Untitled-1

چیئر مین پی سی بی کا ناقابل فہم رویہ

پاک بھارت کرکٹ سیریز کی بحالی کیلئے دبئی میں پاکستان اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہان کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے تک ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے ۔دونوں کرکٹ بورڈ کے سربراہان کے علاوہ پی سی بی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی اور آئی سی سی ٹاسک فورس کے صدر جائلز کلارک بھی شریک تھے جس میں جائلز کلارک نے شہریارخان اور ششناک منوہر کے درمیان ثالث کا کردارادا کیا، دونوں سربراہان کا مؤقف تھا کہ وہ اپنی حکومتوں کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ شہریار خان کہتے ہیں کہ سیریز کے مستقبل پر جائیلز کلارک مہر ثبت کریں گے۔شہریار خان اور نجم سیٹھی مذاکرات کے بعد مایوس کن انداز میں آئی سی سی ہیڈ کوارٹر سے باہر نکلے اور شہریار خان نے انکشاف کیا کہ مذاکرات مفید ہوئے لیکن دونوں بورڈز کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ نجم سیٹھی نے چوں کہ بھارتی بورڈ کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کئے تھے اس لئے انہیں مذاکرات کے لئے خاص طور پر لاہور سے طلب کیا گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ کرکٹ سیریز آئندہ ماہ سری لنکا میں ہوسکتی ہے جبکہ سری لنکا کے بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ ہم سے اس حوالے سے بات ہی نہیں کی گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ آئی سی سی کے سربراہ جنہوں نے مبینہ طور پر اس حوالے سے پریس کانفرنس کرنا تھی، لندن روانہ ہو چکے ہیں۔
محرمان اسرار جانتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ یہ سیریز متحدہ عرب امارات میں کرانے پر بضد تھا جبکہ بھارت کا بدستور اس بات پر قائم رہا کہ سیریز بھارت میں ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا کوآئندہ ماہ متحدہ عرب امارات میں5 ایک روزہ، 2ٹیسٹ اور 2 ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنی ہے تاہم دونوں بورڈز کے درمیان ڈیڈلاک کے باعث اس سیریز کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔بی سی سی آئی پاکستان کو ہندوستان میں کھیلنے کی دعوت دے چکا ہے تاہم پی سی بی کا اصرار ہے کہ ہندوستانی ٹیم دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات میں سیریز کھیلے۔معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو 2015ء سے 2023ء کے درمیان چھ سیریز کھیلنی ہیں جن میں سے چار کی میزبانی پاکستان کے پاس ہے تاہم تمام سیریز کے لیے حکومتی کلیئرنس درکار ہے۔ ان کی رائے ہے کہ کرکٹ کے مفاد کی خاطر یہ سیریز ہونی چاہیے۔ جبکہ صورت حال یہ ہے کہ شہریار خان بی سی سی آئی سربراہ سے بھی بات کررہے ہیں اور انہوں نے انہیں کہا ہے کہ ہمیں منانے کی ضرورت نہیں سیریز کے لیے بی سی سی آئی کو تیار کیا جائے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے پی سی بی کو ہدایت کی ہے کہ حکومتی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ شہریار خان کو یہ بھی دکھ ہے کہ پاک بھارت میچ کا حتمی فیصلہ وہ نہیں، وزیر اعظم کریں گے۔
عوامی حلقے اس پر حیران ہیں کہ گزشتہ ماہ بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے سربراہ کی دعوت پرممبئی جانے والے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان اور گورننگ باڈی کے ممبر نجم سیٹھی کا شیوسینا کے شدت پسند کارکنوں نے اس وحشیانہ انداز میں سواگت کیا تھا کہ اُنہیں اپنی جان اور عزت بچانا مشکل ہو گئی تھی۔ شیو سینا کے غنڈے شہریار خان اور نجم سیٹھی کی تواضع بھی کلکرنی کی طرح کرناچاہتے تھے۔یہ بات ناقابل فہم ہے کہ نجم سیٹھی اور شہریار خان پاک بھارت سیریز کے لیے زائد از ضرورت بے تابی کا اظہار کیوں کر رہے ہیں اور از خود آئی سی بی کے سربراہ کے ساتھ ملاقاتیں کرکے وزیراعظم کی ہدایت کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