خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں بڑے پیمانے پر زیتون کی کاشت کا آغاز کردیا  

206

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں بڑے پیمانے پر زیتون کی کاشت کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت صرف ضلع دیر میں زیتون کی اچھی نسل کی 5 اقسام کاشت کی جا سکیں گی۔

قبائلی اضلاع میں جنگلی زیتون کے تین کروڑ ساٹھ لاکھ درخت جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر زیتون کے سات کروڑ درخت موجود ہیں۔ اسی طرح قبائلی اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے علاقے زیتون کی کاشت کیلئے اتنی ہی موزوں ہے جتنا کہ سپین اور اٹلی، ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا میں زیتون کی کاشت تیزی سے جاری ہے،جس سے ناصرف کاشت کار خوشحال ہوگا بلکہ اس سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔ اسلامی اعتبار سے زیتون کا پھل خاص اہمیت کا حامل ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کا کہنا ہے کہ زیتون سے سالانہ 14 ارب روپے تک آمدن ہو سکتی ہے۔ صوبے کے بارانی علاقوں میں 30 کروڑ نئے پودے اور خوردنی زیتون کے 40 لاکھ پودے پشاور کے مختلف علاقوں میں لگائے جا سکتے ہیں۔ جنگلی زیتون میں اعلیٰ کوالٹی کی قلمکاری کی جائے گی او خوردنی زیتون کے منصوبے کی دیکھ بھال محکمہ ذراعت کے ذمہ ہوگا اور زیتون کی کاشت کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومت زیتون کا پھل خریدے گی، محکمہ زراعت کے اہلکار زمین کے معائنہ کے بعد زیتون کی قسم تجویز کریں گے ، خوردنی زیتون منصوبہ کی کامیابی سے بیروزگار اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔

ایگری کلچر ایکسٹنشن ڈیپارٹمنٹ باجوڑ کے آفیسر عمران آفریدی نے کہا ہے کہ باجوڑ میں جنگلی زیتون کی پیوندکاری کااعداد وشمار 80فیصد سے لیکر 90فیصد تک ہے،ڈیپارٹمنٹ کے پاس باجوڑ میں زیتون سے تیل نکالنے کیلئے یونٹ بھی موجود ہے جہاں سے یہاں کے زمیندار فائدہ اٹھاسکتے ہیں،قبائلی اضلاع میں جنگلی زیتون کے 3کروڑ 60لاکھ درخت جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر زیتون کے 7کروڑ درخت موجود ہیں جبکہ باقاعدہ کاشت سے زیتون سے سالانہ 14ارب روپے تک آمدن ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں جنگلی زیتون زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں جبکہ محکمہ کی پہلی ترجیح بھی یہی ہے کہ ان جنگلی درختوں میں اعلی قسم کے زیتوں کی قلمیں لگائی جائیں،جب باجوڑ میں جنگلی زیتون میں پیوندکاری شروع کی گئی تو مقامی لوگ انہیں پاگل اور دیوانہ کہتے لیکن اب جب اس کی افادیت سے باخبر ہوئے ہیں تو خود یہی عرضی لیے ان کے پاس آتے ہیں۔

ان کے مطابق بارشوں کی مقدار میں کمی اور زیر زمین پانی کی سطح مزید نیچی چلے جانے کی وجہ سے اگر ایک طرف باجوڑ میں مالٹا، خوبانی، آلوچہ اور سیب کے باغات خطرے سے دوچار ہیں تو دوسری جانب زیتون آہستہ آہستہ ان باغات کی جگہ لے رہا ہے کیونکہ اسے اتنا پانی درکار نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ باجوڑ کے لوگ اب نئے موسم سے مطابقت و موافقت رکھنے والے زیتون کے باغات پر ہی زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

ایگری کلچر ایکسٹنشن ڈیپارٹمنٹ باجوڑ کے فیلڈ اسسٹنٹ طور گل کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں زیتون کی کاشت منصوبہ شروع ہونے کے تحت جنگلی زیتون کی پیوند کاری کی گئی کیونکہ یہ قسم صرف پہاڑی اور کھردری سطح زمین پر کامیاب ہے۔

ایگری کلچر ایکسٹنشن ڈیپارٹمنٹ باجوڑ کے آفیسر عمران آفریدی نے کہاہے کہ زیتون کے درخت کیلئے سال بھر میں صرف 5 اعشاریہ 5 ملی میٹر پانی ہی درکار ہوتا ہے اس لیے ان کی کوشش ہے کہ جہاں جہاں پانی کی کمی کے باعث باغات ختم ہوئے ہیں وہاں وہاں زیتون کے باغ لگائے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں زیتون کی باغبانی کا منصوبہ پہلی بار 2008میں اٹلی نے خوراکی تیل کی پیداوار کے ادارے پی او ڈی بی (پاکستان آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ)کے تعاون سے شروع کیا منصوبے کے تحت وزیرستان، مہمند، کرم، خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے بعض اضلاع کو شامل کیا گیا۔2012میں پی او ڈی بی کے خاتمے کے بعد منصوبہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے حوالے کیا گیا جس کا مقصد پاکستان کا خوراک کیلئے بیرون ممالک کے تیل پر انحصار کو کم اور اپنی پیداوار میں اضافے کے ساتھ معاشی خوشحالی لانا ہے،منصوبے کے تحت زیتون کی پیداوار کیلئے اٹلی کے تعاون سے ملک بھر میں سروے کرائے گئے اور زیتون کی باغبانی کیلئے موزوں علاقوں کی نشاندہی کی گئی۔سروے میں باجوڑ کی 53فیصد (79899)ہیکٹر اراضی زیتون کی کاشت کیلئے موزوں قرار دی گئی۔

