کشمیر میں ہوا کیا ہے؟

148

آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج حیران کُن نہیں بلکہ بڑی حد تک توقعات کے عین مطابق ہیں البتہ مسلم لیگ ن اتنی بُری کار کردگی کا مظاہرہ کرے گی اور 25.65ووٹوں کے باوجودچھ نشستوں کے ساتھ تیسری پوزیشن پر چلی جائے گی یہ کچھ حیران کُن ضرور ہے جس کی کئی ایک وجوہات ہیں ایک بڑی وجہ تو انتخابی عمل کے آغاز پر ہی الیکٹ ایبلز کاحکمران جماعت چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونا ہے جس سے مبصرین کو متوقع نتائج کے بارے اندازہ لگانے میں آسانی ہوئی خود راقم نے بھی سترہ جولائی کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں قبل ازوقت ہی پی ٹی آئی کی جیت کو نوشتہ دیوار لکھ دیا تھا کیونکہ آزاد کشمیر کے لوگ ووٹ ڈالتے ہوئے اسلام آباد کی حکمران جماعت کے خلاف مُہر لگانے سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں جس کا امیدواروں کوبھی بخوبی ادراک ہے اسی ادراک کی بنا پر حکمران جماعت کے وزراء اور اراکینِ اسمبلی اپنی جماعت کو خیر باد کہتے ہوئے پی ٹی آئی میں چلے گئے حالیہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ 58 فیصد رہا جو گزشتہ انتخاب سے سات فیصد کم ہے گزشتہ عام انتخابات میں ٹرن آؤٹ 65 فیصد تھاانتخابی عمل پر عوامی اعتماد کیوں کم ہواہے وجوہات جان کر سیاسی جماعتوں کو تدارک کرنا چاہیے۔
رہنما عوام کے نبض شناس ہوتے ہیں لیکن آزاد کشمیر کے حالیہ انتخاب میں الیکٹ ایبلز نے توعوامی نبض شناس ہونے کا ثبوت دیا ہے لیکن پاکستانی سیاستدانوں کے طرزِ عمل سے ایسا اندازہ نہیں ہو سکا شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے کئی ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے امیدواروں کا مسلسل شکست سے دوچارہونا ہے لیکن ذہن میں رکھنے والی بات یہ ہے کہ پنجاب اور کشمیر کے عوامی مزاج میں بہت فرق ہے پنجاب میں مسلم لیگ ن کا عرصہ اقتدارتین دہائیوں پر محیط ہے اکثر ترقیاتی منصوبے اُسی کے مرہونِ منت ہیں اِس لیے یہاں اُس کی جڑیں بہت گہری ہیں جس کی وجہ سے ضمنی انتخابات میں جیت بہت حیران کُن نہیں لیکن آزادکشمیر میں اسلام آباد کے حالات کے مطابق اقتدار کے مکین بدلتے ہیں اِس کا مریم نواز ادراک نہیں کر سکیں اور جلسوں کے دوران مودی یا بھارت کی بجائے سلیکٹر اور سلیکٹڈ کو ہدفِ تنقید بنانے تک محدودرہیں جب طاقتور حلقوں کے خلاف ہونے اور جیتنے کے باوجوداقتدار سے باہر رکھنے کی سازشوں کی بات کی جائے گی تو ایسی جماعت کیونکر عوامی پسندیدگی کے  درجے پر فائز ہو سکتی ہے؟ مزاحمت اور مفاہمت کا بیک وقت بیانیہ الگ نقصان کا باعث بنا ہے عمران خان اور عسکری حلقوں پر تنقید کے باوجودبھارتی مظالم اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی اجیرن زندگی پر لب کشائی سے پرہیز کیا حالات سے لاعلمی تھی یا مقامی قیادت کی طرف سے درست بریفنگ ہی نہیں دی گئی جس کی بھی  نااہلی تھی اُس کا نقصان حکمران جماعت کوہواہے ہٹیاں بالا جلسے سے قبل اپنی لیڈر سے کئی امیدواروں نے لہجہ بدلنے اور فوج کی تعریف کرنے کی درخواست کی جس سے
انہیں عوامی مزاج کا کچھ احساس ضرور ہوا پھر فوجیوں کی ریڈیوپر تقریر سُننے کی کہانی سُنائی گئی لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی مزید ستم یہ کہ راجہ فاروق حیدر سے شام کے سر مئی رنگ کا اندھیرے کا پیراہن پہننے کے درمیان سے لیکر دن چڑھے تک عوام کیا امیدواروں سے بھی رابطہ ختم رہتا جس سے بددلی بڑھی ایسا ہی کچھ وہ بیرونِ ملک دورے کے دوران  وفد سے الگ ہوکر سپین کے سیاحتی شہر بارسلونامیں بھی کرتے رہے قصہ مختصر اگر وہ الیکشن کے ایام میں ہی شغل میلے کی محافل کچھ عرصہ ملتوی کر دیتے تو ممکن ہے ایک آدھ نشست مزید مل جاتی اور پھر انہیں کشمیریوں کی غلامانہ سوچ کہہ کر شرمندگی کا جوازنہ پیش کرناپڑتا۔
