مستو۔۔رات

173

دوستو،ایک سروے کے مطابق 29 فیصد پاکستانی معاشرے میں عورت ہونے کو زیادہ فائدہ مند سمجھتے ہیں جب کہ 21 فیصد کا خیال ہے کہ مرد ہونا زیادہ بہتر ہے، اپسوس پاکستان کے مطابق یہ سروے ملک بھر سے شماریاتی طور پر منتخب ایک ہزار سے زائد سے مارچ 2021 میں کیا گیا۔ تازہ ترین سروے میں 29 فیصد پاکستانیوں نے عورت ہونے کو پاکستانی معاشرے میں زیادہ فائدہ مند قرار دیا ہے جب کہ 21 فیصد نے مرد ہونے کے زیادہ فائدے گنوائے،جن پاکستانیوں نے عورت ہونے کو زیادہ فائدہ مند کہا اس میں 35 فیصد خواتین تھیں۔سروے میں 49 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ مرد ہو یا عورت اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن 29 فیصد پاکستانیوں نے خیال ظاہر کیا کہ عورت ہونا پاکستانی معاشرے میں زیادہ مفید ہے جب کہ 21 فیصد نے مرد ہونے کو پاکستانی معاشرے میں زیادہ فائدے مند کہا۔سروے میں دلچسپ بات یہ دیکھی گئی کہ 35 خواتین نے پاکستانی معاشرے میں عورت ہونے کو زیادہ فائدے مند کہا جب کہ 13 فیصد نے مرد ہونے کو مفید قرار دیا۔ اس کے برعکس مردوں میں 26 فیصد نے عورت ہونے تو 26 فیصد نے ہی مرد ہونے کو پاکستانی معاشرے میں فائدے مند کہا۔صوبائی بنیادوں پر دیکھاجائے تو پنجاب میں 33 فیصد نے عورت ہونے کو پاکستانی معاشرے میں مفید کہا جب کہ 21 فیصد نے مرد ہونے کو فائدہ مند قرار دیا۔سندھ میں 25 فیصد نے عورت ہونے تو 20 فیصد نے مرد ہونے کا مفید کہا، خیبرپختونخوا میں 23 فیصد نے عورت ہونے تو 26 فیصد نے مرد ہونے کو فائدے مند کہا، جب کہ بلوچستان میں 17 فیصد نے عورت ہونے تو 23 فیصد نے مرد ہونے کو فائدے مند کہا۔شہری اور دیہی آبادی کی بنیاد پر دیکھا جائے تو شہری آبادی سے تعلق رکھنے والے 31 فیصد پاکستانیوں نے عورت ہونے کو زیادہ فائدے مند کہا جب کہ دیہی آباد ی میں یہ شرح 18 فیصد نظر آئی۔
ازدواجی رشتے میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت کہیں ماند پڑ جاتی ہے تاہم اب ماہرین نے کچھ ایسے طریقے بتا دیئے ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کر میاں بیوی اپنے رشتے میں محبت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا ازدواجی تعلق پھیکا پڑ چکا ہے تو یہ آپ کی اور آپ کے شریک حیات کی غلطی ہے۔ اگر آپ اپنے رشتے پر توجہ دیں تو اس میں خوشگواریت لانا چنداں مشکل نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ اپنے شریک حیات کو ”سرپرائز گفٹ“دیجیے۔ اسے باہر کھانے پرلے جائیے جو میاں بیوی کا باہر جا کر ایک ساتھ کھانا کھانا نہیں بلکہ ایک ’ڈیٹ‘ ہونی چاہیے۔آپ اپنے شریک حیات کو موبائل فون پر رومانوی پیغامات بھیجئے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ مل کر کچھ نیا کرنے سے بھی رشتہ میں خوشگواریت اور ایک دوسرے میں دلچسپی بڑھتی ہے اور محبت برقرار رہتی ہے۔ ایک ساتھ سیروسیاحت پر جائیے اور باہمی دلچسپی کے کام مل کر کیجیے۔ اگر آپ مل کر کوئی نئی چیز سیکھتے ہیں تو اس سے بھی آپ کے رشتے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا تھا کہ ازدواجی تعلق میں محبت کے کم یا ختم ہو جانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کم یا یکسر ترک کر دیتے ہیں۔ اپنے شریک حیات سے متعلق اپنے جذبات اور احساسات کو الفاظ دیجیے اور اپنے شریک حیات کے سامنے ان کا اظہار کیجیے۔کچھ مقاصد متعین کیجیے اور مل کر ان کے حصول کے لیے جدوجہد کیجیے۔ اس کی ایک مثال بچت کرنا اور رقم جمع کرنا بھی ہو سکتی ہے۔