صحافت کو گندہ کرنے میں کس کا ہاتھ ہے ؟

87

پینل انٹرویو: ہمایوں سلیم، اسدشہزاد

آج میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ صحافت کے میدان میں جتنی محنت، جتنی لگن کے ساتھ کام کر کے عزت ومقام حاصل کیا شاید میں نے کبھی اس بارے میں سوچا نہیں تھا، مجھے ظفر اقبال نگینہ کو بنانے میں تقریباً پانچ دہائیوں کا سفر کرنا پڑا اور میری خوش قسمتی کہہ لیں کہ نسیم حجازی، مجیب الرحمن شامی، مجید نظامی، میرخلیل الرحمن، میر شکیل الرحمن، ضیاء شاہد جیسے بڑے بلندپایہ کے صحافیوں کے ساتھ جنہوں نے مختلف ادوار کے حوالے سے بڑی تاریخ رقم کی، ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور ان سب سے آگے جا کر دیکھتا ہوں تو پھر آغا شورش کاشمیری جن کی تاریخ بھی گواہی دیتی ہے ان سے بہت سیکھا۔ ’’چٹان‘‘ کی طرح چٹان اور مضبوط حوصلوں اور مضبوط کردار کے اس بڑے نام کے گھر رہنے کا اعزاز بھی ملا۔ حیران کُن بات یہ ہے کہ سن 70ء کی دہائی سے میرا سفر شروع ہوتا ہے۔ اس وقت کون بڑا تو کون چھوٹا ہونے کا شعور میرے اندر نہیں تھا، مجھے تو اس وقت علم ہوا جب میں نے بہت کچھ سیکھنے، بہت کچھ لکھنے اور تجربات کی بھٹی سے نکلنے کے بعد احساس ہوا کہ میں تو کس قدر خوش نصیب تھا جو اتنے بڑے کرداروں سے سیکھنے کے بعد ظفر اقبال نگینہ بن گیا۔

جو دور ہم نے دیکھا، جس دور سے ہم گزرے وہ پاکستان کی صحافت کے بہت خوبصورت دور تھے، قلم کی عزت اور اس کا خوف تھا، لوگ ڈرتے تھے، ادارے ڈرتے تھے، حکمران ڈرتے تھے، جیلیں تھیں، کوڑے تھے، سزائیں تھیں اور صحافت ہی حکومتوں کو بناتی اور توڑتی تھی اور ہم فخر کے ساتھ کہتے تھے کہ ہم صحافتی ہیں۔

خبر کی تلاش میں بھوک کاٹا کرتے، دور دراز علاقوں میں جاکر فیچر لکھا کرتے، ایک ایک فیچر پر ہفتوں لگ جاتے، گھر سے آنے کا وقت معلوم تھا کہ کس دن واپس جانا ہے یہ معلوم نہیں ہوا کرتاتھا، شاید وہ دور ہی بننے اور بنانے کی جستجو کا دور تھا۔

میں نے اٹھائیس گرفتاریاں دیں، کئی مقدمات میں نامزد ہوا، مگر سچ لکھا، سچ کا ساتھ دیا، نہ بِکا، نہ جھکا، قلم کو ہمیشہ بلند رکھا، مجھے اتنا پتہ تھا کہ میں نے زندگی میں بڑے گول کرنے میں، بڑے رنز بنانے میں بڑا کشت کاٹنا ہے، اور پھر ایسا ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بطور فیچر رائٹر جو زندگی، عزت، شہرت، نام، وقار دیا وہ بہت کم خوش نصیب لوگوں کا مقدر بنا۔

پیارے پڑھنے والو!

ظفر اقبال نگینہ نے بطور فیچر رائٹر پاکستانی صحافت کو جو کہانیاں، داستانیں، واقعات دیئے وہ کوئی اور نہ دے سکا، گو ان سے پہلے ایک قابل احترام نام ریاض بٹالوی جن کے بارے میں بڑی روایات منسوب ہیں اور وہ ہمارے اساتذہ کی فہرست میں سرفہرست ہیں، ان کے بعد دوسرا نام آتا ہے، ظفر اقبال نگینہ کا، جو آج تک آٹھ سو فیچرز لکھ کر ایک اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ میرے نزدیک ہماری صحافت کا سب سے بڑا گواہ، بڑا نقاد، جس نے بہت اُتارچڑھائو دیکھے وہ بشر ضرور ہے اس میں بشری کمزوریاں بھی ہوں گی مگر اس کی صحافتی خوبیاں اتنی ہیں کہ اس بشری کمزوری کے بارے کوئی بھی نہ جاسکا، وہ خودپسند ضرور ہے ،مگر خود پرست نہیں، اگر اس بشر کے بارے میں ایک بات کہہ کر اپنی تمہید کا اختتام کروں کہ وہ اپنے دور کا ارسطو تھا کہ خبر کو تلاش کرنا، خبر کے اندر اُترنا اور پھر اس کو تراش کر لفظوں میں پُرونا، یہ اس کا خوب ڈھنگ جانتاتھا، یہی وجہ ہے کہ قدرت نے اس کو تحریر پر مکمل عبور دے رکھا ہے۔ عمریں بیت جاتی ہیں، نام یونہی نہیں بن جاتے، انتھک محنت، انتھک لگن، انتھک جذبے جو وقت کے ساتھ کئی خوش نصیبوں کو ظفر اقبال نگینہ بنا جاتے ہیں۔

