غلبہ اور زوال

142

جاپان،بھارت اور آسٹریلیا کو اتحادی بنانے کے باجود ایشیا میں امریکی غلبہ زوال پذیر ہے حالات اِس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے بعد خطے پرنظر رکھنے کے لیے کوئی ملک اڈے دینے کو تیا رنہیں قبل ازیں وسطی ایشیائی ریاستوں نے نہ صرف فضائی حدود استعمال کر نے کی جازت دی بلکہ مناسب ادائیگی کے عوض اڈے بھی دیے پاکستان نے 2001 میں گراؤنڈ لائن آف کمیونی کیشن(GLOC ) اور (ALOC) ائر لائن آف کمیونی کیشن کے معاہدوں کے تحت امریکہ کو اپنی سرزمین پر اڈے فراہم کیے بلوچستان میں خضدار کے قریب واشک کا شمسی ایئر بیس اور سندھ میں جیکب آباد میں شہباز ایئر بیس امریکی استعمال میں رہے یہ سہولت غیر مشروط فراہم کی گئی وسطی ایشیائی ریاستوں کی طرح سہولیات کی فراہمی کے عوض مالی فوائد کا مطالبہ تک نہ کیا یہ وہ وقت تھا جب امریکہ نے کبھی دہشت گردی اور کبھی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگاکر جس ملک کو چاہا تاراج کر دیاروس اور چین نے بھی کبھی اختلاف نہ کیا لیکن اب دنیا پر امریکی گرفت کمزور ہورہی ہے اور چاردہائیوں سے واحد سُپر طاقت کو حاصل غلبہ زوال پذیر ہے حالات اتنے نا موافق ہیں کہ کل کا اتحادی پاکستان بھی امریکہ کوکوئی رعایت دینے پر آمادہ نہیں طالبان نے اڈے فراہم کرنے کی خبروں پر ناپسندیدگی ظاہر کی تو شاہ محمود قریشی نے واشگاف الفاظ میں ایسی سہولت دینے کی تردید کردی جب بے اطمینانی کا ارتعاش ختم نہ ہواتو عمران خان نے خود ایک امریکی ٹی وی ایچ بی اوکو انٹرویو دیتے ایسے کسی خیال کو بھی رد کر دیا جس پر دنیا بھونچکا رہ گئی کل تک ڈو مور جیسے مطالبات سے پریشان پاکستان اچانک کیسے اتنا شیر ہو گیا کہ اب سر تسلیمِ خم کرنے کی بجائے آزاد روش پر چلنے لگا ہے اِس کی وجہ امریکہ کی بجائے چین پر انحصار بڑھناہے۔
آج کا امریکہ اقتصادی،سفارتی اور فوجی حوالے سے اپنی اڑھائی سوسالہ تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اُس کے غلبے کی مدت اتنی محدود ہوگی یہ کسی کے وہم وگمان میں نہ تھا یہ زوال معیشت تک ہی محدود نہیں فوجی برتری تک وسعت اختیارکرچکا ہے پاکستان جیسے کئی آزمودہ دوست سعودی عرب ودیگر یکے بعد دیگرے واحد سُپر طاقت سے دور ہونے لگے ہیں ایسے حالات بنانے میں امریکی حماقتوں کا بڑا ہاتھ ہے افغانستان میں بھارتی کردار کی ضد نے چین کو قبل ازوقت مقابلے پر آنے کی راہ دکھائی اور پاکستان کو بھی خفا کر دیا کیونکہ پاکستان نے اپنا مستقبل چین سے وابستہ کر لیا ہے اِس لیے اب یہ توقع کم ہی ہے کہ پاکستان اور امریکہ ماضی کی طرح ایک دوسرے پر فریفتہ ہوں سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس گزشتہ ماہ جب خفیہ دورے پر پاکستان آئے اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے ملاقات کے دوران اڈے دینے کامطالبہ کیامگر سویلین قیادت کی طرف سے ملاقات کا وقت ہی نہ مل سکا یہ واقعہ امریکہ سے پاکستان کی دوری کو واضح کرتا ہے۔
2011 کے وسط میں پاکستان نے امریکہ کے
زیرِ استعمال ہوائی اڈے واپس لینے کا عمل شروع کیا پہلے شہبا زایئر بیس بند کیا گیا اور مہمند ایجنسی میں ہونے والے سلالہ حملے کے بعد نہ صرف شمسی ایئر بیس کی سہولت بھی واپس لے لی بلکہ پاکستان نے امریکہ پر فضائی اور زمینی راستے استعمال کر نے پر بھی پابندی لگا دی اب امریکہ کی کوشش ہے کہ زمینی اور فضائی کمیونی کیشن کے حوالے سے پرانے معاہدوں کو بحال کر ایا جائے لیکن کامیابی نہیں مل رہی بلکہ دونوں ممالک میں دوری بڑھتی جا رہی ہے امریکہ کی طرف سے پاکستان کی فوجی تربیت و امداد پر وقتاََ فوقتاََ پابندیاں لگائی گئیں تو دفاعی استعداد میں اضافے کے لیے پاکستان نے متبادل ذرائع تلاش کر لیے ہیں خدمات کے باوجود امریکی دھمکیوں نے پاکستان کو بالکل ہی متنفر کر دیا