بیدل کے حکمت کدے میں

193

مجھے جب کبھی غیر منقسم برعظیم کا خیال آتا ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ صدیوں پر پھیلے مسلمانوں کے دورِ حکومت میں اس سرزمین نے مختلف علمی، تخلیقی، تمدنی اور ثقافتی میدانوں میں کیسے کیسے بڑے لوگ پیدا کیے۔ انہی میں ایک ناقابلِ فراموش نام مرزا عبدالقادر بیدل کا بھی ہے۔ بیدل نے مغلوں کے دورِ عروج و زوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس بنتے، مٹتے تمدن اور فطرتِ انسانی اور اس کی رنگارنگی اور تہہ داری کو موضوعِ سخن بنایا۔ فارسی کو ذریعہ اظہار کے طور پر چنا، ایک لاکھ سے زیادہ اشعار کہے اور ”خلاّقِ معانی“ کا لقب پایا۔ نثر کا وسیع اور حیران کن کام اس کے علاوہ ہے۔ شاعری میں ایسا نرالا رنگ ڈھنگ اختیار کیا کہ بڑے بڑوں سے خراجِ عقیدت وعظمت وصول کیا۔ ان بڑوں میں غالب اور اقبال جیسے اعلیٰ تخلیق کار بھی شامل ہیں اور اورنگ زیب عالمگیر جیسے جلیل القدر معترفین بھی۔ 
بیدل نے کل چھہتر برس عمر پائی۔ 1720ء میں دہلی میں انتقال کیا۔ ان کی وفات پر قریباً تین سو ایک برس ہونے والے ہیں۔ انہوں نے اپنی فکر کا ایسا خزانہ چھوڑا ہے جو اتنا لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اہلِ نظر کے لیے قابلِ توجہ ہے۔ دراصل کسی بڑے لکھنے والے کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد سے آگے جاتا اور دیکھتا ہے، اپنے عصر کی نفی کیے بغیر سابقہ اور آنے والے زمانوں کا حساب کتاب رکھتا ہے۔ اسی عظیم اور متوازن سوچ سے اعلیٰ اور بڑے تمدن ظہور کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ بیدل کا اپنے عہد کے بڑے سوالوں سے سروکار رہا، ایسے سوال جو ہر عہد کے بنیادی سوال رہے ہیں: انسان، خدا اور کائنات۔ یہی بیدل کی فکر کے مرکزی نکتے ہیں۔ انسان کیا ہے، اس کا شرف کن چیزوں سے وابستہ ہے۔ خدا کیا ہے اور اس معبود ِ حقیقی سے کیسی والہانہ وابستگی ہونی چاہیے کہ وہ عبد کے لیے ایک زندہ اور حاضر و موجود تجربہ بن جائے اور اس کی پیدا کردہ کائنات فرار اور گریز کے بجائے عمل کی جولاں گاہ کے طور پر اپنا ایک متعین مقام رکھتی ہو۔ بیدل کے یہی اساسی نکتے ہیں جو کئی ذیلی موضوعا ت میں منقسم ہوکر نو بہ نو پیرایوں میں ان کی شاعری کا موضوع بنے ہیں۔ ذرا دیکھتے ہیں کہ ان میں سے بعض نکتے ان کی شاعری اور نثر میں کس طرح ظہور پاتے اور پڑھنے والے کی توجہ جذب کرتے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بیدل کا پیرایہ اظہار دقیق ہے، شعر میں بھی اور نثر میں بھی۔ مگر جب ذہین قاری سالہا سال کے مطالعے کے بعد بیدل کے اسالیب کے خاص پہلوؤں اور نزاکتوں کا شعور حاصل کر لیتا ہے تو بیدل اس کے رفیق اور جلیس بن جاتے ہیں اور سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ پھر ان کے سیکڑوں شعر ایسے بھی تو ہیں جو بڑے سہل اور صاف ہیں گو کہ گہرائی اور تہہ داری سے وہ بھی تہی نہیں۔ 
مسلم کلچر کے بڑے بڑے عرفاء اور حکماء، عرفانِ خودی اور عظمتِ انسان کے مضامین کو صدیوں سے اپنے اپنے رنگ میں باندھتے اور بیان کرتے رہے ہیں۔ بیدل بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کہتے ہیں:
ہر دوعالم خاک شد تا بست نقش آدمی
اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش
(جب دونوں عالم خاک ہو گئے تب جاکر انسان نے صورت پکڑی اور اس کا نقش بنا۔ یہ کائنات نیست تھی۔ اے انسان، تیری وجہ سے اس کو رونق اور حیات ملی گویا تو ہی اس کی فصلِ بہار ہے لہٰذا اپنی قدر قیمت پہچان!)۔ بیدل کا دیگر اہلِ نظر کی طرح یہ موقف تھا کہ انسان کے باطن میں روحانی و مادی ارتقا اور عروج کے لاتعداد امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں:
