرتی کیا جانا تھا۔ تین سال میں 300ارب کا پیکیج نہیں دیا گیا، ٹیکس فری صنعتی زون قائم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا لیکن تاحال قبائلی عوام کے ساتھ ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے انضمام کے بعد قبائلی عوام میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے۔ قبائلیوں کی محرومیوں کے خاتمے اور ان کے حقوق کیلئے آواز اُٹھانے کیلئے ایک سیاسی جماعت کی ضرورت تھی، سابقہ ایم این اے الحاج شاہ جی گل آفریدی نے تحریک اصلاحات پاکستان کے نام سے سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرائی۔ 14اگست یوم پاکستان کے تاریخی موقع پر وہ اپنی سیاسی جماعت کے منشور کا اعلان کریں گے۔ قبائلی اضلاع میں پہلے بھی سیاسی جماعتوں
کو رجسٹر ڈ کرایا گیا لیکن قبائلی عوام کے بنیاد حقوق کیلئے آواز نہیں اُٹھائی گئی۔ اس وجہ سے وہ سیاسی جماعتیں مقبولیت حاصل نہیں کر سکیں۔ تحریک اصلاحات پاکستان رجسٹرڈ ہونے کے بعد قبائلی عوام میں اُمید کی کرن پیدا ہو گئی ہے۔ پہلے کی طرح آئندہ بھی شاہ جی گل آفریدی قبائلی عوام کی پسماندگی و ناخواندگی کے خاتمے کیلئے جدوجہد کریں گے اور قبائل ان کے شانہ بشانہ ہونگے۔
تحریک اصلاحات پاکستان کے چیئرمین و ممتاز قبائلی رہنما الحاج شاہ جی گل آفریدی نے انگریزوں کے نافذ کردہ کالے قانون ایف سی آر کے خاتمے اور اصلاحات کے نفاذ کیلئے مؤثر آواز اُٹھائی تھی۔ فاٹا انضمام میں شاہ گل آفریدی نے جو کردار ادا کیا تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اُنہوں نے سیاسی و انتظامی اصلاحات کیلئے تحریک چلائی تھی، قبائلی عوام کو منظم کیا تھا، خیبر سے لے کر مہمند، باجوڑ، کرم اور دیگر اضلاع کے دورے کیے تھے۔ قومی اسمبلی میں شاہ جی گل آفریدی نے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کیلئے آواز اُٹھائی تھی، کنونشن جلسے اور سیمینار بھی منعقد کیے تھے۔ قبائلی عوام میں اُنہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ فاٹا انضمام کے بعد قبائلیوں کو اُن کے حقوق دلانے کیلئے آل پارٹیز کانفرس کا انعقاد بھی کیا تھا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی تھی۔ اس اے پی سی نے قبائلی عوام کی مطالبات کی حمایت کی تھی۔ قبائلی عوام نے تحریک اصلاحات پاکستان کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ تحریک اصلاحات پاکستان قبائلی عوام کے ساتھ جو وعدے پورے نہیں کیے گئے اُن کیلئے مؤثر کردار ادا کرے گی۔ تحریک اصلاحات پاکستان کے قیام کا بنیاد مقصد ہر سال 100ارب روپے قبائلی اضلاع کو فراہم کرنا، این ایف سی ایوارڈ میں قبائلیوں کو 3فیصد حصہ دینا، 25 ہزار قبائلی جوانوں کو لیویز میں بھرتی کرنا، قبائلی طلبا کے وظائف کو دوگنا کرنا، ہر ضلع میں ٹیکس فری صنعتی زون کا قیام، قبائلی اضلاع کو آپس میں ملانے کیلئے ہائی وے کی تعمیر، کالجز و یونیورسٹیوں کا قیام، قبائلیوں کے وسائل اُن پر خرچ کرنا، قبائلی اضلاع میں معدنیات کا حق میں قبائلی عوام کو دینا اور قبائلیوں کی ترقی و خوشحالی اور ان کے احساس محرومی کا خاتمہ تحریک اصلاحات پاکستان کے منشور کے بنیاد ی نکات ہیں اور تحریک اصلاحات پاکستان غیور قبائلی عوام کو مایوس نہیں کرے گی۔

تبصرے بند ہیں.