ہمایوں سلیم کی خوش قسمتی کہ ان کے اساتذہ میں بڑا نام ظفر اقبال نگینہ کا لکھا جاتا ہے اور میری خوش نصیبی کہ میرا شمار ان کے ابتدائی ادوار سے شروع ہونے والے ساتھ سے ہے۔ گزشتہ دنوں ہمایوں سلیم ماضی کی یادوں کو کرید رہے تھے کہ ظفر اقبال نگینہ کا نام ہم دونوں کو پرانی یادوں میں لے گیا اور پھر وہ یادیں تازہ کرتے کرتے ہم نے ظفر اقبال نگینہ سے ایک نشست کا اہتمام کر بیٹھے۔ گو ان سے کی گئی ملاقات میں تشنگی ابھی باقی ہے، بہت سے سوالات ابھی بھی نامکمل ہیں، بہت سی روایات ابھی بھی پوشیدہ ہیں، زندگی رہی تو پھر ایک اورنشست میں بہت کچھ باقی جاننا چاہیں گے، آیئے ذیل کے کالموں میں ملک کے نامور صحافی اور فیچر رائٹر ظفر اقبال نگینہ سے کی گئی ملاقات کی روداد پڑھتے چلیں، ہم نے پوچھا!

آزادکشمیر کے سنگلاخ پہاڑوں سے نکلنے والا ظفر اقبال نگینہ پاکستان کی صحافت کے اُفق پر کیسے نمودار ہوا اور پھر ایک بڑے نام ریاض بٹالوی کے ساتھ موازنہ کے طور پر پیش ہونے والا ظفر جانتا تھا کہ وہ اتنے پہاڑ عبور کر پائے گا؟

بہت کچھ کرنے کے بعد آج سمجھتا ہوں کہ زندگی بہت تلخ، بہت حسین، بہت مشکل اور بہت آسان ہے، ہم جس زمانے میں آئے ، اس زمانے کے لوگ ، اس زمانے کے استاد اور شاگرد کچھ اور ہی طرح کے تھے۔ آزادکشمیر کے سنگلاخ پہاڑوں کا آپ نے جس طرح ذکر کیا وہ میرا فخر ہیں، میں کتنا بڑا اور ہو جائوں، میری جتنی مزید زندگی ہو جائے وہ انہی پہاڑوں میں گزرے گی، کہ میں اپنی شہر کی روایات سے جڑا ہوا ہوں اور کس قدر یہ اچھی بات ہے کہ میں نے صحافت میں جو نام کمایا وہ انہی پہاڑوں کے ساتھ منسوب ہوچکا ہے۔

کچھ چیزیں انسانی وراثت کا حصہ ہوتی ہیں اور کچھ زندگی کے حادثات، ان وراثتوں سے بہت دور لے جاتے ہیں، صحافت اس زمانے میں جب آپ نے اس میں قدم رکھا اپنے زوروں پر تھی، یہاں روایتی سوال کروں گا کہ کیسے آئے، کوئی آئیڈیل تھا یا پھر اچانک ایک حادثہ آپ کو اخباری دُنیا میں لے آیا؟

آپ اس کو حادثہ نہیں بلکہ گھر سے جڑی روایات کا ایک سلسلہ کہہ سکتے ہیں، جس کا ذکر آگے جا کر ہو گا، البتہ آپ کے سوال کے مطابق یہ حادثہ 8مئی 1970ء میں ہوا، اگر میں آپ کے سوال کی زبان میں جواب دوں (قہقہہ)، ان دنوں راولپنڈی کا ایک معروف اخبار روزنامہ ’’تعمیر‘‘ شائع ہوتا تھا، میں نے آزادکشمیر کوٹلی سے بطور نمائندگی اپنی صحافت کا آغاز کیا، اب میری یہ خوش قسمتی کہہ لیں کہ اس اخبار کے ایڈیٹر نسیم حجازی صاحب جو بہت بڑے پروفیشنل انسان تھے اور میری صحافت کی ابتدا اسی پروفیشنل انسان کے زیرسایہ ہوئی، تو دلچسپ بات یہ ہے کہ 8مئی کو جوائننگ دی اور 9مئی کو میری پہلی خبر ہی میری پہلی گرفتاری کا موجب بن گئی۔ نیا سفر، نئی ابتدا اور پہلی گرفتاری، مجھے ایک بڑے تجربے کے اندر لے گئی۔ یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جب میری ضمانت پر 6ہزار سے زائد لوگ مجھے گھر تک چھوڑنے آئے تو میری ہمت اور جذبہ بلندیوں پر پہنچ گیا، پھر یہی جذبہ میرے اس فیصلے کو مزید تقویت دے گیا کہ صحافت ہی میرا اوڑنا بچھونا ہے۔

