بچوں میں فولاد کی کمی کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے؟

209

لاہور: خوراک کی کمی کے باعث پاکستان میں بچوں کی بڑی تعداد آئرن کی کمی کا شکار ہے۔ ایسے بچوں کی ناصرف بہتر طریقے سے نشوونما نہیں ہو پاتی بلکہ وہ چڑچڑے پن کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے جسم میں فولاد کی کمی پیٹ کے کیڑوں اور ملیریا جیسی بیماری سے بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ عام وجوہات ہیں۔ اس سے ناصرف جسمانی بلکہ ذہنی نشوونما بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لئے بچوں کی افزائش کیلئے جو بنیادی چیز ہے وہ آئرن ہے جسے مختلف ذرائع سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

جسم میں فولاد کی کمی کو انیمیا کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کا شکار بچوں میں چڑچڑا پن، تھکاوٹ اور دیگر کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایسے بچوں کا سانس پھولتا ہے اور انھیں تھکن بھی محسوس ہوتی ہے۔

بچوں میں فولاد کی کمی پورا کرنے کیلئے انھیں کسی ماہر معالج کو دکھانا چاہیے تاکہ وہ چیک کرکے بہتر علاج تجویز کر سکے۔ بعض اوقات ایسے بچوں کو آئرن سپلیمنٹ دیئے جاتے ہیں تاہم خود سے اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وٹامن سی اور آئرن سپلیمنٹ اگر ایک ساتھ دیا جائے تو وہ زود ہضم ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ کھانے سے قبل خالی پیٹ اسے بچوں کو کم مقدار میں استعمال کرایا جائے۔

کھانے کے ساتھ وٹامن سی اور آئرن سپلیمنٹ دینے سے اس کا اثر اتنا نہیں رہتا، اس کے علاوہ دودھ یا اس سے بنی اشیا کیساتھ بھی انھیں دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

پالک، بروکلی، بلیک اسٹریپ، گڑ کا شیرہ، سخت ٹوفو، اعلیٰ قسم کے چاول، اعلیٰ قسم کا پاستا، پرون جوس، میوے، خشک انجیر، خشک خوبانی، خشک پھل، مسور کی دال، کابلی چنے اور پھلیوں میں فولاد قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ اس لئے کوشش کی جانی چاہیے کہ ان اشیا سے بنی خوراک بچوں کو متواتر دیتے رہیں تاکہ وہ جسم میں خون کی کمی کو پورا کر سکیں۔

تبصرے بند ہیں.