باجوڑ کے مقامی زمیندار ولی خان کا کہناہے کہ ان کی اپنی سو کنال اراضی میں بڑی تعداد میں جنگلی زیتون کے درخت ہیں جن بارے ان کا دعوی ہے کہ 30ہزار سے زائد اور جن کی عمریں دہائیوں پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 30ہزار سے زائد ان درختوں کا انہیں فائدہ نہیں تھا اس لیے بھی کہ اس درخت کوکوئی ایندھن کے طور پر بھی بروئے کار نہیں لاتا۔ملک شاہ ولی خان کے بقول کچھ عرصہ قبل محکمہ زراعت کی جانب سے ان کے ساتھ رابطہ کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ ان درختوں میں اعلیٰ قسم کے زیتون کی قلمیں لگانا چاہتے ہیں جس سے نہ صرف انہیں بلکہ پورے ماموند کے عوام کو فائدہ حاصل ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ ان سے انہیں فائدہ تو ویسے بھی کوئی نہیں تھا اس لیے انہوں نے بلا سوچے سمجھے محکمہ زراعت کی تجویز قبول کی اور ان کی پیشکش کا خیرمقدم کیا اور اب پیوندکاری کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے اور فصل بھی دے رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ باغ کی دیکھ بھال کیلئے انہوں نے مزدوروں کی اچھی خاصی تعداد رکھی ہے یعنی وہ بھی برسر روزگار ہیں،زیتون کے درخت میں قلم لگانا آسان کام نہیں بلکہ اس کے اپنے ماہرین ہیں۔

ایگری کلچر ایکسٹنشن ڈیپارٹمنٹ باجوڑ کے ضلعی ڈائریکٹر ضیا اسلام داوڑ کا کہناہے کہ قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے علاقے زیتون کی کاشت کیلئے اتنی ہی موزوں ہے جتنا کہ اسپین اور اٹلی ۔ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوامیں زیتون کی کاشت تیزی سے جاری ہے،جس سے نہ صرف کاشت کار خوشحال ہوگا بلکہ اس سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا’ اسلامی اعتبار سے زیتون کا پھل خاص اہمیت کا حامل ہے’خیبرپختونخوا میں لگائے جانے والے زیتون کے درختوں سے پوار پاکستان مستفید ہوگا،اسی لیے خیبرپختونخوا حکومت نے اولیوپروڈکشن اینڈ پروموشن ٹرائبل ڈسٹرکٹ باجوڑسکیم ترتیب دیاجس کے تحت جنگلی زیتون میں پیوندکاری اورآرچرڈلگانا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بارشوں میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ کاشتکار بسااوقات پانی کی کمی کی شکایت کرتے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ انہوں نے ہی اپنے طور طریقے نہیں بدلے بلکہ کاشتکاروں کو بھی ایسی فصلوں اور باغات لگانے کا مشورہ دیتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں انہوں نے مختلف زمینوں میں دیگر موافق فصلوں کے ساتھ ساتھ زیتون کے درخت اگانا بھی شروع کیے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ باغبانی، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کی ہدایات کی روشنی میں وہ پانچ اقسام کے زیتون کے درخت لگا رہے ہیں جو اربیکوینا، لیسینا، اربوسینا، پنڈولینا اور پرینشو کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ضلعی افسر کے مطابق ان میں سے سب سے اچھی پیداوار اربیکوینا کی ہے اور یہی وہ زیادہ تعداد میں لگا بھی رہے ہیں جبکہ پولی نیشن کیلئے آس پاس دیگر درختوں کا لگانا بھی ضروری ہوتا ہے۔

دیر کے رہائشی محمد خان کا کہنا ہے کہ اپنی زمین پر زیتون کی کاشت شروع کرنا آسان نہیں تھاتاہم محکمہ زراعت کے دفاتر سے مشوروں کے بعد میں نے زیتون کی کاشت کی آج ہماری آبائی زمین پر ایک لاکھ سے زائد زیتون کے درخت موجود ہیں، جن میں سے 22ہزار پھل دے رہے ہیں، ہمارے خاندان کے 25لوگ اس میں حصہ دار ہیں اور ہر حصہ دار کو سالانہ کم ازکم دس لاکھ سے بیس لاکھ مل رہے ہیں۔محمد خان نے بتایاکہ کئی درختوں پر قلم کاری کی گئی، تین ہفتوں کے اندر ہی ان درختوں پر کونپلیں پھوٹ آئیں جبکہ کئی سو درختوں پر مختلف اقسام کی بہترین قسم کا زیتون کا پھل لدا ہوا تھا۔ مگر ہمیں ابھی بھی پتا نہیں تھا کہ پھل تو آ چکا ہے اور اب اس کا کرنا کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مشکلات کے بعد اب وہ نہ صرف تیل حاصل کرتے ہیں بلکہ اس سے دیگر اشیا، جن میں مربہ، اچار، زیتون کے پتوں کا قہوہ وغیرہ شامل ہے، کو بھی تیار کر کے مارکیٹ میں لاتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.