آئی ایم ایف اور ٹریکل ڈاؤن فلسفہ

113

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے لئے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈز سہولت کو قرضے کی شرائط کے نفاذ سے مطمئن نہ ہونے کی بناء پر چند ماہ کے لئے ملتوی کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف بورڈ کو اس سال جولائی تک چھٹے جائزے کی منظوری لینا تھی لیکن  نقطہئ نظر کے اختلاف کی وجہ سے پاکستان اور آئی ایم ایف حکام سٹاف لیول کے معاہدے میں اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے لہٰذا توسیعی فنڈز سہولت کے تحت چھٹے جائزہ کی تکمیل ستمبر 2021ء تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کے ریذیڈینٹ چیف ٹیریسا دبن سانچے کا کہنا ہے کہ ہم توسیعی فنڈز سہولت پروگرا م کے تحت پالیسیوں کے نفاذ، ساختی اصلاحات اور معاشرتی اخراجات میں اضافے کے ذریعے پائیدار ترقی اور استحکام کی غرض سے قرض حاصل کرنے کے لئے پاکستان کی مدد جاری رکھنے کو تیار ہیں۔ اس پر اپوزیشن سیاست کر رہی ہے اور اسے حکومت کی ناکامی قرار دے رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ حکومت امریکہ کے ذریعے آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر معاملات کو آگے بڑھانا چاہ رہی ہے جو کہ ملک کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔ جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مارچ تک کے تمام اہداف پورے کر لئے ہیں جو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حکومت معاشی بحالی کے لئے وزیرِ اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ اس میں کوئی دور رائے نہیں ہے کہ کوئی بھی خواہ مالیاتی ادارہ ہو یا کوئی ملک کسی ملک کو بھی غیر مشروط قرضے نہیں دیتے اس کے بدلے میں کچھ نہ کچھ ان کا بھی مفاد ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف امریکہ کے زیرِ اثر ایک طاقتور ادارہ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کو اپنے حلقہئ میں رکھنے کے لئے وہ من مانی شرائط منوانے میں مشہور ہے۔ حکومت کی حتی المقتدور کوشش ہونی چاہئے کہ وہ قومی مفاد کے منافی کوئی شرط تسلیم نہ کرے اور معاشی اصلاحات کے لئے اس کے تقاضے پورے کرتے وقت ملکی مفادات کو اولیت دی جائے۔  
پاکستان آج کل جس مشکل اقتصادی و معاشی حالات سے دوچار ہے یہ سب اچانک نہیں ہوا، نہ ہی یہ موجودہ جمہوریت کا ثمر ہے۔ یہ ہمارے 
سابقہ حکمرانوں کی نا اہلی اور بد دیانتی کا نتیجہ ہے۔ بیرونی قرضہ بڑھتا گیا، ڈالر کے تاجروں نے ملک سے اربوں ڈالر بیرونِ ملک منتقل کر کے رہی سہی کسر پوری کر دی جو ملکی معیشت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے مترادف ثابت ہوئی۔ نئے آنے والے حکمرانوں کو حکومتی اور اقتدار سنبھالنے کے مسائل کا شدید سامنا تھا۔ وہ بھی بر وقت اس طرف توجہ نہ کر سکے اور کوشش کرتے رہے کہ انہیں آئی ایم ایف کی طرف نہ جانا پڑے اور وہ کسی طرح کشکول توڑسکیں۔ لیکن اس کوشش میں ڈالر کا ریٹ 160 تک پہنچ گیا پھر انہیں تشویش ہوئی، لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایسے میں آئی ایم ایف کو اپنے پرانے قرضوں کی فکر کھائے جا رہی تھی کہ ان سے نئے قرضوں کی درخواست کر دی گئی۔ ہر قرضہ دینے والا خواہ وہ کوئی بینک ہو یا تجارتی ادارہ اگر وہ کسی کو قرضہ دیتا ہے تو اس امید پر نہیں دیتا کہ یہ وصول تو ہونا نہیں چلو کسی کی امداد ہی ہو جائے چونکہ عالمی ادارے، مالیاتی بینک خالص تجارتی ادارے ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے مفادات کے لئے بھی کام کرتے ہیں اور امریکہ افغانستان سے فوجیں نکالنے کا بہت پہلے فیصلہ کر چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ انہوں نے قرضہ دینے سے پہلے مختلف قسم کی شرائط لگا دی تھیں تاکہ اس سے ایک تو ان کی رقوم سہولت سے انہیں واپس ملنے کا امکان روشن رہے اور دوسرا یہ کہ امریکہ کو پاکستان سے بارگیننگ میں آسانی ہو سکے۔ 
