اترپردیش: جنونی ہندوؤں کا اسلام قبول کرنیوالے شخص پر تشدد، داڑھی کاٹ دی

150

نئی دہلی: اترپردیش کے ضلع میرٹھ کے نواحی گاؤں کے جنونی ہندوؤں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر مسلمان ہونے پر شخص کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی داڑھی کاٹ دی ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق یہ شخص کچھ دن پہلے ہی جیل سے پیرول پر رہا ہو کر اپنے گاؤں آیا تھا۔ اسے تین سال قبل ایک قتل کے الزام میں جیل ہوئی تھی۔ تاراچند نامی اس ہندو قیدی نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اپنا مذہب تبدیل کر لیا لیکن ہندو تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ شخص کو زبردستی ایسا اقدام اٹھانے پر مجبور کیا گیا ہے۔

قیدی کے مسلمان ہونے کی خبر منظر عام پر آتے ہی جنونی ہندو بپھر گئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی فوری جانچ کی جائے کیونکہ ہمارے مذہب کے ایک شخص کو زبردستی اسلام قبول کروایا گیا ہے۔ ہنگامہ کرنے والے ہندوؤں کو انتہا پسند تنظیموں کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔

خبریں ہیں کہ تاراچند نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام طاہر رکھ لیا ہے۔ اسے تین سال قبل ایک قتل کے الزام میں جیل ہوئی تھی لیکن اس عرصہ میں خاندان کے کسی فرد نے اس کا پتا نہیں کیا۔ اسی اثناء میں تارا چند (طاہر) کی جیل میں قید ایک عثمان نامی قیدی سے ملاقات ہوئی جس نے ناصرف اس کی کیس میں مدد کی بلکہ قانونی ماہرین سے بھی رابطہ کروایا جنہوں نے اس کی پیرول پر رہائی ممکن بنائی۔

تاراچند (طاہر) نے عثمان نامی اس شخص کے رویے اور اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا۔ پیرول پر رہائی کے بعد یہ قیدی اپنے گاؤں پہنچا تو اس کے رشتہ دار حیران رہ گئے، انہوں نے اس پر زور دیا کہ وہ یا تو دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرے ورنہ فوری طور پر علاقہ چھوڑ دے۔

گاؤں کے لوگوں کا الزام ہے کہ تاراچند اب ہمیں بھی اسلام قبول کرنے کیلئے بہکا رہا ہے۔ تاہم تارا چند کا کہنا ہے کہ اُس نے کسی دباؤ میں آکر اسلام قبول نہیں کیا اور اپنی مرضی سے نماز پڑھنا اور داڑھی رکھنا شروع کیا ہے۔

لیکن گاؤں کے کچھ لوگوں اور ہندو تنظیم سے جڑے لوگوں نے اسے موضوع بناکر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔

تارا چند کا کہنا ہے کہ ہندو مذہبی تنظیم سے جڑے لوگوں کے ہنگامہ کرنے کے بعد پولیس کی موجودگی میں اُس کے داڑھی کٹوائی گئی اور دھمکایا گیا۔ سماجی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

تبصرے بند ہیں.