صوبائی وزیر سعید غنی کا طلبہ کو رعایتی نمبروں سے پاس کرنے کا اعلان

149

کراچی: سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے اعلان کیا ہے کہ جن بچوں کے امتحانات میں 33 فیصد نمبر ہوں گے، انہیں رعایتی نمبر دے کر پاس کر دیا جائے گا۔

کراچی میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ کوشش کی ہے جب بھی موقع ملے تعلیمی اداروں کو کھولا جائے کیونکہ سندھ میں لوگوں کو انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے جس سے وہ آن لائن تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔

سعید غنی نے کہا کہ پہلی، دوسری اور تیسری جماعت کی ہر سال ایسسمنٹ ہوتی ہے پھر انہیں پرموٹ کیا جاتا ہے جبکہ چوتھی جماعت کے بچوں کو عموماً امتحانات لے کر پاس کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ2 سال میں بچوں کو پروموٹ کیا گیا، تاہم اس سال فیصلہ کیا بچوں کے امتحانات لئے جائیں۔ ہم نے امتحانی پیپرز کے فارمیٹ کو تبدیل کرکے ایم سی کیوز زیادہ کر دیئے ہیں۔ لمبے سوالات کو چھوٹا اور امتحان لینے کا وقت بھی کم کر دیا ہے۔

وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ بچوں کی تعلیم کا کورونا کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ کوشش ہے کہ جیسے ہی کورونا کا مسئلہ ختم یا کم ہوتا ہے، سکولز کو پوری طرح فعال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے ایسی سرکاری بلڈنگز جنہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے انہیں درست کیا جائے۔ اس وقت سندھ حکومت کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 3 لاکھ ملازمین ہیں۔ ہمارے پاس ہزاروں کی تعداد میں شکایات روزانہ آتی ہیں۔ جس محکمے سے متعلق شکایات آتی ہیں، انہیں دیکھا جاتا ہے اور حل نکالا جاتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.