اپوزیشن جماعتوں کا بجٹ پر ردعمل

117

کوئی شک نہیں ہے کہ پچھلے سال کرونا کے باوجود جی ڈی پی گروتھ، صنعتی پیداوار، ایکسپورٹ، ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذرائع و اسٹاک ایکسچینج میں بہتری آئی ہے۔ مگر کرونا کی وجہ سے سال 21-22 میں اکنامی گروتھ پانچ فیصد اور چھ ارب کے قریب ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنے کی مکمل تیاری کی گئی ہے۔ جو یقینا مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے۔
اس کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ روزانہ کی تُو تُو میں میں، روزانہ کا سیاسی بھونچال اور سیاسی کشمکش سے دور رہا جائے۔ کیونکہ یہ سب معیشت اور کاروبار کو متاثر کرتے ہیں۔ جیسے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں ڈھائی گھنٹے کی تقریر کی شوباز شریف نے بجٹ پر بحث کو تھوڑا وقت دیا۔ لیکن زیادہ ٹائم اپنی خوبیاں اور اچیومنٹ گنوا کر اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہے۔ عمران خان کی ٹیم کی بے بنیاد خامیاں ایسے بیان کر رہے تھے۔ جیسے ابھی رو دیں گے۔ چند دن پہلے جو قومی اسمبلی میں ہلڑ بازی ہوئی ساری دنیا نے دیکھا۔ یہ کریڈٹ بھی وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کو جاتا ہے
پاکستان کے نیشنل ٹی وی چینل نے لائیو دکھایا۔ اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا یہ طریقہ کار ہوتا تھا بجٹ تقریریں ٹی وی پر نشر ہی نہیں ہوتی تھیں اپنی مرضی سے لائحہ عمل طے کرتے تھے۔ یاد رہے کہ ہر ایم این اے جو قومی اسمبلی میں آتے ہیں اپنی تنخواہوں کے علاوہ ہر سیشن کے دس ہزار لیتے ہیں اگر سیشن دس دن رہتا تو ایک لاکھ روپے کا چیک تیار ہوتا ہے۔ موجودہ بجٹ اجلاس اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم نے سستے بجلی کے منصوبے لگائے۔ کہ ایک این جی بیسٹ بجلی کے چار منصوبوں پر نیپرا کی فی کس میگا واٹ قیمت ساڑھے آٹھ لاکھ ڈالر تھی مگر مسلم لیگ ن فی کس میگا واٹ قیمت کو پانچ لاکھ ڈالر پر لے آئی۔ حالانکہ دنیا کے مختلف ممالک میں فی کس میگا واٹ بجلی کی قیمت دو لاکھ ڈالر پر تھی۔ سوال یہ ہے کہ نیپرا سے پوچھا جائے۔۔ کیسے آپ نے نو پرسنٹ پر کہا اور پانچ پرسنٹ پر کیسے ہوا۔ اصل میں بیوروکریسی ماردھاڑ میں شامل تھی۔ انکے دور میں مہنگے بجلی کے منصوبے لگے۔ مثال کے طور پر بہاولپور کے سولر پارک میں
اربوں روپے کے منصوبے میں صرف 18 میگا واٹ بجلی پیدا ہوئی لیکن وہاں پر 100 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ساہیوال میں چائنہ کی مدد سے کوئلے والے بجلی کے گھر لگائے گئے۔ اصل میں چین اپنے ملک میں خود کوئلے والے بجلی کے گھر فضائی آلودگی کی وجہ نہیں لگا رہا مگر پاکستان میں یہ لگایا گیا۔۔ یہ ہے انکی اچیومنٹ۔۔۔ اپوزیشن لیڈر نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر الزام لگایا کہ ڈی سی اور ڈی پی او کے ریٹ لگ رہے ہیں۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں حمزہ شہباز ڈی پی او، ڈی سی او اور کمشنر کے انٹرویو میں شامل ہیں ہوتا تھا اور کیسے لوگوں لگایا جاتا تھا کم گریڈ والے آفیسر کو بڑی پوسٹ پر ترقی دے کر یا ایڈیشنل چارج دیا جاتا تھا تو پھر ایسے بندے مرنے مارنے پر تل جاتے تھے اور ایسے آفیسر مخالفین پر پرچے بھی دیتے، ناجائز کام بھی کرتے تھے۔ میرا سوال ہے کہ بزدار حکومت پر سوال اٹھانے والے کون ہیں جن کا خود کا دامن داغدار ہے۔۔
