سوئی ہوئی ریا۔۔۔ست؟

138

وطن عزیز میں گزشتہ اور اس سے پیوستہ ہفتے جو واقعات ہوئے انہوں نے کرب میں مبتلا کر دیا اور سر شرم سے جھک گیا۔ تازہ ترین واقعہ مدرسے کے مفطی (قارئین یہاں میں جان بوجھ کر مفتی کو مفطی لکھ رہا ہوں کیونکہ مفتی ایک متبرک خطاب ہے اور کسی ملعون مفطی کے لیے اس کا استعمال اس کی توہین ہے) کی اسی مدرسے کے ایک طالبعلم کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو سامنے آ گئی۔ پہلے تو مفطی صاحب نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اس کی تردید کی اور چائے میں نشہ پلا کر ویڈیو بنانے کا ذکر کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہی کی مزید ویڈیو سامنے آ گئیں مجبوراً پولیس کو ایف آئی آر کاٹنا پڑی اور ملزم گرفتار ہوا۔ پولیس حراست میں اس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا کہ زیادتی کا شکار ہونے والے بچے کو پاس کرنے کے عوض یہ فعل کیا۔ لیکن مجھے یقین ہے عدالت میں جا کر وہ اس اقرار جرم کو پولیس کی زبردستی گنوائیں گے اور ماہر وکیل انہیں بری بھی کرا لیں گے۔ میری اطلاعات کے مطابق بچے پر کیس واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لیکن اگر وہ نہ بھی مانا تو عدالت میں جا کر ماہر وکیل یہ کام کر گزریں گے۔ آخر بچہ ہی تو ہے کب تک برداشت کر سکتا ہے۔ ایک صحافی دوست بتا رہا تھا کہ وہ تھانے گیا تو وہاں کافی تعداد میں خود کو علما کہنے والے موجود تھے۔ اس کے استفسار پر کہنے لگے ہم مفتی عزیز کے لیے آئے ہیں۔ اس نے کہا عالم دین تو اسلام کا چہرہ ہوتا ہے کیا ان کے اس فعل پر آپ کو ان کی مدد کو آنا چاہیے تھا تو وہ اسی پر ہی برہم ہو گئے اور اسے وہاں سے نکلتے ہی بنی۔ اس نے مزید بتایا کہ تھانے کے باہر بڑی بڑی گاڑیوں کے علاوہ کچھ سبز نمبر پلیٹ کی گاڑیاں بھی تھیں پتہ چلا کہ یہ بھی مفتی عزیز کے لیے آئے ہیں۔ ایک گاڑی کے ڈرائیور سے اس نے استفسار کیا کہ کس کے ساتھ ہیں کہاں سے ہیں اور خیر سے آئے ہیں کہنے لگے ’’صاحب جی دے مولوی صاحب پلس نے ڈکے نیں‘‘۔ اس تفصیل پر سر پیٹنے کو جی چاہا آخر ہم جرم کو جرم کی طرح کیوں نہیں لیتے اور سنگین سے سنگین جرائم کو بھی درجات میں کیوں تقسیم کر دیتے ہیں۔ جس نے جو جرم کیا ہے اس سے اس کے مطابق سلوک کیا جائے اور کسی مجرم یا ملزم کو مقدس گائے نہ بنایا جائے۔ لیکن بات یہیں نہیں رکی دوسرے مسلک کے علما نے مفطی عزیز کو واجب القتل، سنگسار کرنے اور زندہ جلا دینے کے فتوے جاری کر دیے۔ لیکن مفطی عزیز کا فرقہ اس پر خاموش رہا۔ بلکہ علما بحیثیت طبقہ بھی خاموش ہی رہے۔ ایک بدبخت بولا بھی تو اس نے مفطی عزیز کے اس فعل کو غلطی قرار دیتے ہوئے اسے اسلام کے جس دور سے جوڑا اس کا ان صفحات پر ذکر تو کیا سوچنا بھی میرے جیسے گنہگار کے لیے محال ہے۔ اس نے کھلی توہین صحابہ کی لیکن اس کے 
خلاف کسی عالم دین نے تو کیا بولنا تھا ریا۔۔ست یہاں بھی سوئی ہوئی ہے۔
مدرسہ جنسی ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد جمعیت علما اسلام نے بھی مفطی عزیز کی محض رکنیت ہی معطل کی ہے ورنہ مولانا فضل الرحمان صاحب نے اپنا نکتہ نظر بیان کرنے اور ان پر تنقید پر حافظ حسین صاحب سمیت پارٹی کے بانی اراکین کو یک جنبش قلم پارٹی سے باہر کر دیا۔ لیکن اتنے بڑے جرم میں ملوث مفطی کو محض معطل کرنے پر اکتفا کیا گیا اس رویے سے ان کی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں مفطی عزیز کا واقعہ اچھالا جا رہا ہے۔ اصل میں عالم دین کے فعل بد کی تکلیف اس لیے زیادہ ہے کہ وہ دین کی تعلیم دیتا ہے اور لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ وہ بندوں کا اللہ اور رسولؐ سے تعارف کراتا ہے۔ وہ گناہ سے دور اور نیکی سے قریب رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ علامہ ہے، مفتی ہے، معاشرے میں تو برائی اور بے حیائی ہے ہی جب کوئی مولوی یا عالم اس برائی کا حصہ بنتا ہے تو ردعمل بھی شدید ہوتا ہے۔
ایسا شخص زیادہ کڑی سزا کا مستحق ہے جو قرآن و احادیث کی تعلیم دیتا ہے، ایسے شخص پر نا صرف جنسی زیادتی کا بلکہ توہین مذہب کا مقدمہ بھی ہونا چاہیے اور یہ ذمہ داری ریاست پر ہے کہ وہ آگے بڑھ کر مفطی ملعون پر توہین مذہب کا کیس دائر کریں۔ لیکن ریا۔۔ست سوئی ہوئی ہے۔