آپ کے والد صاحب کیا کرتے تھے؟

میرے والد آرمی میں میجر تھے، وہ اس زمانے میں پاکستان کے بڑے اخبارات کے علاوہ معروف رسائل ہفت روزہ ’’زندگی‘‘، ’’افریشیا‘‘ اور ’’چٹان‘‘ میں مضامین لکھا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ماہانہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ اور ہفت روزہ ’’حقائق‘‘ میں وہ جنگی مضامین لکھا کرتے۔ ان کے مضامین نے بھی جہاں میرے اندر صحافت میں جانے کے شوق اور راستے ہموار کیے۔ اسی دوران سن 70ء سے 75ء تک مختلف اخبارات کے ساتھ میری قلمی وابستگی رہی۔ پھر میں نے اپنے اخبار کے لیے ڈکلیئریشن لے لیا اور کوٹلی سے روزنامہ ’’سرزمین‘‘ نکالا اور پھر 15اپریل 1976ء میں اس اخبار کا ڈکلیئریشن منسوخ کردیا گیا کہ بھٹو دور کا زمانہ تھا اور وہ کشمیر کونسل کے چیئرمین بھی تھے، اس فائل میں بھٹو نے ایک سپیشل نوٹ لکھا جو آج بھی آپ کی صحافتی اور حکومتی فائل میں ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ظفر اقبال نگینہ کے نام سے آزادکشمیر میں کوئی ڈکلیئریشن جاری نہیں ہو گا، اسی دوران میرا محترم استاد مجیب الرحمن شامی سے رابطہ ہوا اور انہوں نے مجھے لاہور بلوالیا۔ لاہور بلوانے میں عبدالقادر حسن کا بھی بڑا ہاتھ تھا کہ میں نے یہاں آتے ہی ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘ کو جوائن کرلیا اور آپ کو سُن کر حیرت ہو گی کہ پوری صحافتی زندگی کے دوران میری 29گرفتاریاں ہوئیں اس لیے کہ میں ایوان اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو کبھی پسند نہیں آتا تھا۔ ان کے بارے میں میری جتنی بھی تعمیری تنقید ہوتی تھی گو میری پازیٹو اپروچ تھی مگر اقتدار کے فرعونوں کے آگے وہ بغاوت تصور ہوتی اور وہ ایسی سوچ کو برداشت بھی نہیں کرتے۔

بطور فیچر رائٹر آپ نے کب لکھنا شروع کیا؟

نمائندگی کے شوق کے کوئی سات آٹھ سال کے بعد پھر میں نے سوچا کہ اب اپنی صحافت کے رخ کو موڑوں، یہ بات ہے 79ء کی، روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کو باقاعدہ جوائن کیا۔ ان دنوں مجید نظامی صاحب کے ساتھ میرا بڑا سلسلہ تھا۔ میرا خیال ہے کہ آج میں جس مقام پر ہوں اور میں نے جتنا نام، شہرت کمائی اس میں ان کی شفقت، مہربانی اور صحافت سے میری لگن میں ان کا بڑا کردار ہے اور یہ میرا آج بھی ایک بڑا اعزاز ہے۔ تقریباً پانچ سال کے بعد میں نے سن 85ء میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ جوائن کرلیا۔

اب تک آپ نے کتنے فیچرز لکھے؟

مجموعی طور پر میں نے مختلف شعبہ جات کے حوالوں سے آٹھ سو فیچر لکھے۔

کیا یہ مشکل کام نہیں تھا فیچر لکھنا؟

اگر کل اور آج کا موازنہ کروں تو پھر میرے نزدیک صحافت میں مشکل ترین اگر کوئی شعبہ ہے تو وہ فیچر رائٹنگ کا ہے۔ اب تو ہر کوئی عام سے مضمون کو بھی فیچر کا نام دے ڈالتا ہے جبکہ فیچر رائٹنگ کا تو آج کے لوگوں کو علم نہیں ہے کہ اس کی بنیادی صحافت کیا ہے، کوئی بڑا چھوٹا اخبار دکھا دیں جس میں فیچر پر کوئی کام ہوا ہو، اس لیے کہ یہ محنت طلب کام ہے۔ وہ دور بھی بڑے کمال کا تھا، لوگ کمال کے تھے، لکھنے اور لکھانے والے کمال کے تھے اور محنت کرنے والوں نے ہی فیچر رائٹنگ میں بڑے نام پیدا کیے۔

