imran-khan

پیرس: عالمی ماحولیاتی کانفرنس

عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کیلئے پیرس پہنچنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پیرس میں ماحولیاتی آلودگی پر دوسرے ملکوں کا مؤقف سنیں گے اور اپنا بیان کریں گے۔ پاکستان سے کاربن گیسز کا اتنا اخراج نہیں ہوتا رہا جتنا دوسرے ملکوں میں ہورہا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے پاکستان سے زیادہ ذمہ داریاں دوسرے ملکوں پر عائد ہوتی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں پاکستان نے اپنے اہداف مقرر کر رکھے ہیں۔ پاکستان کے گرین ہاؤس سے گیسز کا اخراج بہت کم ہوتا ہے۔ پاکستان عالمی کاوشوں میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے‘۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ’ انشاء اللہ پاکستان کی ترقی میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننے دیں گے‘۔ وزیراعظم نوازشریف عالمی کانفرنس سے خطاب کے علاوہ فرانس کے صدر کے ساتھ غیررسمی ملاقات بھی کریں گے جس میں 13 نومبر کے دہشت گرد حملوں پر فرانس کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔ کانفرنس میں 147 ممالک کے سربراہان مملکت کی شرکت متوقع ہے۔
امر واقع یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے گرین ہاؤسوں سے گیسوں کے اخراج کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں گزشتہ چند دہائیوں سے ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں ناسا انسٹیٹیوٹ آف سپیس سٹڈیز کے سربراہ جیمز ای ہنسن نے دسمبر 2005ء میں ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ’ گزشتہ تین عشروں سے دنیا بھر کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری فارن ہائیٹ کا اضافہ ہوا ہے اور اگر گرین ہاؤسز سے خارج ہو کر فضا میں پھیلنے والی گیسوں پر قابو نہ پایا گیا تو 85 برس بعد یہ اضافہ مزید 4 ڈگری فارن ہائیٹ کی حد کو چھو لے گا۔ نتیجتاً درجۂ حرارت میں اتنا اضافہ ہو گا کہ اس کی وجہ سے قطبین پر موجود برف کی چوٹیاں اور گلیشیئرز پگھل جائیں گے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق 2100 ء تک سمندر کا لیول 9 سے 100 سینٹی میٹر تک بڑھ جائے گا جس سے دنیا بھر کے ساحلی شہر ڈوب جائیں گے۔ گلوبل وارمنگ کا یہ چیلنج انسان کا خود پیدا کردہ ہے۔ یہ چیلنج اس حد تک مہیب ہو چکا ہے کہ گلوبل وارمنگ بم انسانیت کے لیے جوہری بم سے بھی کہیں زیادہ خوفناک تباہی اور بربادی کا باعث ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کی قابل رشک صنعتی اور سائنسی ترقی نے لمحۂ موجود میں انسانوں کو جو سہولیات فراہم کی ہیں اگر گرین ہاؤسز سے گیسوں کے اخراج پر قابو نہ پایا گیا تو اس سائنسی اور صنعتی ترقی کا آنے والی نسلوں کو بہیمانہ خمیازہ بھگتنا ہو گا۔
گلوبل وارمنگ کی یہ آفت انسان اور کرۂ ارض کے مستقبل کے لیے اتنی تباہ کن نہ ہوتی اگر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں نئے شہر بسانے اور کارخانے لگانے کی غرض سے اندھا دھند جنگلات کا کٹاؤ نہ کیا جاتا۔ یہ ایک اذیت رساں حقیقت ہے کہ بے پناہ سائنسی اور صنعتی ترقی نے آج کے انسان کو سانس لینے کے لیے صاف ہوا اور پینے کے صاف پانی سے بھی محروم کر دیا ہے۔ ایسی ترقی جو انسانی زندگی کی بقا کے لیے بنیادی لوازمات کی حیثیت رکھنے والی ضروریات سے بھی محروم کر دے، وہ ترقی اس کے لیے حیات بخش نہیں بلکہ پیغامِ فنا بن چکی ہے۔ بے پناہ صنعتی اور سائنسی ترقی کا نتیجہ فضائی آلودگی ، آبی آلودگی، زمینی آلودگی شور کی آلودگی ، تابکاری شعاعوں کی آلودگی اور کیمیائی آلودگی کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اس کی وجہ سے انسانی زندگی مشکل اور پیچیدہ بنتی چلی جارہی ہے۔۔ آلودگی کے خلاف برسر پیکار عالمی رہنماؤں کو اس امر پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ان تمام آلودگیوں نے دراصل اس ذہنی آلودگی کی کوکھ سے جنم لیا ہے جو انسان کو جوع المال اور جوع الارض کے لیے مہلک ہتھیار اور زندگی کش حیاتیاتی، جراثیمی اور کیمیائی ایجنٹس بنانے پر اکسا رہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رواں صدی کے مختلف ادوار میں انسان کو ماحولیاتی آلودگی سے نجات دینے کے لیے مختلف ممالک کے سربراہوں نے عالمی اجلاس کیے۔ 1987ء ، 1990ء، 1992ء، دسمبر 1997ء میں اقوام متحدہ کے جاپان میں ہونے والا فریم ورک کنونشن بھی نمایاں ہے جس میں 160 ممالک نے کیو ٹو پروٹوکول پر دستخط کیے لیکن جب اس پر عمل درآمد کا وقت آیا تو امریکہ نے کیوٹو پروٹوکول کی توثیق سے انکار کر دیا۔ حالانکہ اس پروٹوکول میں واضح کیا گیا تھا کہ گرین ہاؤس گیسز گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہیں، اُن کے اخراج کو کم کیا جائے۔ یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ گرین ہاؤس سے خارج ہونے والی گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ، میتھین، نائٹرس آکسائیڈ، سلفر آکسائیڈ فلورائیڈ نمایاں ہیں۔ کیو ٹو پروٹوکول کے تحت صنعتی ترقی یافتہ ممالک 1990ء کے لیول سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 5 فیصد کم کر کے مطلوبہ ہدف کو 2012ء تک پورا کرنے کے پابند ہیں۔ امریکی دوہرے معیار کا عالم یہ ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے عالمی فورم پر اس معاہدے کی تائید کا اعلان کیا تھا۔ مگر کانگریس میں ری پبلیکن پارٹی کی شدید مخالفت کے خدشے کے پیش نظر اسے منظوری کے لیے کبھی پیش نہیں کیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ 2001ء میں جونیئر بش جب صدر بنے تو امریکہ اس معاہدے کی پاسداری کی تمام شرائط سے منحرف ہو گیا۔ انہوں نے اس معاہدے کو صنعتی ممالک کے ساتھ ناانصافی کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیرس میں منعقدہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نبٹنے کے لیے اجلاس اگر کسی معاہدے کا انکار کر تا ہے تو اس امر کی ضمانت کون فراہم کرے گا کہ ماضی کی طرح امریکہ اپنی معیشت کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے تحت اسے مسترد نہیں کر دے گا۔ یہ امر لائق تو جہ ہے کہ دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی لگانے کے لیے اقوام متحدہ نے مختلف معاہدوں پر تمام ممالک کو عمل پیرا ہونے کی تلقین کی ہے، ان میں سی ٹی بی ٹی، این بی ٹی، اور ایف ایم سی ٹی نمایاں ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ امریکہ اور ایٹمی کلب کے رکن ممالک میں سے کسی ایک رکن نے ان عالمی معاہدوں کی تائید کی ہے، نہ توثیق اور نہ ہی ان پر دستخط کیے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کہیں موجودہ اجلاس میں طے پانے والے معاہدوں کا انجام بھی کیو ٹو پروٹوکول جیسا نہ ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ پیرس ماحولیاتی کانفرنس میں کسی ڈیل تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں اورتسلیم کیا جائے گا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نبٹنے کے لئے ضروری ہے کہ ترقی یافتہ ممالک گرین ہاؤس کم کریں، گرین ہاؤسز کے کم اخراج کیلئے تمام ممالک متوازن قوانین اپنانے کے معاہدے پر دستخط کریں، ماحولیاتی تبدیلیاں روکنے کیلئے ناگزیر اقدامات کئے جائیں۔ امید ہے عالمی برادری متوقع معاہدے کے شرکاء کو عالمی طاقت کے دہرے معیارات، ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ امتیازی سلوک و مراعات کی روش کی نشاندہی ضرور کرے گی۔