مخمصہ سیاست

103

ایک نقاد جب بھی اپنا روئے سخن تنقید کی طرف کرتا ہے تو اسے کئی طرح کی مغلظات سننے کے ساتھ ساتھ تنقید کی کئی اقسام سے واسطہ پڑتا ہے جیسے مغربی تنقید،مشرقی تنقید،نفسیاتی تنقید،رومانوی تنقید،جدید تنقید،تنقید برائے تنقید (یہ صرف ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے)کے ساتھ ساختیات،پس ساختیات، جدیدیت، مابعد جدیدیت جیسی دقیقیت اور بھول بھلیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔قارئین آپ نے مخمصہ کا لفظ تو پڑھا ہوگا اور اس کے مطلب سے بھی آپ واقف ہونگے۔۔مگر تنقید کی اقسام کی طرح ”مخمصہ سیاست“ نہیں دیکھی ہوگی۔۔آئیے پہلے میں لفظ ”مخمصہ“کی تشریح و توضیح ایک استاد کے ذریعے سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ 
ایک شاگرد اپنے استاد سے الجھ پڑا۔ اس کو مخمصہ کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا۔ استاد نے کافی تشریح کی مگر شاگرد مطمئن نہ تھا۔ پھر استاد نے کہا کہ میں تم کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ شاید تمہیں مخمصہ کی سمجھ آ جائے۔
”ناظم آباد میں اے او کلینک کے سامنے والی سڑک پر ایک باپ اور اس کا بیٹا موٹر سائیکل پر جارہے تھے۔ ان کے آگے ایک ٹرک تھا جس میں فولادی چادریں لدی تھیں۔ اچانک ٹرک سے ایک فولادی چادر اڑی اور سیدھی باپ بیٹے کی گردن پر آئی۔ دونوں کی گردن کٹ گئی۔ لوگ بھاگم بھاگ دونوں دھڑ اور کٹے ہوئے سر لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچے۔ ڈاکٹر نے سات گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد کٹے ہوئے دونوں سر دھڑوں سے جوڑ دیئے۔ دونوں زندہ بچ گئے۔
دو ماہ تک دونوں باپ بیٹا انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رہے۔ گھر والوں کو بھی ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ دو ماہ بعد وہ گھر آئے تو ایک ہنگامہ سا مچ گیا۔ باپ کا سر بیٹے کے دھڑ پر اور بیٹے کا سر باپ کے دھڑ سے لگ گیا تھا۔
 شاگرد منہ کھولے بہت حیرت سے سن رہا تھا۔
 گھڑمس پیدا ہو گیا کہ اب بیٹے کی بیوی شوہر کے دھڑ کے ساتھ کمرے میں رہے یا شوہر کے سر کے ساتھ؟ اگر وہ شوہر کے سر کے ساتھ رہتی ہے تو دھڑ تو سُسر کا ہے۔ اب کیا ہو گا۔ ادھر یہ گھڑمس کہ ماں اگر شوہر کے سر ساتھ رہے تو دھڑ بیٹے کا ہے۔ اگر شوہر کے دھڑ کے ساتھ رہے گی تو سر تو اس کے بیٹے کا ہے۔ گھر کی صورتحال انتہائی کشیدہ تھی۔ (جس طرح کی کشیدگی پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ہاں پائی جاتی ہے)۔
بیٹا اپنی بیوی کا ہاتھ تھامنا چاہے تو وہ نیک بخت کہتی کہ مجھے ابا جان کے ہاتھوں سے شرم آتی ہے۔ سسر اپنی بیوی کے پاس اس لئے نہیں پھٹکتے کہ بیٹے کے دھڑ اور ماں یعنی ان کی بیوی میں ابدی حرمت ہے۔
کہیں موٹر سائیکل پر جانا ہو تو ایک پریشانی کہ بہو شوہر کے دھڑ کے ساتھ بیٹھے یا سسر کے سر کے ساتھ؟۔ الغرض ان کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ تمام معمولات ٹھپ ہو گئے۔ ایسے میں کسی نے مشورہ دیا کہ یوں کیا جائے کہ دونوں اپنی اپنی منکوحہ کو طلاق دے دیں اور از سرِ نو نکاح کریں تاکہ دھڑ حلال ہو جائیں۔
