قیامت کی نشانی، انڈونیشیا میں لاشوں کے ساتھ گھناؤنا کام

191

جکارتہ: دنیا بھر کے لوگ مرنے کے بعد اپنے پیاروں اور عزیز واقارب افراد کی عزت واحترام سے تجہیز وتدفین یا اپنے مذہب کے مطابق اہتمام کرتے ہیں لیکن انڈونیشیا میں آج بھی ایک ایسا قبیلہ موجود ہے جو مردوں کیساتھ انتہائی گھناؤنا کام کرتا ہے جس سے روح کانپ جاتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا کے دیہاتوں میں رہنے والا یہ قبیلہ اس گھناؤنی روایت کو ہر سال اگست میں مناتا ہے۔

اگست میں لاشوں کی صفائی کا ایک پروگرام منایا جاتا ہے جس میں تمام لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں کو نکال کر ان کیساتھ ملتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ اپنی عزیز واقارب کی لاشوں کو دفن ہی نہیں کرتے بلکہ ایک خاص محلول لگا کر انھیں محفوظ کر لیتے ہیں۔

یہاں لوگ موت کو تہوار کی طرح مناتے ہیں۔ ٹوٹا ہوا تابوت کی مرمت یا بدل دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے اہل خانہ کی لاشوں کو طے راستے سے پورے گاؤں میں ٹہلاتے ہیں۔ اس گاؤں کی روایت کو ‘مائی نینے کہا جاتا ہے۔

مردہ جسم کو کئی سالوں تک محفوظ رکھنے کیلئے اس پر کئی طرح کے کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بعد میں اس مردے کو کو کنبے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

اس برادری میں جب کوئی مر جاتا ہے تو اسے دفنانے کی جگہ ایک بھینس بلی قربانی کے طور پر دی جاتی ہے۔

بھینسوں کی بلی اور جشن منانے کے بعد میت کو گھر لے جایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے اناج گھر اور بعد میں قبرستان یا شمشان لے جاتے ہیں۔

انڈونیشیا کے توراجن فرقے کے لوگوں کا خیال ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہے اور جو مر گیا وہ بھی زندہ ہے۔ یہ لوگ نہ صرف مرنے والوں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں بلکہ انہیں کھانا بھی دیتے ہیں۔

یہ تہوار انڈونیشیا کے علاقے جنوبی سولاویسی کے کچھ دیہات میں منایا جاتا ہے۔ وہ ایسا اس لئے کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کنبہ کے ممبروں سے بہت زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں۔ لہذا انھیں ہمیشہ کے لئے دفنانے سے پہلے کئی سالوں تک ان کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔

جس دن لوگ مردوں کو باہر نکال کر سجاتے ہیں، اس دن وہ اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو بھی بلا لیتے ہیں۔ اس موقع پر لوگوں کے گھروں میں جشن کا ماحول رہتا ہے۔ ان دنوں یہ تہوار انڈونیشیا کے کچھ دیہات میں منایا جا رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.