افغانستان کی سیاسی شطرنج……فاتح کون

124

آج کل پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے امریکی ٹی وی چینل HBO کے صحافی جوناتھن سوان کو دیئے گئے اس انٹرویو کا بڑا چرچا ہے جو امریکہ میں نشر ہونے سے پہلے ہی پاکستان میں لیک کر دیا گیا جس میں صحافی کے امریکہ کو اڈے دینے کے جواب میں وزیراعظم نے Absolutely Not یعنی قطعاً نہیں کا لفظ استعمال کیا۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جوناتھن نے مذکورہ انٹرویو جو کہ Exclusively اس کے اپنے چینل کے لیے تھا اس کے اقتباسات اس کے اپنے چینل پر نشر ہونے سے پہلے ہی پاکستانی چینلوں پر کیسے آ گئے۔ کاپی رائٹس قانون کے تحت کوئی اخبار یا چینل نہیں چاہتا کہ اس کا حوالہ دیئے بغیر اس کی اجازت کے بغیر ان کی نشر کردہ فوٹیج دوسرے استعمال کریں مگر یہاں تو معاملہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا کہ HBO نے وہ انٹرویو اتوار کو جب نشر کیا تو Absolutely Not والی بات پاکستان میں بچے بچے کی زبان پر تھی کیونکہ وہ ایک بار نہیں بلکہ ایک ایک چینل نے سو سو بار دکھائی تھی اور جتنے تواتر سے وہ دکھائی گئی ہے غور و فکر کرنے والی ایک چھوٹی سی اقلیت سوچنے پر مجبور ہے کہ اس کا کوئی مقصد ہے۔ 
اسی دوران امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں وزیراعظم عمران خان صاحب کا ایک کالم چھپا ہے جس میں افغان جنگ، امریکی انخلا، امریکہ کے ساتھ تعاون کی حدود، افغان جنگ میں پاکستان کو ملنے والے 20 ارب ڈالر کی خاطر 83000 انسانی ج انوں کی قربانی اور 170 ارب ڈالر کا نقصان جیسے امور پر بات کی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں ہمارا تعاون Partners in Peace کی حدتک ہو گا یعنی ہم لڑائی میں شامل نہیں ہوں گے۔ اڈے نہ دینے کا جواز وزیراعظم نے یہ پیش کیا کہ جب 20 سال افغانستان کے اندر بیٹھ کر آپ کنٹرول نہیں کر سکے تو پاکستانی سر زمین سے جا کر وہاں کیسے جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے تیس لاکھ افغان پناہ گزینوں کی بات کی اور افغانستان میں دوبارہ جنگ کی صور ت میں پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ کا خدشہ بھی ظاہر کیا لیکن اس کالم کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں وزیراعظم کا لہجہ Absolutely Not والا بالکل نہیں تھا بلکہ وہ بڑی عاجزی سے اپنے مسائل اور مجبوریاں بتا رہے تھے اور ”منت ترلا“ کے موڈ میں تھے جبکہ HBO کے انٹرویو سے Absolutely Not والا فقرہ قومی میڈیا کو لیک کرنے کا مقصد عوام کے اندر مقبولیت حاصل کرنا تھا جو خاصا کامیاب رہا بلکہ یہ کپ اگلے انتخابات میں عمران خان اور ان کی پارٹی کا سب سے بڑا ہتھیار ہو گا۔ 
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے سربراہان ریاست غیر ملکی میڈیا میں کالم لکھتے ہیں 
وہاں کی یونیورسٹیوں میں جا کر لیکچر بھی دیتے ہیں مگر اپنے ملک کے میڈیا یا تعلیمی اداروں کو یہ موقع نہیں دیتے کہ یہ وہاں کوئی مقالہ پیش کریں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ایبٹ آباد حملے اور اسامہ بن لادن کے مارے جانے پر اس وقت کے صدر آصف زرداری صاحب نے اسی واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھ کر اس سارے معاملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف اقتدار سے الگ ہونے کے فوراً بعد امریکہ کی چوٹی کی یونیورسٹیوں میں دہشت گردی پر لیکچر دیتے تھے انہیں ایک لیکچر کے 1.5 ملین ڈالر ملتے تھے جو بے نظیر بھٹو کو ان اداروں سے ملنے والے معاوضے سے بھی زیادہ تھا۔ اگر ہمارے سربراہان اپنے قومی میڈیا پر بھی اس طرح کی شفقت فرما دیا کریں تو ان کی شان میں کمی نہیں آئے گی مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے دور میں میڈیا کے اونٹ کو سوئی کے ناکے میں سے گزارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جو کہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ 