لکھے چند یادگار فیچرز کون سے تھے جو آپ کی وجہ شہرت بنے؟

میں نے جنگ میں ایک لیبارٹری ٹیسٹ کے حوالے سے فیچر لکھا تھا جس میں نامور لیبارٹریوں نے مجھے حمل زدہ عورت قرار دے دیاتھا۔ میرے علم میں آیا کہ یہاں غلط رپورٹس بنتی ہیں، اس پر میں نے فیچر لکھا، پھر میر شکیل الرحمن کے ایک دوست کی بیٹی کے ٹیسٹ رزلٹ بھی غلط دیئے گئے، وہ شکایت لے کر میر صاحب کے پاس گئے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ دیکھیں کیا معاملات ہیں۔ میرے اس فیچر پر دونوں لیبارٹریز سیل ہو گئیں۔ میرا یہ وہ فیچر تھا جس پر پورے ملک میں لوگوں کا لیبارٹریز پر سے اعتبار اُٹھ گیا گو یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے مگر اس پر کوئی نظر نہیں رکھتا کیونکہ ہمارے ہاں غلط کام ہی بڑی کمائی کے سلسلوں کی طرف چل نکلے ہیں۔ دوسرا فیچر جو بڑا شہرت یافتہ ہوا وہ چودہ کلو سونے کا تھا، یہ واقعہ وادی کوہستان کے پٹن کے علاقہ سے منسوب ہے۔ اسی فیچر کے لیے جب میں وہاں گیا تو غلطی سے میں علاقہ غیر میں داخل ہو گیا، اگلے روز جرگہ نے فیصلہ سنایا کہ اس کو گولی مار دی جائے، جب یہ خبر راولپنڈی میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے پاس پہنچی تو شمس رضوی مرحوم نے سرحد کے وزیراعلیٰ سے رابطہ قائم کیا، یوں میری رہائی عمل میں آئی۔

ریاض بٹالوی صاحب کے بعد آپ کا نام آتا ہے کبھی ان سے رابطہ ہوا؟

یہ سن 70 یا 72ء کی بات ہے میں ان کو اس زمانے میں بہت پڑھا کرتا تھا،ان دنوں میری یہ خواہش ہوتی کہ جہاں میں اس طرح کے فیچرز کروں اور دو قدم اور آگے جا کر لکھوں، مگر اس زمانے میں اپروچ نہیں تھی کہ کشمیر کے پہاڑوں میں بیٹھا ایک شخص یہ عزم بھی لے کر چلا تھا، یہ میں نے سوچا ضرور تھا مگر راستہ نہیں مل رہا تھا۔

اس زمانے میں یہ فیچر بریکنگ نیوز ہوا کرتے تھے؟

یہ حقیقت ہے کہ ایک فیچر پر پورا پاکستان متوجہ ہو جاتا تھا۔ آج جب اپنی 40سالہ فیچر رائٹنگ کرنے کے بعد صحافیوں کو ریڈ کرتے اور چھاپے مارتے دیکھتا ہوں تو یہ بات مجھے ماضی میں لے جاتی ہے۔ اس زمانے میں پرنٹ میڈیا کا ایک لفظ بھی بہت مان رکھتا تھا۔ اب تو آپ مضمون کے اوپر صفحے کالے کرلیں کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔

پہلا فیچر کس سن میں لکھا؟

سن 70 میں روزنامہ ’’تعمیر‘‘ میں پہلا فیچر لکھا اور اس پر تین سو روپے کا انعام نسیم حجازی صاحب نے دیاتھا۔ اس زمانے میں تین سو روپے آج کے ہزاروں روپے کے برابرہوا کرتے تھے۔

فیچر کیاتھا؟

وہ یہ تھا کہ میں ایک عورت ہوں اور مجھے ان کے نرغے سے بچایا جائے۔ جب وہ رپورٹ شائع ہوئی تو اسی روز ہمارے آفس کے باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور کلہاڑیاں تھیں۔ ان کا ایک ہی سوال تھا کہ بتائیں کہ وہ بندہ اور بچی کدھر ہے۔ اس پر نسیم حجازی صاحب نے کہا کہ میں نے یہ فیچر آپ سے اس لیے کرایا ہے کہ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا لوگوں میں رسپانس یا کرنٹ ہے مگر میرے زیادہ فیچرز جو بہت شہرت پا گئے وہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں لکھے گئے۔

آپ نے زیادہ فیچرز کرائم پر کیے، اس کی وجہ کیا تھی؟

آپ میری اس بات پر حیران ہوں گے کہ میں نے تیرہ برس کرائم پر بھی لکھا اور ایک بار بھی کسی تھانے نہیں گیا۔

فیچر رائٹنگ کیا ہے؟

میں ایک ایشو لے کر اپنے سورسز سے انفارمیشن لیتا اور پھر اس کام پر لگ جاتا۔ یہ ایک مشن ہے، ٹیبل ورک نہیں کہ آپ نے سنی سنائی باتوں پر کہانی لکھ ڈالی۔

مشکل راستے بھی آتے ہیں؟

اس شعبے میں وہی بندہ رہ سکتا ہے جو کسی کا کانا نہ ہو، میں نے آج تک کسی کو نہ تو سیلوٹ کیا، نہ کام کے حوالے سے تھانے گیا۔ میرے نزدیک جب تک صحافی کے اندر خودداری نہیں ہو گی وہ فیچر نہیں لکھ پائے گا۔ پنجابی میں کہتے ہیں کہ میں کبھی کسی کے ’’تھلے‘‘ نہیں لگا۔ مجھے اس دوران نہ کبھی خوف پیدا ہوا، نہ ڈر لگا، لوگ میرے پاس آتے تھے کہ فلاں نے فلاں کے ساتھ یہ کردیا تو میں اکیلا ہی ان کے ساتھ جایا کرتا تھا۔