کدام قطرہ کہ صد بحر در رکاب ندارد
کدام ذرہ کہ طوفانِ آفتاب ندارد
(کون سا قطرہ ہے جس کے اندر سیکڑوں سمندروں کی مخفی قوت موجود نہ ہو اور کون سا ذرہ ایسا ہے جس میں حرارت اور روشنی کے سورج نے طوفان کھڑا نہ کر رکھا ہو!)۔
لیکن ارتقا، عظمت اور معرفت یوں آسانی سے ہاتھ نہیں آتے۔ اس کے لیے ریاضت اور شب بیداری ضروری ہے:
شبے چو شبنمِ گل صرف کن بہ بیداری
سحر بر آر سرو وصل آفتاب طلب
(اے عزیز! رات کو شبنم کی طرح بیدار رہ، صبح تجھے خود بخود آفتاب کا وصل حاصل ہو جائے گا)۔ 
ساتھ ہی ساتھ بیدل انسان کو قناعت اور توازن کا درس بھی دیتے ہیں۔ ہمارے اس بد قسمت عہد میں جب مادی آسائشوں کے حصول اور قوت و طاقت کی دیوانہ وار طلب نے انسان کو ایک بے حس مشین میں تبدیل کر دیا ہے، ہمیں چاہیے کہ بیدل کے اس شعر کو گوشِ ہوش سے سنیں۔ دیکھیں کیسی عمدہ اور حسّی مثال سے اپنا موقف واضح کرتے ہیں:
پُر در تلاشِ خُرمی ِ ایں چمن باش
افراط آب چہرہ گل زرد می کُند 
(اے بھائی! اس چمن (دنیا) میں خوشیوں، راحتوں اور آسائشوں کی تلاش میں اس قدر مارا مارا نہ پھر۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ زیادہ پانی دینے سے پھولوں کی آب و تاب جاتی رہتی ہے اور ان کے چہروں پر زردی کھنڈ جاتی ہے!)۔ کیا ہماری جدید ’ھل من مزید‘ تہذیب اس المیے کا جیتا جاگتا اشتہار نہیں؟
بیدل نے ساری زندگی غیرت اور فقر و درویشی میں گزار دی۔ کسی حاکمِ وقت کی لابہ گری اور کفش برداری نہیں کی۔ حیدرآباد دکن کے حاکم نے وہاں آجانے کی پیشکش کی تو اسے بے نیازی سے ٹھکراتے ہوئے یہ شعر لکھ بھیجا:
دنیا اگر دہند نہ جنبم زِ جائے خویش
من بستہ ام حنائے قناعت بہ پائے خویش
(اگر مجھے پوری دنیا بھی دے دیے جانے کی پیشکش کی جائے، میں اپنی جگہ سے نہیں ہلوں گا۔ میں نے اپنے پاؤں پر قناعت کی مہندی لگا رکھی ہے)۔
اِدھر ہمارے بعض ضمیر فروشوں کا یہ حال ہے کہ روز وشب: ’درِ آقا پہ سر ہے کفش برداری پہ نازاں ہوں‘، کا ورد کرتے رہتے ہیں مگر کب تک؟ بیدل نے جو پیش گوئی تین سو برس پہلے کی تھی، پوری ہوئی اور آج یا کل پھر اپنی صداقت کی گواہی دے گی: زود برہم می خورد ایں مجمعِ آثارِ ننگ! بے محل نہ ہو گا اگر اسی تناظر میں بیدل کے نثری کارنامے ”چہار عنصر“ سے جس میں انہوں نے جا بجا اپنے منتخب اشعار کی جوت بھی جگائی ہے، چند شعر سلاطیں پرستی کی مذمت میں پیش کر دیے جائیں:
اے کہ تعریفِ سلاطیں کردہ ای
مشقِ تعلیمِ شیاطیں کردہ ای
امتیازے تا بدانی شاہ کیست!
ایں قفس پروردہ وہمِ جا ہ کیست
برسرش افتادہ آں زریں رخام
آمدہ پایش بہ سنگے تخت نام
تختِ سیم و افسرِ زریں دوسنگ
او چو آتش درمیانِ ایں دو سنگ
قُربِ ایں آتش بلائے جانِ تست
برقِ دین وخرمنِ ایمان تست
(پہلا شعر واضح ہے۔ آگے چل کر فرماتے ہیں کہ یہ تو جان لے کہ بادشاہ کا امتیاز کیا ہے؟ جاہ و حشم کے وہم میں گرفتارِ قفساس بادشاہ کے سر پر بظاہر سونے کا تاج اورپاؤں کے نیچے تخت ہے مگر درحقیقت سونے کا تاج اور چاندی کا تخت دو بھاری پتھر ہیں جن کے درمیان بادشاہ کی جان آگ کی طرح پھنسی ہوئی ہے۔ ایسی آگ کی قربت اختیار کرنا بلائے جان سے کم نہیں کہ یہ تیری متاعِ دین و ایمان کو جلا کر خاکستر کر دے گی)۔ مگر سوال یہ ہے کہ ضمیر کے سودا گروں کا دین و ایمان سے کیا لینا دینا؟

تبصرے بند ہیں.