اب کی بار! معذرت بیٹا

162

میرے دوست برادرم جناب نعیم انور قریشی نے میری افسانوں، کالموں اور تحریروں کی پہلی کتاب ”عدن سے نکل کر“ میں میرا کالم (بابا! اب کی بار ووٹ مجھے دیں) پڑھا۔30 اکتوبر 2011ء عمران خان کا جلسہ جو دراصل ریاستی جلسہ تھا کے بعد عمران خان کی پی ٹی آئی کو پیپلزپارٹی جتنی بڑی عوامی جماعت ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی حالانکہ دور دور کا موازنہ بھی نہ تھا۔ (برائلر کی طرح) مختلف جماعتوں کے احتساب سے خوفزدہ اقتدار کی مچھلیاں ٹائپ لوگ شامل کرا کر پی ٹی آئی کی موجودہ صورت گری کر دی گئی۔
بہرحال وہ کالم میں نے اپنے بیٹے امیر حمزہ آصف جواب Discover Pakistanمیں سینئر پروڈیوسر ہیں کی فرمائش پر لکھا تھا۔ اس میں نوجوان نسل اور وطن عزیز کے حالات سے آگاہی رکھنے والی نسل کا مکالمہ تھا۔ اس وقت نئی نسل عمران خان بزرگ کو اپنا نمائندہ سمجھ بیٹھی۔ جھوٹ جھوٹ اور جھوٹ پر مبنی اعداد و شمار، دعوے، وعدے اور ان کا ریاستی مشینری کے ذریعے ایسا پروپیگنڈہ کیا گیاکہ الایمان الحفیظ۔ میرے گزشتہ کالم میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کے حوالے سے جناب زرداری کو زمینی حقائق بتائے اور درمیان میں منو بھائی کا تجزیہ بھی آگیا جو یار لوگوں کو بہت پسند آیا ان کی خدمت میں عرض ہے کہ منو بھائی نے ہی لکھا تھا کہ ”اگر آصف علی زرداری کی جگہ کوئی فرشتہ بھی ہوتا تو گریٹ بھٹو اور محترمہ شہید کے مخالف عناصر اس کی کردار کشی بھی ایسے ہی کرتے، کردار کشی اور زمینی حقائق میں ہمیشہ زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ بہرحال اپنے کیے کا دفاع اور حساب جناب زرداری کو دینا ہے ورکرز کو نہیں۔ آتے ہیں جناب نعیم انور قریشی، جناب عبدالخالق انجم کی نشاندہی کی طرف کہ اس وقت ایک بھرپور مکالمے کے بعد آپ نے کالم لکھا تھا (بابا! اب کی بار ووٹ مجھے دیں) یعنی والدین سے بچے بحث کر رہے تھے۔ خواتین بھی حمایت میں تھیں اور وطن عزیز کی عوام محرومیوں کا شکار تھے لیکن 2011ء سے 2021ء تک اپوزیشن رہنما اور حکمران کے طور پر عمران خان جو جنرل حمید گل سے آج تک ایمپائر کے حصار میں سیاست کر رہے ہیں۔ عوام کی جو حالت زار بلکہ زارو قطار ہے اس پر اب اس کالم کا جواب بنتا ہے کہ ”اب کی بار! معذرت بیٹا“ سیاسی تمدن، معاشرتی قدروں، روایات، معیشت کا روحانیت کے ذریعے جو بیڑا غرق ہوا اس نے سابقہ حکومتوں کے ادوار میں جو کچھ اچھا ہوا اس کو فنا کے گھاٹ اتار
دیا۔ کردار ہمیشہ اپنا تعارف آپ ہوتے ہیں۔ کاروباری لوگ اپنی زبان پہ اربوں کھربوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ جناب محمد رمضان شیخ ہی لے لیجیے ملک میں کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ کسی بھی شعبہ زندگی میں چلے جائیں زبان اور الفاظ پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ وطن عزیز کو ایک نیا رہنما مل گیا جو یوٹرن کو سنہری اصول قرار دیتا ہے جس کی کابینہ سابقہ حکومتوں کے نیب زدوں پر مبنی ہے اور وہ سابقہ حکومتوں کو بربادی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ بے شرمی کی حد تک مہنگائی کر دی گئی، ملک میں مڈل کلاس ناپید ہو گئی۔ لوئر مڈل کلاس غریب ترین اور غریب ترین فقیر ہو گئے مگر حکمران ہیں کہ ڈھٹائی کے ساتھ Arranged Interviews دے رہے ہیں۔
اشیائے خورونوش، ملبوسات، گوشت، مرغی، سبزی نام لینا پڑ گئے، آٹا دالیں، گھی، تیل، یوٹیلیٹی بلز کوئی ایک چیز ایسی نہیں جو مہنگائی میں دن دگنی رات چگنی ترقی نہ کر گئی ہو۔ کاروبار ٹھپ صرف حکومتی گلشن کا کاروبار ہے کرپشن کا کاروبار ہے، دعووں،وعدوں اور دھوکوں کا کاروبار ہے۔ وہ تو اللہ کریم کاشکر ہے کہ وطن عزیز کی مربوط، مضبوط، ہر شبہ میں کامیابی سے ہمکنار ہونے والی فوج موجود جس کے حصار میں یہ حکومت اپنی مدت حیات مکمل کر رہی ہے۔
