بھارت میں دریا کے پانی میں بھی کورونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف

146

احمد آباد ( نیو نیوز) بھارت میں کورونا انفیکشن کے حوالے سےظاہر کیا گیا خدشہ سچ ثابت ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ پانی کے ذریعے کورونا وائرس کا پھیلاؤ ممکن ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست گجرات میں واقع دریائے سابرمتی میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد لوگ دہشت زدہ ہیں کہ کہیں انفیکشن تیزی کے ساتھ پھیلنا نہ شروع ہو جائے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ احمد ۤآباد کے دو تالابوں میں بھی کورونا وائرس پائے جانے کی بات سامنے آئی ہے جس نے لوگوں میں مزید خوف پیدا کر دیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق گجرات کےشہر احمد آباد کے درمیان سے نکلنے والے دریائے سابرمتی کے پانی کانمونہ لیا گیا تھا جس میں 25 فیصد میں کورونا کا انفیکشن ملا ہے۔

علاوہ ازیں احمد آباد کے دو بڑے تالابوں کانکریا اور چندولا میں بھی کورونا وائرس کے عناصر پائے گئے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دریائے سابرمتی سے پہلے دریا ئےگنگا سے جڑے الگ الگ سیوریج میں بھی کورونا وائرس پایا گیا تھا لیکن اب دریاؤں میں کورونا انفیکشن ملنے سے عوام کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کی بھی فکر میں اضافہ ہو گیا ہے۔

خبروں کے مطابق آئی آئی ٹی گاندھی نگر نے احمد آباد واقع دریائے سابرمتی سے پانی کے نمونے لیے تھے۔ ان پر ریسرچ کیا گیا اور پروفیسر منیش کمار کے مطابق جانچ کے دوران پانی کے 25 فیصد نمونوں میں کورونا وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔

اس ریسرچ کے حوالے سے آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے اَرتھ اینڈ سائنس شعبہ کے پروفیسر منیش کمار نے مزید بتایا کہ پانی کا یہ نمونہ دریاسے 3 ستمبر سے 29 دسمبر 2020 تک ہر ہفتہ لیا گیا تھا۔نمونہ لینے کے بعد جانچ کرنے پر پتہ چلا کہ اس میں کورونا وائرس کا انفیکشن موجود ہے۔منیش کمار کا کہنا ہے کہ دریائے سابرمتی سے 694، کانکریا تالاب سے 549 اور چندولا تالاب سے 402 نمونےلیے گئے تھے جس کی جانچ کی گئی۔

ریسرچ کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ کورونا وائرس قدرتی پانی میں بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کے پیش نظر محققین کا ماننا ہے کہ ملک کے سبھی قدرتی آبی ذرائع کی جانچ کی جانی چاہیے، کیونکہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران وائرس کے کئی خطرناک میوٹیشن دیکھنے کو ملے ہیں اور اگر احتیاطی اقدامات نہیں کیے گئے تو آنے والے دن خطرناک ہو سکتے ہیں۔

 

 

تبصرے بند ہیں.