اب کیا دیکھ رہے ہیں کہ آپ نے طویل عرصہ کام کیا؟

اب تو زمانہ بدل گیا، لوگوں کی پروازیں بدل گئیں۔ اب تو اس پروفیشن میں بڑے بڑے کھلاڑی ایسے آگئے کہ بس وہ بڑے نام ہی ہیں!ٹیلی ویژن نے ان کو شہرت تو دے دی مگر ان کے قلم لفظ لکھنے سے بھی محروم ہیں۔

آپ نے زیادہ سروس روزنامہ ’’جنگ‘‘ کو دی؟

میں نے دو سال کراچی میں کام کیا۔ اس کے علاوہ کوئٹہ، پشاور میں بھی رہا۔ زیادہ عرصہ جنگ ہی میں گذرا۔

میرشکیل الرحمن کا بڑا اعتماد تھا؟

وہ مجھ سے ہمیشہ سپیشل اسائنمنٹ کرایا کرتے تھے۔ میں نے ناردرن ایریاز کے تمام علاقہ جات میں انکی سپیشل اسائنمنٹ پر فیچرز کیے اور میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ کا واحد بندہ ہوں جس نے پورے ملک میں جاکر فیچرز کیے، اگر میر شکیل الرحمن کا تعاون اور ساتھ نہ ہوتا تو شاید اس قدر نام نہ کماپاتا۔

نسیم حجازی بہت بلندنام، کردار اور صحافت کا علمبردار، آپ کی ابتدا ان کے ساتھ ہوئی، ان کی وجہ شہرت کیاتھی؟

آپ اس بات کو اتفاق کہہ لیں کہ آج بھی میری تحریروں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان میں نسیم حجازی کا رنگ دکھائی دیتا ہے، انہی سے تو لکھنا سیکھا، جرات سیکھی، ہمت پائی، حوصلہ ملا، بہت کام کرنے کے بعد آج ایک بات سوچتا ہوں، ان کا اس زمانے میں جو قدکاٹھ تھا، کاش مجھے اس زمانے میں اس قدر شعور ہوتا، کہ میں کتنے بڑے نام کے سایہ تلے کام کررہا ہوں، تو میں روزانہ ان کے پائوں چومتا۔

ایک اور نام آغا شورش کاشمیری … ایک تحریک، ایک بڑا قلم، ایک بلند آواز یہ اعزاز کسی کسی کا مقدر بنا کہ اس نے آغا جی کے ساتھ کام کیا،کیسے چٹان رکھنے والے جذبوں سے لبریز انسان کے آفس ہفت روزہ چٹان تک پہنچے؟

میرے والد محترم ’’چٹان‘‘ میں مضامین لکھا کرتے تھے۔ اس زمانے میں ’’چٹان‘‘ کی قیمت پچاس پیسے ہوا کرتی تھی۔ آزادکشمیر میں ’’چٹان‘‘ میرے والد کے پاس آتا اور وہ مجھے کہتے کہ فلاں فلاں گھروں میں دے آئو۔ یوں میں نے اس ادارے کی سرکولیشن منیجری کا کام بھی کر ڈالا۔ ’’چٹان‘‘ اس قدر پاپولر تھا کہ لوگ دو دن کے بعد پوچھنا شروع ہو جاتے کہ کب آئے گا۔ آخر اس میں کیا چیز ہے یہ سوچ کر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ انہی دنوں والد صاحب وفات پا گئے تو میں نے خود ’’چٹان‘‘ کے آفس جانا شروع کردیا۔ ایک دن مجھے کہا گیا کہ آغا جی آپ سے ملنا چاہتے ہیں، پھر بات وہاں آجائے گی کہ نسیم حجازی صاحب کتنے بڑے تھے، ان دنوں مجھے یہ شعور نہیں تھا۔ اب پھر آغا جی سے رابطہ ہوا تو یہ علم نہیں تھاکہ یہ تو ان سے بھی بڑا نام ہے۔ آج جب ان دو بڑوں کے ساتھ خود کو محسوس کرتا ہوں تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ اتنی بڑی ہستیوں کے سایہ تلے میں نے لفظ لکھنا شروع کیا، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی شفقت اس قدر بڑھی کہ وہ مجھے اپنے گھر لے جاتے اور ان کے بیٹے مشہود کاشمیری اور مسعود شورش یہ دونوں اس وقت میرے میزبان بھی ہوا کرتے، کئی دفعہ تو ہفتہ ہفتہ آغا جی کے گھر میں رہتا۔