پاکستان نے مشکلات سے نکلنا ہے تو اس کو بجٹ خسارے کو کنٹرول کرنا ہو گا پاکستان بھاری خسار ے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اس پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ 1990 ء کی دہائی کے آخر میں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ مجموعی قومی پیداوار کا سو فیصد تھا جسے جون 2007ء تک 55 فیصد کی شرح تک نیچے لے آیا گیا۔لیکن اب یہ ایک بار پھر تقریباً مجموعی قومی پیداور کے 80 فیصد تک ہو گیا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے پاس اب سرے سے اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ اپنی معاشی ترقی کے حصول کی غرض سے بھاری بجٹ خسارے کا متحمل ہو سکے۔ بھاری بجٹ خسارہ کبھی معاشی اور اقتصادی سر گرمیوں کی بحالی کا ضامن نہیں ہوتا کیونکہ خسارے کی فنانسنگ بذاتِ خود معاشی ترقی کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ سابقہ حکومتوں کو لعن طعن کرنے والی موجودہ حکومت نے بھی قرضوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اس سے پاکستان کی معاشی بدحالی، عالمی سطح پر مقابلے اور نجی شعبے کی طرف سے سرمایہ کاری کی کمی کا ثبوت ملتا ہے۔
ایک دانشور ملٹن فرائیڈمین سرمایہ داری نظام کے حق میں ٹریکل ڈاؤن فلسفہ پیش کرتے ہیں اس فلسفے کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام میں خوبی موجود ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں جیسے جیسے دولت بڑھتی ہے اس کا بڑا حصہ ترقی پذیر ممالک کو منتقل ہوتا رہتا ہے، اسی طرح جب سرمایہ دار کے پاس دولت زیادہ ہو جائے تو اس کا بہاؤ غریب طبقوں کی طرف ہو جاتا ہے اورا سی طرح پورے معاشرے میں دولت پھیل جاتی ہے اور عالمی سطح پر بھی غریب ممالک میں دولت کا پھیلاؤ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن ابھی تک پاکستان میں یہ نظریہ ناکام نظر آتا ہے کیونکہ 1990ء کی دہائی کے بعد سے پاکستان مسلسل آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر عملدرآمد کر رہا ہے اس کے باوجود آج بھی ملک کی آبادی کا  45 فیصد حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ اس غربت کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کی لوٹ کھسوٹ کی پالیسیاں ہیں۔ معاشی صورتحال کی بد تر حالت، مہنگائی اور بے روزگاری اس صورتحال کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ ان اسباب کا خاتمہ آئی ایم ایف کے اصلاحاتی پروگرام میں کبھی بھی شامل نہیں ہوتا۔
وزیر خزانہ جناب شوکت ترین خاصے سنجیدہ لگتے ہیں اور سخت محنت کر رہے ہیں تا کہ ماضی سے کچھ مختلف کر کے دکھا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم ٹیرف اور ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر دیں۔ لیکن ہم  بیس اور نیٹ بڑھاناچاہتے ہیں۔آئی ایم ایف کو چاہئے کہ ان کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرے اور ایسا کوئی ہدف مقرر نہ کرے جو موجودہ حالات کے تحت حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ اپنی طرف سے گورننس میں بہتری لانے کی پوری کوشش کرے۔ معیشت کو بھرپور توجہ کا مرکز بنائے اور اپنی معاشی ٹیم کو پوری تائید و حمایت فراہم کرے تا کہ وہ بجٹ خسارے کو کم کر سکے۔

تبصرے بند ہیں.