شاگرد پوری توجہ سے سن رہا تھا اور بہت پریشان تھا کہ اب کیا ہو گا۔
تم اب بتاؤ کہ اگر لڑکے کی ماں طلاق لے تو کس سے لے؟ بیٹے کے دھڑ سے یا شوہر کے سر سے؟
ادھر بہو کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے۔ شوہر کے سر سے طلاق لے یا سسر کے دھڑ سے؟
اب تم بتاؤ کہ کیا کیا جائے؟
شاگرد بولا: ”استاد جی…… میرا تو دماغ بند ہو گیا ہے، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کیا جائے“۔
استاد گویا ہوئے: ”بیٹا…… بس یہ جو تمہاری کیفیت ہے نا اسے ہی مخمصہ کہتے ہیں، موجودہ حکومتی صورت حال اس قدر دگر گوں ہو گئی ہے کہ آوے کا آوا بگڑ چکا ہے۔ حکومت کے پاس عوام کو تسلی دینے کے لیے بھی کوئی پالیسی نہیں ہے اور نہ کوئی پالیسی میکر ہے۔ جھوٹی تسلیوں اور بیانات سے وقت تو گزر سکتا ہے مگر عوام اور ملک کی حالت نہیں سدھر سکتی اور نہ ہی سنور سکتی ہے۔ گونگی وزرات اندھے عوام کو تسلی دے سکتی اور نہ انکے لیے روشنی کی سمت متعین کر سکتی ہے۔ بچہ جھولے میں پڑا چاند سے کھیل تو سکتا ہے مگر چاند کی افادیت سے بے بہرہ ہے۔۔ اس بات کو بھی مان لیا کہ حکومت حالات کی مخدوشی کا شکار ہے۔ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے؟ پچھلی حکومت کی کرپشن نے ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے۔ ادارے تباہ کر دیئے ہیں؟ انڈسٹری کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں؟ یہ بھی مان لیں کہ ملک کو زیرو کر دیا ہے؟ مگر وہ کرپٹ حکومتیں ملک کا آئین اور دستور تو ساتھ نہیں لے گئیں؟ وہ تو چھوڑ گئی ہیں ناں؟ آپ اس آئین اور دستور کو کیوں لاگو نہیں کرتے؟ پولیس رشوت خور۔۔۔ ڈاکٹر ڈاکو۔۔۔ واپڈا والے بذات خود بجلی چور۔۔۔ ٹریفک بے ہنگم۔۔۔ تاجر لٹیرے۔۔۔ بلدیہ کام چور۔۔۔ جعلی ادویات۔۔۔ کھاد ملا دودھ۔۔۔ جعلی گھی و آئل۔۔۔ مردار جانوروں کا گوشت۔۔۔ ملاوٹ زدہ خوراک۔۔۔ سر عام قتل کی وارداتیں۔۔۔ چوری ڈاکہ زنی کی وارداتیں عام۔۔۔ عورتوں کی بے حرمتی ایک فیشن۔۔۔ اکاؤنٹس آفس میں سر عام رشوت۔۔۔ تعلیمی دفاتر میں رشوت۔۔۔ میرٹ کی دھجیاں۔۔۔ لاقانونیت۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟ حکومت کی نااہلی کے ثبوت ہیں۔ حکومت کی بے بسی ہے۔ یہ تمام مسائل تو آئین اور دستور کی بالاستی کے ذریعے کنٹرول کر کے ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی تھی۔۔ عوام کا معیار زندگی بلند کیا جا سکتا تھا۔
مگر موجودہ حکومت بھی انہی حالات کا شکار ہے۔ اس کا سر اسٹیبلشمنٹ کا اور دھڑ پی ٹی آئی کا لگا ہے۔
سر الگ کریں تو مصیبت دھڑ الگ کریں تو مصیبت۔ گویا موجودہ صورتحال بھی مخمصہ کا شکار ہو گئی ہے…… بقول جاوید رامش
سُنا ہے سَر پِھروں کو عمر بھر تکلیف دیتے ہیں 
سرِ مقتل نہیں سجتے جو سَر تکلیف دیتے ہیں 

تبصرے بند ہیں.