کیا جانا ان کے بارے میں؟

ایک جرأت مند، دلیر، بہادر، حکمرانوں سے ٹکر لینے والا، باحوصلہ اور اپنی بات پر قائم رہنا، یہ تھے آغا شورش کاشمیری، مجھے ان کے بارے میں لوگوں کی رائے سے کوئی تعلق نہیں، مگر میں آغا جی کو ’’چٹان‘‘ کے حوالے سے دیکھا کرتا تھا اور ’’چٹان‘‘ ایسا آئینہ تھا جس میں مجھے آغا شورش نظر آتے تھے۔ ان کی ذات کو کبھی نہیں دیکھا کہ ان کا ایک ایک لکھا لفظ چٹان کا نام تھا اور بات کو اگر اس سے آگے لے کر چلوں تو پھر ان کا بڑا قدم ختم نبوت کی طرف تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے بہت کام کیا اور وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اس جنگ میں مصروف عمل رہے۔ وہ جذباتی وابستگی کے ساتھ سانس درسانس ایمانی جذبوں کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔

اب پھر ایک سوال مجیب الرحمن شامی صاحب کے بارے میں کہ وہ بھی تو آپ کے استاد ہیں؟

میں نے پہلے عرض کیا کہ شامی صاحب ہی مجھے لاہور لائے تھے، یہ غالباً 15اپریل 1975ء کی بات ہے جب بھٹو نے آزادکشمیر کو فتح کرنے کے لیے سردار عبدالقیوم کے خلاف ایس ایف ایس کا آپریشن کیا تو ان کے ساتھ میری بھی گرفتاری ہو گئی اور پھر 28دن کے بعد میری رہائی ہوئی تو اس زمانے میں شامی صاحب نے میرے ساتھ پہلی ملاقات کی اور انہوں نے ’’زندگی‘‘ کے لیے میرا پہلا انٹرویو کیا۔ انہی دنوں ’’چٹان‘‘ میں میں نے لکھنا شروع کردیا تھا۔ ان دنوں ان کی میرے اوپر خاص محبت رہی۔ وہ لکھنے کے حساب سے واجبی الائونس بھی دیا کرتے تھے۔ ’’زندگی‘‘ کا باقاعدہ کارکن کبھی نہیں رہا، میں نے ان سے یہ بات ضرور سیکھی کہ بندے کو کیسے ثابت قدم رہنا چاہیے، اسی دوران انہوں نے اپنے شاہی قلعے میں گزارے قید کے دنوں کی باتیں بتائیں کہ بھٹو نے کس طرح ان کو گرفتار کیا اور بتایا کہ بھٹو نے مجھے کہا کہ اپنی روش بدلو، تو جب میں نے انکار کیا تو انہوں نے کہا کہ آج تمہارے گھر میں کسی عورت کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ انہوں نے مجھے بے بس کرنے کا ہر حربہ استعمال کر ڈالا مگر میں نے ایک ہی جواب دیا کہ آپ کی حکومت نے جو کرنا ہے کرلے، میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، یعنی میں تو اس حد تک بھی قربانی دینے کو تیار ہوگیا تھا، مگر میں نہ جھکا اور نہ میں نے معافی مانگی، لیکن آج میں اس مجیب الرحمن شامی میں اس زمانے کا مجیب الرحمن شامی تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ مجھے نہیں ملتے۔ آج کے شامی صاحب تو وہ شامی صاحب ہی نہیں رہے۔ وقت نے شاید ان کے اس زمانے کے موقف کو بہت کمزور کردیا اور آج ان کی زندگی کا نہ تو وہ سفر رہا نہ مشن، اب چونکہ دوڑ کمرشل ہو گئی ہے اور پھر کمرشل ازم میں پیسہ تو کمزور کرہی دیتا ہے۔

نسیم حجازی اور آغا شورش کاشمیری جیسے لوگ تو کمزور نہیں ہوئے؟

اس وقت بھی بہت سختیاں، پابندیاں، جیلیں، گرفتاریاں بہت ہوتی تھیں۔ آج تو ہم حالات کو فیس کر لیتے ہیں، اس زمانے میں فیس کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوا کرتی تھی۔ میں نے میر خلیل الرحمن اور میر شکیل الرحمن کو کئی بار اپنے موقف پر ڈٹے دیکھا۔ اس زمانے میں لکھے میرے دو تین فیچرز ایسے تھے جن میں میرخلیل الرحمن نے بہت سٹینڈ لیا اور میرا بھرپور ساتھ دیا اور میں شاید واحد فیچر رائٹر ہوں کہ میں نے جتنے بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا ان سے انعام ضرور ملا۔ جب مولانا مفتی محمود پر قاتلانہ حملہ ہوا،حملہ کرنے والے کا نام روشن تھا۔ یہ وہ روشن تھا جو بھٹو صاحب کے کیس میں پیش ہوا تھا کہ نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل میں نے کیا تھا۔ میری یہ تحقیقاتی رپورٹ ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘ میں عبدالقادر حسن نے شائع کی۔ اس پر مجھے انہوں نے پانچ سو روپے انعام دیا۔ اسی طرح میرخلیل الرحمن نے راولپنڈی میں بلاکر ایک تقریب میں مجھے اپنا قلم انعام میں دیا جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے اور ان کے یہ الفاظ تھے کہ آج تم میرے قلم کے حق دار ہو گئے ہو اور اس تقریب میں میر جاوید الرحمن بھی موجود تھے۔