ہے دہشت گردوں کی سرکوبی کا علمبردار امریکہ اڈے لیکر چین و ایران پر نظر رکھناچاہتاہے لیکن پاکستان ایسا کچھ کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں کیونکہ دونوں ملک ہی پاکستان کے قریبی اور ہمسایہ دوست ہیں ہوائی اڈے نہ دینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہتا دوسرایہ کہ پاکستان اب طالبان کے حمایتی یا مخالف گروہوں کولڑنے کے لیے میدان فراہم نہیں کرنا چاہتا اور وہ اقتدار کا فیصلہ کرنے کا حق افغانوں کو دینے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغان اپنے لسانی یا نسلی مسائل کا حل بھی خود تلاش کریں لیکن امریکی خواہش ایسی نہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں علاقے میں موجود رہنا چاہتا ہے۔
امریکی سویلین و عسکری قیادت دباؤ ڈال کر ہوائی اڈے لینا چاہتی ہے لیکن شاید اُسے معلوم نہیں کہ حالات بدل چکے ہیں چین پر ہمسایہ ممالک تکیہ کرنے لگے ہیں جو امریکی اتحاد کی طرف قدم بڑھائے اُسے چین روکنے بھی لگا ہے بنگلہ دیش پر چین اسی نوعیت کا دباؤ ڈال چکا ہے جبکہ کم وبیش تین دہائیوں سے خاموش روس نے بھی عالمی کردار بڑھانا شروع کر دیا ہے اور عالمی امور میں امریکہ مخالف روش پرگامزن ہے حال ہی میں جو بائیڈن اور پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سفیروں کی دوبارہ تعیناتی پر اتفاق کے باوجودہنوز دونوں ممالک میں ایسے کئی تصفیہ طلب امور برقرارہیں جن کی موجودگی میں افہام وتفہیم کی منزل کا حصول ناممکن ہے روس اور چین کی پالیسیوں میں اتفاق کاجیسا عنصرتو پایا جاتا ہے وہ امریکہ و روس میں عنقا ہے ترکی نے امریکی مخالفت کے باوجود روس سے میزائل خریداری کے معاہدے پر نظر ثانی نہیں کی جبکہ ایران پہلے ہی خطے میں امریکہ مخالف بلاک کا پُرجوش حصہ ہے جس سے ماہرین یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ امریکی غلبے کا زوال شروع ہوگیا ہے اور جلد ہی عالمی منظر نامے پر واحد زمینی سُپر طاقت کے مدمقابل ایک سے زائد نئی طاقتیں آنے کا امکان ہے۔
حامد کرزئی کے بعد اشرف غنی ایک ایسا بوجھ ہیں جنہیں مملکت کے مسائل حل کرنے سے زیادہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے سے دلچسپی ہے انہوں نے بھارت کی نازبرداری سے ایک طرف چین اور پاکستان کو ناراض کیا تو ساتھ ہی روس اور ایران سے اچھے ہمسائیوں جیسے تعلقات بنانے کی بھی کبھی کوشش نہیں کی اسی بنا پر افغان سرزمین نہ صرف امریکہ کے لیے تنگ ہوگئی ہے بلکہ اشرف غنی کو پے درپے ناکامیوں کی وجہ سے آرمی چیف کے ساتھ داخلہ و دفاع کے وزرا کو ہٹانا پڑا ہے لیکن چین،روس،ایران اور پاکستان نے کٹھ پتلی حکومتوں کے علاوہ طالبان سمیت تمام گروہوں سے تعلقات بہتر رکھے  اسی لیے افغانستان میں زیادہ مخالفت کا سامنا نہیں جوں جوں امریکی انخلا کی تاریخ قریب آرہی ہے افغانستان میں ہتھیارپھینکنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور طالبان کی پیش قدمی میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے کابل ایئر پورٹ کی حفاظت کی ذمہ داری ترکی کو سونپنے کی بظاہر چال چلی گئی ہے پھر بھی امریکہ کے موافق حالات ہوتے دکھائی نہیں دیتے اور افغانستان کے ساتھ امریکہ کی ایشیا میں کمزور ترین پوزیشن پر منتج ہو سکتے ہیں۔ جب افغان سرزمین پر بھارت کی موجودگی چین اور پاکستان دونوں کو قبول نہیں توپھر امریکی کیوں ضد کرتے ہیں سمجھ نہیں آتی ویسے بھی بڑے رقبے، بڑی آبادی اور بڑی سپاہ کے علاوہ اُس میں کوئی خوبی نہیں بھارت وہ میمنا ہے جسے دودھ پینے کے سوا کچھ نہیں آتا پہلے روس اور اب امریکہ کی طرف ہونے میں یہی خصلت کارفرما ہے بھارت کی بے جا حمایت امریکی غلبے کو زیادہ تیزی سے زوال کی گہرائیوں میں پھینک سکتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.