بات افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کی ہے۔ پینٹاگون اس بات پر حیران ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹرمپ کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے کی تائید کیوں کی ہے۔ افغانستان سے جو خبریں آ رہی ہیں اس سے ظاہر ہے کہ وہاں ایک بہت بڑا بحران پیدا ہونے جا رہا ہے اور انخلا کے بعد بہت زیادہ خونریزی نوشتہئ دیوار بن چکی ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔ طالبان ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ ان کی فتح ہوئی ہے اور انہوں نے امریکیوں کو بھگا دیا ہے۔ دوسری طرف پینٹاگون نے امریکی صدر کو کہا ہے کہ انخلا میں مزید تاخیر کر دی جائے کیونکہ طالبان معاہدہ صلح کی پابندی نہیں کر رہے۔ 
امریکی اپوزیشن یعنی ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر Lindsay Graham نے صدر بائیڈن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ انخلا کے بارے میں پاکستان کو اعتما د میں کیوں نہیں لیا گیا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بائیڈن افغان صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ سینیٹر گراہم کا کہنا ہے کہ بائیڈن کو عمران خان سے بھی بات کرنی چاہیے۔ یہ امریکی جانب کی پیشرفت ہے اگر پاکستانی جانب نظر ڈالیں تو سوال یہ ہے کہ آخر اب تک کیوں پاکستانی وزیراعظم سے بائیڈن کی ملاقات کا مرحلہ نہیں آیا۔ آپ ابھی تک خود کو اس معاملے سے سٹیک ہولڈر ثابت کیوں نہیں کر سکے۔ افغانستان جنگ میں پاکستان کا جانی نقصان امریکہ کے افغانستان اور عراق کے مجموعی جانی نقصان سے زیادہ ہے جس کا اظہار عمران خان نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے کالم میں لکھا ہے۔ 
امریکی انخلا کے بعد روس اور چائنا کا افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھنے کا واضح امکان ہے۔ روس نے چائنا کو خاموش حمایت کا یقین دلایا ہے جس کے بعد چائنا نے تاجکستان کے راستے افغانستان اور ایران تک پہنچنے کا منصوبہ بنایا ہے تا کہ مستقبل میں یہاں امریکی مفادات کو زائل کیا جائے۔ دوسری طرف طالبان نے افغانستان اور سنٹرل ایشیا کے درمیان تاجکستان کی سرحد پر بنائے گئے اربوں ڈالر کے اس پل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جسے امریکہ نے 2007ء میں مکمل کیا تھا یہ افغانستان کو نو آزاد روسی ریاستوں سے ملاتا ہے جسے سنٹرل ایشیا کا گیٹ وے کہا جاتا ہے۔ اب اس پر جتنی تجارت اور آمد و رفت ہو گی اس کا ٹیکس طالبان وصول کریں گے یہاں کا نزدیک ترین شہر قندوز پہلے ہی طالبان کے قبضے میں ہے۔ طالبان کی پالیسی یہ ہے کہ انخلا سے پہلے پہلے تمام صوبوں کے دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا جائے۔ 
آنے والا وقت بہت اہم اور نازک ہے پاکستان کو اپنی سٹریٹجک پوزیشن کی مضبوطی کے لیے فراست اور جانفشانی دونوں درکار ہیں۔ طالبان نے اڈے نہ دینے کے اعلان پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے مگر صورت حال لمحہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ طالبان اپنی جلد بازی کی وجہ سے امریکہ کو مزید تاخیر کا موقع مہیا کریں۔ دوسری طرف پاکستان کو امریکہ میں اپنی لابنگ کے لیے سینیٹر گراہم جیسے لوگوں سے رابطے استوار کرنا ہوں گے۔ 

تبصرے بند ہیں.