دوغلہ نظام تو دیکھیں مفطی عزیز کی صفائی میں اکابرین اسلام کے بارے ہرزہ سرائی کرنے والے مفطی اسماعیل کے خلاف توہین کا مقدمہ درج ہوا اور نہ گرفتاری۔ اس ملعون نے توہین کی ہے جس کا ثبوت سب نے دیکھ لیا ہے۔ لیکن ریا۔۔ست سوئی ہوئی ہے۔
مولوی بدفعلی کیس کا سب سے غلیظ پہلو یہ ہے کہ نوجوان نے باضابطہ وفاق المدارس کو شکایت کی تھی کہ بزرگ عالم دین اس کے سمیت بہت سے بچوں سے تین سال سے بدفعلی کا مرتکب ہو رہا ہے لیکن اس شکایت کو رد کر دیا گیا۔ جس کے بعد اس نے ثبوت کے ساتھ ویڈیو بنائی۔ مفطی عزیز کا واقع پہلا نہیں ہے اور جو کچھ مدارس میں ہوتا آ رہا ہے لوگوں کو سب پتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اب اسلام کے بجائے ملاازم پر یقین رکھنے لگے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو قرآن پاک گھر میں خود نہیں پڑھا سکتے۔
قندیل بلوچ باپ بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہو گئی لیکن ننگ انسانیت مفطی قوی آج بھی اپنی گندی اور ننگی ویڈیو وائرل کر رہا ہے۔ اس فحاشی پر نہ کوئی مقدمہ نہ گرفتاری کیونکہ ریا۔۔ست سوئی ہوئی ہے۔
اب کچھ سیاست کے افق پر۔ فردوس عاشق اعوان کا ایک لائیو پروگرام میں کسی اختلاف پر ایم این اے عبدالقادر مندوخیل پر تھپڑوں کی بارش کے ساتھ ساتھ بازاری اور گری ہوئی زبان کا استعمال اور اس پر پی ٹی آئی یا حکومت کی طرف سے ایکشن کی بجاے اشیرباد اس سے بڑا قبیح فعل تھا۔ اس سانحے کی دھول بیٹھنے نہ پائی تھی کہ قومی اسمبلی میں اراکین کی دھینگا مشتی اور ایک دوسرے کو مادرزاد گالیوں سے نوازنا سامنے آ گیا۔ کسی پارلیمانی جماعت بشمول مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے بطور پارٹی اس کی مذمت یا ان اراکین کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا۔ البتہ سپیکر نے جھگڑے میں اراکین کا ایوان میں صرف ایک دن کے لیے داخلہ ضرور بند کیا۔ لیکن سپیکر قومی اسمبلی نے اس ایکشن میں بھی حفظ مراتب کا خیال رکھا گیا اور ان وزرا سے صرف نظر کیا جو اس تماشے میں پیش پیش تھے۔ تماشا یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اگلے دن کے اجلاس کے لیے لشکر کی طرح میمنے میسرے ترتیب دیے گئے۔ لیکن اچانک پلک جھپکتے ہی سب شیر و شکر ہو گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ واقفان حال کہتے ہیں جڑواں شہر سے کسی ’’ڈنڈے‘‘ کی ٹک ٹک نے ان سب کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
سوچا اب سکون ہو گا تو اچانک قبرستان میں ایک حساس ادارے کے نئے نئے بنے صاحب بہادر کی سرکاری ہیلی کاپٹر پر لینڈنگ اور پرکھوں کی قبر تک سرخ قالین بچھا کر فاتحہ کرنے کی داستان سامنے آ گئی۔ حیف ہے قومی وسائل کے اس زیاں پر ان کے محکمے نے کوئی کارروائی کی نہ حکومت نے۔ سیاستدانوں کی ذرا ذرا سی بات پر بتنگڑ بنانے والے میڈیا نے بھی شور نہ مچایا۔ البتہ مادر پدر آزاد سوشل میڈیا نے خوب لتے لیے۔۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی میں ڈلیوری بوائے کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا اور انتظامیہ اس واقعے کو دبانے کے درپے ہے۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر مشتاق نے ریکٹر کو خط لکھ کر واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پروفیسر نے خط میں لکھا کہ واقعہ چھپانے کے بجائے ذمے داروں کو سزا دی جائے۔ خط میں کہا گیا کہ اسلامک یونیورسٹی میں 2 روز قبل مبینہ طور پر بدفعلی ہوئی، مبینہ واقعے کے بعد اسلامک یونیورسٹی کے دو طلبہ محمد ابراہیم خان اور محمود اشرف کو نکال دیا گیا۔ لیکن ان کو قانون کے حوالے کرنے کے بجائے محض یونیورسٹی سے نکالا گیا۔ یہاں بھی قانون کو اپنا رستہ نکالنا چاہیے لیکن ریا۔۔۔ست یہاں بھی سوئی ہوئی ہے۔
جب ریاست جرائم سے نمٹنے کے لیے یکساں پالیسی نہیں بنائے گی اور تیرے میرے کے چکر میں مجرموں سے یکساں سلوک نہیں کرے گی تو پھر جرم پھیلے گا اور اس کی سزا پورے معاشرے پر تقسیم ہو گی۔ پھر کہتے ہیں ہم پر عذاب کیوں آتے ہیں وجہ یہ ہے کہ جب ناانصافی کریں گے تو عذاب ہی مسلط ہو گا۔ اللہ ہم سب پررحم کرے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین

قارئین اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.