ٹیکنیکل الاؤنس کی عدم فراہمی: ٹیچنگ انجینئرز سے ناانصافی

177

عصرِ حاضر میں ٹیکنالوجی کے بہتر سے بہترین کی طرف سفر میں علم پر منحصر معیشت، جدید اور سستی ٹیکنالوجی کا حصول قومی خوشحالی اور دفاع کی ضمانت ہیں۔ ترقی کے اس سفر میں کامیابی، مقامی وسائل سے استفادے سے جدید ٹیکنالوجی کی تیاری میں انجینئرنگ کی معیاری تعلیم کا کردار نہایت اہم ہے۔ اس پسِ منظر  میں، ہنرمند افراد کی فراہمی کے حوالے سے یونیورسٹیز آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو۔ ای۔ ٹیز)  کا کردار قابلِ قدر رہا ہے۔ درآمدات پر مبنی معیشت کو  برآمدات پر مبنی جدید معیشت میں ڈھالنے کے لیے یو۔ای۔ٹیز کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
انجینئرنگ کی تعلیم دینے کے علاوہ یو۔ای۔ٹیز کے اساتذہ مختلف سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری شعبہ جات کو پیشہ ورانہ مشاورت اور مختلف صنعتی مسائل کے حل کے لیے اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں۔  علاوہ ازیں یہ اساتذہ  اپنے تعلیمی اور تحقیقی کام کے علاوہ  ملک کو دیگر خدمات بھی فراہم کرتے ہیں مثلاً تکنیکی علم کی ترویج  اور ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے لیے کیس سٹڈیز اور تحقیقی مقالہ جات تحریر کرنا، مقامی اور عالمی اداروں مثلاً اقوامِ متحدہ، UNIDO، UNESCO، بِل اینڈ ملِنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، اور یورپین ریسرچ کونسل وغیرہ سے تعلیمی و تحقیقی  فنڈز کے حصول کے لیے تحقیقی منصوبہ جات تیار کرنا؛ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے انجینئرنگ سے متعلقہ خدمات فراہم کرنا؛ حکومت کے زیرِ انتظام چلنے والے صنعتی و غیر صنعتی اداروں جیسا کہ PSIC، SMEDA، اینٹی کرپشن، نیب، PMITوغیرہ کو صنعتی حادثات کی تحقیقات میں مدد فراہم کرنا،صنعتی منصوبوں کو یقینی بنانے کے لیے ان کی فنی جانچ پڑتال کرنا؛ انفراسٹرکچر مثلاً صاف پانی کی فراہمی، سیوریج، عمارات، سڑکوں اور آب پاشی کے نظام کا ڈیزائن  اور تجزیہ کرنا؛ مختلف منصوبوں کی ٹیکنیکل تفصیلات، بِڈنگ کی دستاویزات، اور اس سے متعلقہ تخمینہ جات کی تیاری کرنا،سرکاری محکموں میں انجینئرز کی بھرتی میں بطور ماہرینِ مضمون فرائض سرانجام دینا وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ اتنی کثیر الجہاتی ذمہ داریوں کے باوجود ان اساتذہ کی تنخواہیں اپنے سکیل کے دیگر سرکاری افسران کے مقابلے میں افسوس ناک حد تک کم ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت پنجاب کے انجینئرنگ سے متعلقہ سرکاری شعبہ جات جیسا کہ ایل۔ ڈی۔ اے، واسا، پی اینڈ ڈی، زراعت، آب پاشی وغیرہ میں کام کرنے والے بی۔پی۔ایس۔18 کے انجینئرز کی مجموعی تنخواہ 160000 روپے ہے۔ اسی طرح ایگزیکٹِو اور جوڈیشیل الاؤنس لینے والے بی۔پی۔ایس۔18 کے افسران کی مجموعی تنخواہ دو لاکھ روپے سے بھی زیادہ ہے۔ جب کہ جامعات  میں کام کرنے والے بی۔پی۔ایس۔18 کے انجینئرز کی تنخواہ محض اسی ہزار روپے ہے۔ اس طرح بی۔پی۔ایس۔21 کا موازنہ کیا جائے تو فیلڈ انجینئرز اور ایگزیکٹِو/ جوڈیشیل الاؤنس لینے والے افسران کی ساڑھے چار لاکھ یا اس بھی زیادہ تنخواہ کے مقابلے میں ٹیچنگ انجینئرز کی تنخواہ صرف 160000روپے ہے۔
