”میں کچھ کہنا چاہتا ہوں“

142

اکثر آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں، دل میں کوئی جذبات لئے ہوتے ہیں مگر اظہار نہیں کر پاتے، آپ کے دل کی بات اکثر دل میں رہ جاتی ہے۔ آپ جلدی میں ہوتے ہیں، کسی  معاملے میں ٹانگ نہیں اڑانا چاہتے، کسی کا دل نہیں دکھانا  چاہتے، اپنا دل نہیں دکھانا چاہتے یا کئی بار آپ سونو کے بٹو کی سویٹی کے کردار کی طرح اس اصول پر عمل پیرا ہوتے ہیں کہ ”میں کبھی بے وقوف کو یہ بتا کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتا تم بے وقوف ہو“۔
اسی وجہ سے بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو ہم نہیں کر پاتے۔ ہے تو مشکل مگر کیوں نہ ان کا اظہار کر دیا جائے۔میں اکثر شدید گرمی، سردی، بارش میں روڈ پر ٹریفک  پولیس کے اہلکاروں کو دیکھتا ہوں تو  میرے دل میں احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، ان کی اپنے فرض سے محبت دیکھ کر میں اکثر سوچتا ہوں کہ ان کے پاس جاؤں اور ان کا شکریہ ادا کروں مگر ایسا کر نہیں پایا۔ میں ٹریفک وارڈنز کو کہنا چاہتا ہوں کہ ”آپ بہت شاندار کام کر رہے ہیں اور اس کیلئے میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں“۔ روڈ پر اکثر لوگ ون وے جا رہے ہوتے ہیں، سگنل توڑتے ہیں اور اکثر لائن اور لین کی سنگین ترین خلاف ورزیاں کرتے ہیں تو کئی بار مجھے یہ خیال آتا ہے کہ میں ایسے کسی صاحب کو روکوں اور ان کو بتاؤں کہ یہ جو چند منٹ یا سیکنڈ آپ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی قیمت کسی کی یا آپ کی اپنی جان سے چکانا پڑ سکتی ہے۔  ون وے اور سگنل توڑنا تو ہم بہادری سمجھتے ہیں لیکن ایک بہت بڑی غلطی جو اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی کرتے نظر آتے ہیں وہ لائن اور لین کی احتیاط نہ کرنا ہے۔ یعنی آپ نے یو ٹرن لینا ہے اور آپ انتہائی دائیں  یعنی فاسٹ لین میں جا رہے ہیں مگر جیسے ہی آپ یو ٹرن لیتے ہیں تو آپ کھڑے ہوکر انتظار کرتے ہیں اور تیز رفتار ٹریفک کے درمیان راستہ بنا کر انتہائی بائیں لین میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ آپ کو اپنی لین پر رہنا  چاہیے، سفر جاری رکھنا  چاہیے اور جیسے ہی موقع ملے آہستہ آہستہ سگنل دے کر لین تبدیل کرنی چاہیے۔ گالیاں دینا کیوں ہم پنجابیوں کا کلچر ہے اس لئے کئی بار میرا دل کرتا ہے 
کہ انتہائی دائیں لین سے اچانک انتہائی بائیں لین میں جانے کی کوشش میں سامنے آنے والے صاحب کو سمجھاؤں مگر میں اس خیال کو بھی رہنے دیتا ہوں، مگر میں ابھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ”آپ انتہائی جاہل اور بے وقوف انسان ہیں، تھوڑا سا وقت بچانے کیلئے میرے سامنے آکر مرنے لگے تھے، باقی سب سنسرڈ اور پنجابی میں“۔
 میں نے چند ماہ قبل میڈیا کے ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں نوکری تبدیل کی ہے، ٹی وی چینل میں کام کرنے والوں کی اکثریت کو صحافی کہا جاتا ہے اور ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ لوگ پڑھے لکھے اور حساس ہوتے ہیں لیکن گزشتہ ادارے اور اب نئے ادارے میں اکثر جب میں واش روم جاتا ہے تو ہمارے ساتھی صفائی کا خیال نہیں کرتے، وہ شاید گندگی کو کوئی اعزاز سمجھتے ہیں یا ان کے کوئی دلی جذبات وابستہ ہوتے ہیں اس لئے فلش کا استعمال کرنا گوارا نہیں کرتے۔ میں نے کئی بار سوچا کہ مارکر لاکر واش روم کے حوالے سے مشہور چند تاریخی جملے لکھوں۔ میں ایسے اصحاب سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر کیا کہوں؟ 