حادثاتی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان کی معاشی گروتھ ریٹ برداشت نہیں ہو رہا وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی مہنگائی دوسرے ممالک سے زیادہ ہے اور جی ڈی پی بھی جعلی ہے۔ یہاں پر یاد دلاتی جاؤں کہ پاکستان میں مہنگائی 8.5فیصد ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2008 سے 2013 تک کیا کارکردگی رہی۔ پہلے سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد، دوسرے سال 11فیصد اور تیسرے سال 13.7 فیصد رہی۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس حکومت کی کارکردگی یہ ہے وہ حکومت پر الزام لگا سکتے ہیں صحیح راستہ نہیں دکھا سکتے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ریکارڈ مہنگائی ہونے کی وجہ سے تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے مہنگائی پر قابو پا لیا ہے۔ دس فیصد سے مہنگائی کم ہے جس کی وجہ سے دس فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔۔ بلاول بھٹو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو لوگوں کے لیے وسیلہ حق سے تشبیہ کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم بلاول بھٹو سے سوال کرتے ہیں کہ اس پروگرام کے بارہ لاکھ ملازمین میں سے زیادہ تر لوگ پیپلز پارٹی کے ورکرز کو وظیفے لگائے گئے اور فرزانہ راجہ ڈیڑھ کروڑ روپے لے کر کہاں مفرور ہیں۔۔۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے چارٹر آف اکنامک اور حکومتی بنچوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کی اور سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا مشورہ دیا۔۔ میرے خیال میں یہ صرف سیاسی بیان ہے اگر واقعی کام کرنا چاہتے ہیں تو انکو کون روک رہا ہے۔ اپوزیشن کتنے بل لے کر آئی ہے جو لوگوں کی فلاح کے لیے ہیں جس پر حکومت نے ساتھ نہیں دیا۔۔۔ پاکستانی قوم شہباز شریف سے پوچھنا چاہتی ہے کہ آپ نظام احتساب پر حکومت کا کیسے ساتھ دیں گے جو خود احتساب کے کٹہرے میں کھڑا ہے وہ کیسے ایک شفاف نظام پر بات کر سکتا ہے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان کا تیسرے سال کا وفاقی بجٹ بہت چیلنجز کا حامل ہے جس میں ترقیاتی بجٹ میں 40 فیصد اضافے کے بعد 900 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے نو سو ارب کی رقم لگانے کے لیے دو بڑے اہم فیصلے کئے ہیں۔۔ ایک تو ٹیکنالوجی کا استعمال ہے کہ جو منصوبے شروع ہونگے اس کو ڈیجیٹلائز سیٹلائٹ سے چیک کیا جائے گا اس کے حکومت نے سپارکو کے ساتھ ایگریمنٹ سائن کیا ہے کہ ہر پروجیکٹ کر ہر چار دن کے بعد سیٹلائٹ سے آپ ڈیٹ کیا جائے گا۔۔ اس سے پہلے پراجیکٹ کی آپ ڈیٹ لینے کے لیے پی ڈی آفیسر کو بھیجا جاتا تھا جو کم از کم چھ ماہ کا ٹائم لگاتا تھا اب یہ چار دن میں کام ہو گا۔ دوسرا یہ کہ مانیٹرنگ اینڈ ایولیشن پروگرام ترتیب دیا ہے جس میں گراؤنڈ پر پتہ لگایا جائے گا آیا کہ پیسہ لگ بھی رہا ہے، سوئز لینڈ کے بینکوں میں جمع تو نہیں ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت اپنے دور  کا ایک اور متوازن اور عوام دوست بجٹ دینے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اپوزیشن کے پاس اس پر تنقید کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ وہ بلاوجہ جھوٹ کا سہارا لے کربحث کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن ناکام ہوتی ہے۔اپوزیشن لیڈر ہو یا اس کے باقی حواری بجٹ پر بحث کے نام پر شعبدہ بازی نہ کریں اور اپنی حسرتوں پہ آنسو بہاکے سوجائیں۔

تبصرے بند ہیں.