میاں بیوی اگر مل کر بچت کا ایک ہدف متعین کریں او رمل کر اسے پورا کرنے کی سعی کریں تو اس سے ان کے رشتے پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے علاوہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کو پرجوش طریقے سے ملنا بھی ان کے درمیان محبت کا سبب بنتا ہے۔ اگر آپ باہر سے آئے ہیں تو چند لمحوں کے لیے تھکاوٹ اور اکتاہٹ کو ایک طرف رکھ کر اپنے گھر میں موجود شریک حیات سے پرجوش ہو کر ملئے۔ اگر آپ خوشی کے ساتھ اپنے شریک حیات سے ملیں گے تو یہ خوشی آپ کو اپنے ازدواجی تعلق میں نظر آئے گی۔
لومیرج اور ارینج میرج میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ ارینج میرج میں گھروالے بندے کو کنویں میں دھکا دیتے ہیں اور لومیرج میں بندہ خود ہی کنویں میں چھلانگ لگادیتا ہے۔۔ہمارے محترم دوست ”علیل جبران“ کہتے ہیں کہ۔۔ بیوی خوبصورت ہو تو نظر نہیں ہٹتی اور بدصورت ہو تو نظر نہیں لگتی۔ از روئے مذہب ہر بیوی کا ایک شوہر اور ہر شوہر کی کئی بیویاں ہوسکتی ہیں۔ محبوبہ کو بیوی بنانا آسان ہے صرف ایک نکاح خواں، چند گواہ اور چھوہارے کی ضروت ہوتی ہے۔ مگر بیوی کو محبوبہ کو بنائے رکھنے کے لیے پوری تنخواہ، پورا دل، پوری آنکھیں، پورا بیڈ روم اور پوری صاف ستھری نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بیوی شوہر کا دل اور گھر آنگن صاف رکھتی ہے۔ وہ بیوی کم، ہدایت اور نیکی کا فرشتہ زیادہ ہوتی ہے۔۔ان کا مزید کہنا ہے کہ۔۔بیوی نئی ہو تو کہیں اور دل نہیں لگتا اور پرانی ہوجائے تو بیوی میں دل نہیں لگتا۔ بیوی شروع شروع میں آپ کے تمام کام کرتی ہے بعدازاں کام تمام کرتی ہے۔۔روایت ہے کہ ارسطو، سکندراعظم کو عورتوں کی صحبت سے بچنے کی تعلیم و نصیحت کیا کرتا تھا جس کی وجہ سے حرم کی خواتین بہت تنگ تھیں۔ انہوں نے مل کر ایک منصوبہ بنایا اور ایک خوبصورت، شریر و الہڑ کنیز کو ارسطو کی خدمت میں دے دیا۔ کنیز نے اسے اپنی عشوہ طرازی کے جال میں پھانس کر ایک دن فرمائش کر دی کہ ارسطو گھوڑا بنے اور وہ اس پر سواری کرے گی۔ جب مذکور واقعہ، وقوع پذیر ہو رہا تھا،ٹھیک اسی وقت خواتین حرم، سکندر سمیت کمرے میں داخل ہوئیں۔سکندر نے جب استاد کو ایک کنیز کے لیے "فرس فرشی” بنا دیکھا تو تعجب سے پوچھا۔۔اے استاد، یہ کیا استادی؟ ہمیں منع کرتے ہیں اور خود یہ۔۔۔۔ارسطو جو نہایت کائیاں تھا، کھڑا ہوا اور بولا۔۔۔عزیز شاگرد، اس عمل کا مقصود بھی تمہاری تربیت ہے، خود سوچو جو عورت تمہارے استاد کو گھوڑا بنا سکتی ہے، تمہیں تو وہ گدھا بنا کر رکھ دے گی۔۔
بات مستورات کی ہورہی ہے۔ایک خاتون کو گانے کا بہت شوق تھا۔ان کی خاص عادت تھی کہ وہ جب بھی گانا گاتیں۔۔۔تو اپنی آنکھیں بند کر لیتی۔ایک دن ان کے بیٹے نے اپنے ابو سے پوچھاابو! آخر امی گانا گاتے وقت آنکھیں کیوں بند کر لیتی ہیں۔ ابو نے جواب دیا۔۔وہ اس لئے بیٹا! کہ جو کچھ سننے والوں پر گزرتی ہے وہ نظر نہ آسکے۔۔مستورات تو جانوروں میں بھی ہوتی ہیں۔ ان کا حال بھی ملاحظہ کیجئے، ایک مادہ کینگرو گھر میں داخل ہوئی تو نر کینگرو نے پوچھا۔۔منا کہاں ہے؟ مادہ کینگرو نے جھک کر نیچے دیکھا اور چلا اٹھی۔۔ اوہ مائی گاڈ! کسی نے میری جیب کاٹ لی۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔تنگ دستی و تنگ نظری معاشرتی ناہمواری پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔غربت و افلاس انسان کے وقار اور اعتماد کو برباد کر دیتے ہیں۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

تبصرے بند ہیں.