جنوبی افریقہ کیخلاف جیت ملنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ بابراعظم نے بتا دیا
جہاں تک میر شکیل الرحمن کا تعلق ہے تو میرا یہ دعویٰ آج بھی ہے کہ ان جیسا پروفیشنل بندہ صحافت کے آج کے دور میں نہ جنم لے سکا اور نہ آگے جا کے لے سکے گا۔ ایک ایسا فیچر جس میں مجھے ایک قیمتی کیمرہ کا لینز (Lens) درکار تھا، وہ دولاکھ میں آیا، فیچر کے دوران دو دفعہ میں ناکام ہوا تو میرصاحب بولے کہ کوئی بات نہیں، تم جب بھی یہ فیچر کرو گے وہ ادارے کی امانت ہو گا اور آپ یقین کریں کہ میں آج تک اس میں کامیاب نہیں ہوا۔

وہ کون سا فیچر تھا جو ظفر اقبال نگینہ جیسا بندہ نہ کرسکا؟

یہ میرے اور ادارہ جنگ کے درمیان ایک معاہدہ ہے، اس بارے نہیں بتاسکتا۔

پاکستان کے شہر کراچی میں کرونا وائرس کی دو نئی ا قسام سامنے آگئیں
ایک بہترین فیچر جس پر آپ کو فخر ہو؟

لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹ اور پندرہ کلو وزنی سونے کا ہار میرے بہترین فیچرز میں سے تھے۔

سائیکل سے یاماہا موٹرسائیکل پر نگر نگر، گائوں گائوں، شہر شہر گھوم ڈالا، دن رات کام کیا، کیا وہ دن یاد آتے ہیں کہ کہاں ایک ہفت روزہ کا نمائندہ اور کہاں ایک نامور فیچر رائٹر ظفر اقبال نگینہ؟

ایک نہیں درجنوں واقعات ہیں جہاں میں نے زندگی کو ہارتے، روتے اور مشکلات میں دیکھا مگر ان باتوں نے مجھے ایک طرف یہ بات سکھائی کہ آگے اور آگے جانا ہے، کئی بار تھانیداروں نے رشوت دی کہ فیچر میں ملزم کو قاتل ثابت کرو، میں پیسے لے کر اگلے دن واپس منی آرڈر کردیتا اور یہ تحریر بھی لکھتا کہ جہنم کی آگ کے یہ شعلے آپ کو مبارک ہوں اور نذرانے کے عوض میں بے گناہوں کو قاتل قرار نہیں دے سکتا۔

آج بھی کوئی خواہش ہے کہ کوئی بڑا فیچر لکھا جائے؟

ضرور ہے کہ کوئی بڑا یونیک کام کروں۔

آپ نے ایک طویل عرصہ صحافت کو دیا، پھر اچانک منظر سے ظفر اقبال نگینہ کو پس پردہ لے گئے؟

پس پردہ نہیں لے گیا، کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا لیکن میرا لنک رہا، میں دوسرے اخبارات میں بھی لکھتا رہا ہوں۔ 2014ء میں جنگ میں میرا ایک فیچر ’’گدھے کا گوشت‘‘ شائع ہوا تھا جو بہت پاپولر ہوا اور یہ واحد فیچر تھا جس پر ’’نوائے وقت‘‘ نے اداریہ اور کالم لکھے حالانکہ دونوں اخبارات کے درمیان آج بھی سردجنگ جاری ہے۔

جنگ اخبار کیوں چھوڑا؟

آپ کو کس نے کہہ دیا کہ میں نے جنگ اخبار چھوڑ دیا ہے۔ میں تو آج بھی میر شکیل الرحمن کی طرف سے ملنے والی اہم اسائنمنٹ پر ہوتا ہوں، وہ دُنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں، میرا ان سے رابطہ رہتا ہے اور آج بھی آن ڈیوٹی ہوں۔ ان کے علاوہ جنگ میں میں کسی کا ماتحت نہیں ہوں۔ میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ میں نے جتنا عرصہ جنگ میں کام کیا، حاضری سے مستثنیٰ رہا، میں نے آج تک حاضری نہیں لگائی۔

شکیل صاحب سے محبت کا آغاز کب ہوا؟

سن 84 میں ملنگی ڈاکو کے نام سے میری سلسلہ وار کہانی فرائیڈے ایڈیشن میں شائع ہونا شروع ہوئی تو تیسری قسط پر انہوں نے انچارج میگزین رضا سہیل مرحوم سے کہا کہ اس بندے سے میری بات کرائو، یہ کون ہے کیونکہ مجھے اس سٹوری پر بڑی کالیں آرہی ہیں۔ میں ان سے ملاقات کے لیے گیا۔ اس زمانے میں 3800 روپے میری تنخواہ تھی،پہلی ملاقات میں مجھے الگ کمرہ دیا، پھر میری تنخواہ 82000 روپے اور ضیاء شاہد کی تنخواہ 16000روپے تھی۔