سوشل اجتماعات میں اکثر دوست، ا ن کے دوست، رشتہ دار یا اور کوئی جاننے والے ملتے ہیں تو خیریت پوچھنے کے بعد ذاتی سوالات پوچھنے لگ جاتے ہیں، کتنے بچے ہیں،عمر کیا ہے؟ تنخواہ کتنی ہے، شادی ہوئی کہ نہیں؟۔ میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اور اس طرح کے سوالات انتہائی ذاتی ہوتے ہیں اور صرف قریبی دوست یہ پوچھ سکتے ہیں۔ یہ کوئی ملکی خبرنامہ نہیں ہوتا کہ آپ کسی بھی ملنے والے سے پوچھتے پھریں۔ کئی محفلوں میں دوستوں کے درمیان کئی بار دل کرتا ہے کہ اگر کوئی اچھا لگ رہا ہے تو اس کی تعریف کروں، مرد دوستوں کی تعریف تو کر دیتا ہوں مگر کسی خاتون کی تعریف نہیں کر پاتا تو میں ان متعدد خواتین، جن کی میں اتنے سال میں تعریف نہیں کر سکا انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی آپ کی تعریف کرے، تعریفی کلمات کہے تو اسے ایک مسکراہٹ سے نواز دیا کریں، عمومی معاشرتی رویوں میں ہمیں ایک دوسرے کی تعریف کرنی چاہیے، اچھے جملے بانٹنے چاہئیں اور ان کا مطلب کو جنسی ہراسانی ہرگز نہیں ہوتا۔
 اکثر روڈ پر مرد وں کو خواتین کو گھورتے ہوئے دیکھتا ہوں،  لفٹ میں یا کسی اور مقام پر  بلاضرورت کسی کے چہرے کی طرف دیکھتے  لوگ نظر آتے ہیں تو میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ روڈ پر چلتی ہوئی خواتین کو گھورتا دیکھ کر بہت سے مرد بھی بُرا محسوس کرتے ہیں، آپ بات کرنے کے دوران کسی کے چہرے کی طرف دیکھ سکتے ہیں مگر راہ چلتے، لفٹ میں کسی کو گھورنا قطعاً بد اخلاقی ہوتی ہیں، معاشرے میں آپ کے کسی بھی عمل سے اگر کوئی دوسرا انسان برا محسوس کرے تو آپ کو اپنے وجود پر شرمندہ ہونا چاہیے۔
میں کہنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ آپ کی وابستگی صرف آپ کے ووٹ کی حرمت کے حوالے سے ہونی چاہیے، کوئی لمبا ہے، ہینڈسم ہے، بدصورت ہے اس سے آپ کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا،اگر کوئی ہینڈسم ہے تو آپ کو اس سے کیا، آپ کیوں اپنی سیاسی جماعت کی محبت میں اپنے بچپن کے دوست کی تذلیل کرتے ہیں، آپ ایشوز پر بات کریں،  آپ اپنے رہنما سے عقیدت رکھتے ہیں تو اس کی کارکردگی پر بات کریں اور اپنی دلیل دیں۔
سوشل میڈیا پر پوسٹنگ کرنا میری پروفیشنل مجبوری ہے، ذاتی طور پر اگر میں نے اپنا کالم اور تحریریں سوشل میڈیاپر شیئر نہ کرنا ہوں تو مجھے یہ وقت کا زیاں لگتا ہے لیکن اکثر میری پوسٹ پر لوگ تشریف لاتے ہیں اور سطحی درجے کی باتیں شروع کر دیتے ہیں، وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ میں نے وہ بات کی ہے جو شاید ان کے موقف میں میل نہیں کھاتی، یا میں نے ان کے رہنما پر تنقید کی ہے، اگر عمران خان پر تنقید کرو تو پی ٹی آئی کے ٹرولز گالیاں نکالتے ہیں اور اگر نواز شریف پر تنقید کرو تو (ن) لیگ والے طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ میری سوشل میڈیا پر حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ جس موضوع پر لکھا ہے اگر اس پر کوئی بات ہو اور میرے پاس وقت ہو تو میں جواب دیتا ہوں۔ لیکن ایسے لوگ جو ذاتیات پر اترتے ہیں میں نے کبھی ان کو جواب نہیں دیا، لیکن آج موقع ہے تو میں انہیں بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ”بھاڑ میں جاؤ“۔ کہنا تو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن پھر کبھی سہی۔

تبصرے بند ہیں.