پولنگ سے ٹھیک ایک دن قبل نواز شریف کی لندن میں پاکستان کے بارے چکلہ جیسی مغلظات بکنے والے افغان قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب اور وزیرِ مملکت برائے امن سید سعادت نادری سے ملاقات کی تصاویر ایک اور بڑا تازیانہ تھا جس سے کشمیری بھونچکا رہ گئے کیونکہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور حمداللہ محب میں گاڑھی چھننا کوئی راز نہیں دونوں کا افغان و بھارت خفیہ ایجنسیوں راواین ڈی ایس کی مشترکہ کارروائیوں پر اتفاق ہے ملاقات کی تصاویر خود حمداللہ محب نے جاری کیں اِس ملاقات سے ایسا تاثر پیدا ہوا کہ مسلم لیگ ن کو کشمیریوں کی بجائے بھارت عزیز ہے اِس دھچکے سے ن لیگ سنبھل ہی نہ سکی بلکہ شکست کی کھائی میں گرنا یقینی ہوگیا ملاقات کے بارے سفارتی حلقوں میں ایسی اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ عرب دوستوں جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے کی کاوشوں سے ہوئی جسے خفیہ رکھنا طے ہوا تھا مگر پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے بے چین افغان قومی سلامتی کے مشیر نے جلد بازی دکھائی اور میزبان کے لیے شرمندگی اور شکست کا سبب بن گئے۔
پیپلز پارٹی کا دوسرے نمبر پر آنا واقفانِ حال کے لیے کافی حیران کُن ہے جس کی وجہ بلاول بھٹو کا کچھ دنوں کے لیے الیکشن مُہم چھوڑ کر امریکہ روانہ ہونا ہے اگر وہ بھی سلیکٹر اور سلیکٹڈ کا راگ سناتے رہتے تو صورتحال مختلف اور جیتی نشستوں کی تعدا د چند ایک تک محدود رہتی علاوہ ازیں ن لیگ سے بدظن ووٹر پی ٹی آئی کی بجائے پیپلز پارٹی کی طرف چلے گئے امسال پی پی قیادت نے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ کے ساتھ جماعت کی طرف سے وسائل بھی فراہم کیے اور انہیں اخراجات سے بے نیاز کر دیا جس کی بنا پر وہ اندازوں سے زائد 18.28 ووٹو ں کے ساتھ گیارہ نشستیں لیتے ہوئے دوسری پوزیشن پر آنے میں کامیاب ہوگئی۔
پی ٹی آئی نے بھی حریف جماعتوں پر الزام تراشی میں کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا لیکن عمران خان کی آمد سے مقبوضہ کشمیر کے حالات اور مودی کے یکطرفہ اقدامات پر کھل کر بات کی گئی ریفرنڈم سے رائے لینے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ دہرایا گیا مودی کو لاہور بلانے پر شریف خاندان کو بھارت نواز ثابت کرنے کی کوشش کی گئی سیاحت،زراعت کو فروغ دینے اور بغیر سود قرضوں کا اجرا اور صحت وتعلیم کی سہولتیں بہتر بنانے کا وعدہ ہوا آمدورفت کے لیے سڑکوں کو بہتر بنانے کا خواب دکھایا گیا کشمیریوں کی بڑی تعداد بیرونِ ملک ہے جنہوں نے پی ٹی آئی کے حق میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیاجس سے کشمیری راغب ہوئے اسلام آباد کی حکمرانی اور ترقیاتی رقوم کے وعدوں اور الیکٹ ایبلز کی شمولیت نے پی ٹی آئی کی جیت کو یقینی بنا دیا پھر جو نتائج سامنے آئے ہیں اُن کی روشنی میں وادی کے ووٹوں کا32.5 حاصل کرنے اور چھبیس نشستوں کے بعدکہہ سکتے ہیں کہ پی ٹی آئی نہ صرف اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے بلکہ مسلم کانفرنس کے سردار عتیق اورجموں و کشمیر پیپلز پارٹی کی غیر مشروط حمایت ملنے کا بھی قوی امکان ہے اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے یا ووٹروں کی رائے کے منافی نتائج کا اعلان کیا گیا ہے یہ کہنا درست نہیں جب وادی میں حکومت مسلم لیگ ن کی ہے انتظامیہ اُس کے ماتحت ہے الیکشن کمیشن سے عملہ اپنی مرضی کا لگوایا گیا پھربھی چکر نہیں چل سکاتوکوئی باہر سے آکر کیونکر نتائج پر اثر اندازہو سکتا ہے؟ سچ یہ ہے کہ شکست کے اسباب ن لیگ نے خود مہیا کیے اِس لیے اب دھاندلی کا شور ناقابلِ فہم ہے بلکہ کشمیر میں شکست کا اثر سیالکوٹ میں ہونے والے آج کے ضمنی الیکشن پر ہونا عین قرین قیاس ہے۔

تبصرے بند ہیں.