اگر وطن عزیز کی عسکری قوتیں پوری طرح چوکس نہ ہوتیں اور اس حکومت پر رہتیں تو وطن عزیز کا اس سے 100 گنا زیادہ برا حال ہو جاتا۔
جس طرح ایم آر ڈی کی تحریک اور پیپلزپارٹی کی جدوجہد میں منظور وٹو، بابر اعوان، رحمن ملک، فریال تالپور، مظفر ٹپی، ڈاکٹر سومرو کا کوئی نام تک نہیں جانتا تھا بلکہ بذات خود آصف علی زرداری بھی بھٹو خاندان سے نسبت کے بعد سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ اسی طرح تحریک انصاف کا 22 سالہ بندوبست جسے یہ جدوجہد سمجھتے ہیں،میں شہباز گل، شیخ رشید، فواد چودھری، بابر اعوان، عون چوہدری، مانیکا فیملی، بزدار، شہزاد اکبر کا کسی نے نام تک بھی سنا تھا؟ ہرگز نہیں، یہ کون لوگ ہیں دراصل یہ لوگ ہمارے ملک میں ایک ایسی فصل کی طرح پائے جاتے ہیں جس کا موسم حکومتوں کی ٹوٹنے اور بنتے وقت ہوتاہے یہ قوموں کی تقدیر کے بچھو ہیں۔ جو حسب جثہ آتے اور اقتدار کی اگلی بس میں سوار ہو جاتے ہیں۔ اب مقتدرہ کے پاس بھی یہی چہرے رہ گئے ہیں۔ شہباز شریف عمران خان کو اس لیے زیادہ برے لگتے ہیں کہ وہ سیدھا ان کے چھابے میں ہاتھ مارتے ہیں۔
جب مشرف دور میں پاکستان امریکہ کی افغان جنگ میں شامل ہوا تھا تو آج وزیراعظم کی تقریر کی تعریف کرنے والا شیخ رشید اس وقت کہتا تھا اگر پاکستان نہ مانتا تو امریکہ ہمارا آملیٹ بنا دیتا۔ انہی دنوں موجودہ وزیراعظم عمران خان جنرل پرویز مشرف کے حامی بلکہ پولنگ ایجنٹ تھے اور منتیں کر کر کے اس کو یقین دلاتے تھے کہ میں بڑا مقبول ہوں لہٰذا مجھے وزیراعظم بنا دیں۔ اس نے خفیہ اداروں سے معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے بتایا ایک سیٹ حاصل کر سکے گا جب امریکہ کی حمایت کی تو یہ مشرف کے ساتھ تھے۔ جب امریکہ خود جنگ بند کر کے واپس جا رہا ہے تو یہ جنگ کے خلاف بیان دے کر سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسے بیان دے رہے ہیں۔ افغان جنگ میں شامل ہونے والی حکومت کی پوری ٹیم سوائے مشرف کے سب ان کی کابینہ میں ہیں۔ مگر پھر بھی  مقتدرہ جس کے ساتھ ہے اقتدار اس کے پاس ہے مگر مقبولیت اس کے پاس ہے جو مقتدرہ کے سیاسی کردار کے خلاف ہے۔
ایک کی گود ابھی چھوٹی نہیں دوسرے کی گود پر پہلے کو آنکھیں دکھا رہے۔
امریکہ کی افغان وار سے نکل کر چائنہ امریکہ کی معاشی جنگ میں اپنے ہی وطن میں شامل ہو جانا بھی کم خطرناک نہ ہو گا۔ ہنری کسنجر نے کہا تھا ”امریکہ سے دشمنی مول لینا خطرناک ہو سکتا ہے لیکن امریکہ سے دوستی اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے“۔ گریٹ بھٹو کے بعد امریکی چنگل سے نکلنے کی شروعات جناب زرداری نے گوادر معاہدہ، ایران سے گیس پائپ لائن معاہدہ اور سی پیک کی بنیاد رکھ کر کی بعد میں سی پیک اور چائنہ روس سے قربتیں بڑھا کر میاں نواز شریف نے امریکہ سے آزادی کے سفر کو آگے بڑھایا جبھی تو عمران خان ٹرمپ ملاقات میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ سابقہ حکمران ہماری بات نہیں مانتے تھے۔ بہرحال قومی سلامتی پالیسی پر حکومت اپوزیشن اور عسکری قیادت کا مشترکہ موقف قابل ستائش ہے۔
آج احتساب، انتقام میں بدل گیا عدالتیں یرغمال اور بیورو کریسی بے مہار ہو گئی۔ عدالتیں وزیراعظم کو تو گھر بھیج سکتی ہیں، سزا سنا سکتی ہیں اسمبلی بحال کر سکتی ہیں، وزیراعظم کو سزائے موت دے سکتی ہیں لیکن بھری عدالت میں غلط بیانی کرنے پر ایک ایس پی کو سزا نہیں دے سکتیں کیونکہ یہ ملک مکمل طور پر پویس، ایف آئی اے، احتساب سٹیٹ بن چکا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ محکمہ جات، ادارے دراصل اندر سے بھی سٹیٹ در سٹیٹ ہیں۔ لہٰذا میرے بیٹے امیر حمزہ!یہ کل عوامی نمائندے تھے نہ آج ہیں لہٰذا اب کی بارمعذرت (Sorry) بیٹا! ان لوگوں نے وطن عزیز کے عوام کو در بدر کر دیا۔

تبصرے بند ہیں.