اب بات ہو گی ضیاء شاہد کے بارے میں، کیا وہ بھی آپ کے اساتذہ میں آتے ہیں؟

میں نے ا پنی پوری زندگی میں ضیاء شاہد جیسا صحافی نہیں دیکھا، جب میں نے جنگ جوائن کیا تو وہ جنگ فورم کے انچارج ہوتے تھے۔ اس دن میری ایک رپورٹ بارڈر کے بارے میں شائع ہوئی تو اس دن جی ایچ کیو سے بھی فون آئے، اس پر ضیاء صاحب سے میرا پہلا تعارف ہوا اور پھر روزانہ کا معمول بن گیا۔ فیچرز کے سلسلے میں ان سے ملنا ضروری ہوتا تھا۔ وہ اس دور کے جرأت مند اور بولڈ فیصلے کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، وہ لفظوں کے ایسے کھلاڑی ہیں، جن کے لفظ بولتے ہیں، میں نے بہت سوں کو پڑھا ہے، مگر ضیاء شاہد کے قلم کی نوک ہی انوکھی ہے، اور وہ اوکھے پینڈوں کا مسافر ہے۔

آزادکشمیر کی مصروفیات نے آپ کو قلم سے دور تو نہیں کردیا؟

آزادکشمیر کے صدر،سپیکر یا وزیراعظم ہوں، ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ میں ان کے میڈیا کے لیے کام کروں۔ دوسرا وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ بطورصحافی وہ مجھ سے کیا کام لے سکتے ہیں، جو ان کی حکومت میں بہتری لاسکے، دوسری بات یہ کہوں گا کہ کشمیر میری دُکھتی رگ ہے، اخبار نویسی کی نسبت میں وہاں کام کرنے میں بہتری محسوس کرتا ہوں۔

آخری سوال بہت کچھ کرنے لکھنے کے بعد آج کیا محسوس کرتے ہیں؟

میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اب بھی بہت کچھ سیکھنا ہے، مجھے علم ہے کہ میں آج کے میدان کی دوڑ میں بہت پیچھے ہوں ،مگر یہ بات طے ہے کہ جہاں لوگ پانچ سال میں پہنچیں گے وہاںپانچ ماہ میں چلا جائوں گا، آپ کو علم ہو گا کہ اس زمانے میں کلرپلیٹس پہلے جاتی تھیں تو میں فیچر کا وائنڈاپ پہلے لکھ کر دے دیتا تھا، تو ایک ایسی روایت قائم کی جس سے کوئی آگے نہ جاسکا۔

آپ پرنٹ میڈیا میں ایک بڑا مقام رکھتے ہیں اور ساری عمر اسی میں بسر کردی، کیا وجہ ہے کہ آپ الیکٹرانک میڈیا کی طرف راغب نہیں ہوئے؟

میں الیکٹرانک میڈیا کا بندہ نہیں ہوں، نہ یہ میرے مزاج پر کبھی اُترا ہے، یہ ہوائی لفظوں کا گھر ہے، جس کی کوئی اہمیت نہیں۔ پرنٹ میڈیا کے مقابلے کی صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ ریفرنس ہمیشہ پرنٹ میڈیا سے آتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹنگ صرف پرنٹ میڈیا میں ہوتی ہے۔ دُنیا میں ہزاروں چینل ہیں، تو اسی دُنیا میں کروڑوں اخبارات میگزین اور کتابیں شائع ہوتی ہیں اور میرا دعویٰ ہے کہ جو لوگ بار بار یہ بات دہراتے ہیں کہ پرنٹ میڈیا کا دور ختم ہو گیا وہ دعویٰ کرنے والے تو ختم ہو سکتے ہیں مگر پرنٹ میڈیا ہمیشہ صدیوں میں اُترتے ہوئے اپنے وجود میں زندہ رہے گا۔

الیکٹرانک میڈیا ابھی تک میچور نہیں ہوسکا، کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں؟

اگر آپ میری بات سے اتفاق کریں تو میرے نزدیک الیکٹرانک میڈیا اب آگے کی بجائے پیچھے کی جانب جارہا ہے کیونکہ یوٹیوب، ڈیجیٹل ٹی وی، فیس بُک، انٹرنیٹ، ویب چینل نے جو جدت دی ہے، تو اب یہی الیکٹرانک میڈیا سوشل میڈیا کا محتاج نظر آرہا ہے کہ وہاں پہلے خبر آتی ہے اور یہ بعد میں خبر دیتے ہیں اور جس قدر صحافت کو گندہ کرنے میں الیکٹرانک میڈیا کا ہاتھ ہے کسی اور کا نہیں، البتہ جو تجربہ کار لوگ پرنٹ سے وہاں گئے ہیں، ان کی عزت بہرحال محفوظ ہے کہ ان کے پیچھے پرنٹ میڈیا کا تجربہ ہے۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں.