چینی کمپنی عنقریب داسو پروجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کرے گی، چیئرمین واپڈا

158

اسلام آباد: چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین نے کہا ہے کہ چینی کمپنی عنقریب داسو پروجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کردے گی۔

چیئرمین واپڈا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ داسو حادثے کے بعد باہمی مشاورت سے کام چند روز کیلئے معطل کیا گیا تھا۔ پروجیکٹ پر کام کی بندش کا مقصد حفاظتی اقدامات کو ازسر نو منظم کرنا تھا۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 رکنی چینی وفد داسو بس حادثے کی تحقیقات کیلئے پاکستان میں موجود ہے۔ وفد میں چینی وزارت خارجہ، تجارت، جرائم کی تحقیقات اور تکنیکی ماہرین شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ وفد نے جمعہ کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقات کی۔ سیکرٹری داخلہ نے پاکستانی وفد اور چین کے سفیر نے چینی وفد کی قیادت کی۔ ملاقات میں بس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

زاہد حفیظ چودھری نے بتایا کہ چینی وفد کو تحقیقات میں پیشرفت اور زخمیوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات ممکنہ سبوتاژ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ وفد نے سی ایم ایچ راولپنڈی میں زخمی چینی کارکنوں کی عیادت کی۔ جبکہ ہفتے کو وفد نے داسو میں حادثے کی جگہ کا دورہ کیا جہاں پاکستانی تحقیقات کاروں نے انھیں بریفنگ دی۔

چینی وفد نے پاکستانی اہلکاروں کے ساتھ خود بھی حادثے کی جگہ کا معائنہ کیا اور پاکستان کی جانب سے کی گئی کوششوں کو سراہا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل غیر ملکی میڈیا میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ چین نے داسو ڈیم پر کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم چینی حکومت اور داسو ڈیم کی تعمیر کرنے والی کمپنی کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے پر جلد دوبارہ کام شروع کر دیا جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.