پاکستان میں ہیپاٹائٹس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز

72

لاہور: پاکستان میں جگر کے عارضہ ہیپاٹائٹس سے متاثرہ افرا کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے 80 لاکھ سے زیادہ مریض ہیں۔ ان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جن کی عمریں 26 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔

خیال رہے کہ ہیپاٹائٹس کا اگر بر وقت علاج اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو اس بیماری سے موت ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں جگر کے امراض کی شرح میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی بڑی وجہ غیر معیاری طرز زندگی اور مضر صحت پانی ہے۔

ماہرین امراض معدہ اور جگر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی تمام آبادی کا ہیپاٹائٹس بی اور سی ٹیسٹ کروایا جائے۔ اگر ابھی ایکشن نہ لیا گیا تو ہیپاٹائٹس پاکستان کے لیے دوسرا پولیو ثابت ہو سکتا ہے۔

دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ملک کی سات فیصد آبادی اس موذی مرض میں مبتلا ہے۔ مریضوں میں سے چار اعشاریہ آٹھ فیصد ہیپاٹائٹس C اور دو اعشاریہ پانچ فیصد ہیپاٹائٹس B سے متاثر ہیں۔

ہیپاٹائٹس B سے متاثرہ مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد بلوچستان میں ہے۔ ہیپاٹائٹس C کے متاثرہ اضلاع میں وہاڑی 13.1 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔

ہیپاٹئٹس سے مراد جگر کی سوزش یا سوجن ہے۔ ہیپاٹائٹس کی کئی اقسام میں سے 5 بہت عام ہیں۔ ہیپاٹائٹس A اور E کا وائرس گندے پانی اور سیورج کے ناقص نظام سے ہوتا ہے۔ مون سون کے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں یہ وائرس آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس B اور C کا وائرس متاثرہ خون کی جسم میں منتقلی اور ان وائرس سے آلودہ جراحی کی آلات استعمال کے وجہ سے پھیلتا ہے۔

ہیپاٹائٹس E ان لوگوں کو ہوتا ہے جو پہلے والے وائرس میں پہلے سے مبتلا ہوتے ہیں۔ اس میں B اور C خطرناک ترین اقسام کہلاتی ہیں۔ عام طور پر یہ مرض وائرل انفیکشن سے لاحق ہوتا ہے جس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں مثلاً غیر محفوظ انتقالِ خون، متاثرہ سرنج سے انجکشن لگوانا، غیر محفوظ اوزار سے کان چھدوانا، اتائی ڈاکٹر کے گندہ سرجری کا سامان، دندان ساز کے اوزار، غیر محفوظ جنسی تعلقات وغیرہ، ہیپاٹائٹس کے متعلق آگاہی نہ ہونا شامل ہیں۔

پاکستان میں سالانہ 5 لاکھ اموات کا سرا کہیں نہ کہیں ہیپاٹائٹس سے جا ملتا ہے۔ پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ افراد ہیپاٹائٹس C اور پچاس لاکھ افراد ہیپاٹائٹس B کا شکار ہیں۔

اس مرض کے پھیلائو کی رفتار حیران کن ہے یعنی ملک بھر میں ہر سال پانچ لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اس مرض کا دوسرا بڑا شکار پاکستان ہے۔

اس مرض کی علامات میں جسمانی تھکن، متلی کی کیفیت، گہرے رنگ کا پیشاب، بھوک کا نہ لگنا،  پیٹ میں درد، وزن میں مسلسل کمی،  جلد اور آنکھوں کا پیلا پن وغیرہ شامل ہیں۔ اس مرض کی مصدقہ تشخیص جدید ٹیکنالوجی کی حامل Blood Screening  سے ہی ممکن ہے۔

ہپاٹائٹس B اور C خاموش قاتل ہیں۔ یہ بہت سست روی سے نمو پاتے ہیں اور ان کی علامات بھی زیادہ نمایاں نہیں ہوتیں۔ جب تک وائرس کا انکشاف ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

یہ وائرس زیادہ تر پسماندہ علاقوں اور اَن پڑھ لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ ان کو اس مرض کے بارے میں آگاہی نہیں ہوتی اور یہ ایک دوسرے کی استعمال شدہ اشیاء یعنی ٹوتھ برش، شیونگ ریزر وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.