حکومتِ پنجاب کے پچھلے چند سال میں کیے جانے والے فیصلوں کے بعد فیلڈ انجینئر کو ٹیکنیکل الاؤنس کا اجرا جہاں ایک مستحسن قدم ہے وہاں انہی فیلڈ انجینئرز کے اساتذہ کو ٹیکنیکل الاؤنس سے محروم رکھنا افسوس ناک ہے۔حالانکہ یہ اساتذہ فیلڈ انجینئرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حوالے سے عالمی معیار کی جامعات اور تحقیقی اداروں سے سند یافتہ ہیں۔ وطنِ عزیز جیسے ترقی پذیر ملک میں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل پی۔ایچ۔ڈی۔ انجینئرز پہلے ہی نایاب ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ فیلڈ انجینئرز اور ٹیچنگ انجینئرز کی تنخواہوں  میں افسوس ناک تفاوت  کی وجہ سے ٹیچنگ انجینئرز شکستہ دل  ہو کر ترقی یافتہ ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور  ہیں جہاں انہیں کیریئر کے حوالے سے نسبتاً  بہتر مواقع میسر ہیں۔علم و ایجادات پر مبنی معیشت کے لیے اِن بہترین تعلیم و تربیت یافتہ انجینئرز کو ملک کے اندر سازگار ماحول فراہم کر کے ان کی اس دل گرفتہ ہجرت کو روکنا ناگزیر ہے۔ ان  قابل اور ماہر افراد کی ہجرت نہ صرف ہمارے آج کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ ہمارے بہتر مستقبل کی تعمیر کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ کیونکہ اس ملک میں رہتے ہوئے یہ نہایت ہنر مند افراد نہ صرف ہمارے آج کے مسائل کو حل کر کے ملک کے سماجی و معاشی حالات  بہتر کرتے بلکہ یو۔ای۔ٹیز کے طالبات و طلبا کی بہتر تعلیم و تربیت کر کے ہمارے کل کو ہمارے آج سے بہتر بناتے۔  اور  چند سو اساتذہ جو بہترین عالمی جامعات سے فارغ التحصیل ہو کر، ترقی یافتہ ممالک میں کیریئر کے بہتر مواقع چھوڑ کر واپس پلٹے ہیں اور وطنِ عزیز میں انجینئرنگ کی تدریس کا بِیڑا اٹھائے ہوئے ہیں، کم تنخواہوں کی وجہ سے معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ یہ دباؤ نہ صرف ان کی تحقیقی و تدریسی سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ  مل کر نوعِ انسانی کو درپیش مسائل کے دیرپا  اور پائیدار حل کے لیے کام کرنے کے جذبے کو بھی ماند کر رہا ہے۔
حکومتِ پنجاب کے ذمہ داروں کا فرض بنتا ہے کہ فیلڈ انجینئرز کی طرح (بحوالہ مراسلہ نمبر F.D.P.R.12#6/2018بتاریخ 30 مئی 2019) ان کے لیے بھی بنیادی تنخواہ کے ڈیڑھ گُنا کے برابر ٹیکنیکل الاؤنس منظور کیا جائے۔ تاکہ تمام یو۔ای۔ٹیز کو فنڈز کی مستقل فراہمی کو یقینی بنائے۔ اس  سے نہ صرف بہترین صلاحیتوں کے حامل انجینئرز یو۔ای۔ٹیز  کا رخ کریں گے بلکہ پائیدار اور دیرپا قومی ترقی کے لیے حکومت کے مختلف منصوبوں کی پیشہ ورانہ مدد بھی جاری رکھ سکیں۔

تبصرے بند ہیں.