پاکستان سٹیل : بحالی کے منصوبے کا آغاز کیا جائے

پاکستان سٹیل میں جون 2015ء سے پیداواری عمل بند ہے تاہم حکومت اس کے ملازمین کو تنخواہیں دینے پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ پاکستان سٹیل نے 1973ء میں 70 فیصد کام مکمل ہونے کے بعد پیداوار شروع کر دی تھی۔ یہ ملک میں سرکاری شعبے میں سٹیل بنانے کا سب سے بڑا منصوبہ تھا اور اسے سابقہ سوویت یونین کے فنی تعاون سے مکمل کیا گیا تھا۔ 70 فیصد تکمیل کے بعد 44 برسوں میں پاکستان سٹیل کا باقی ماندہ منصوبہ مکمل نہ کیا گیا تاہم 70 فیصد حصے سے پیداوار کر کے پاکستان سٹیل نے اربوں روپے کا کاروبار کیا اور بھرپور منافع کمایا۔ 1988ء سے لے کر 2008ء تک پاکستان سٹیل منافع بخش ادارہ رہا۔ 1995ء میں پاکستان سٹیل منافع اور کاروبار کے لحاظ سے عروج پر تھا۔ اس دور میں پاکستان سٹیل میں ریکارڈ پیداوار ہو رہی تھی۔ پرویز مشرف کی حکومت کے بعد پیپلز پارٹی 2008ء میں برسراقتدار آئی تو پاکستان سٹیل کا زوال شروع ہوا۔ 2015ء میں سوئی سادرن گیس کے اربوں روپے کے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے بعد پاکستان سٹیل کو گیس کی فراہمی بند کر دی گئی جس کے بعد سٹیل مل میں پیداوار بند ہو گئی۔ پاکستان سٹیل کے پاس یا تو بند مشینری ہے یا ہزاروں ایکڑ اراضی ہے۔ یہ اراضی انتہائی قیمتی ہے۔ ساڑھے 19 ہزار ایکڑ اراضی ہتھیانے کے لئے اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات کی بہت دلچسپی ہے۔ 28 ماہ سے بند پاکستان سٹیل کا خسارہ 450 ارب تک پہنچ چکا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر پاکستان سٹیل کو تقریباً 7 کروڑ روپے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پاکستان سٹیل کی نجکاری کا معاملہ بھی سردخانے میں پڑا ہے جبکہ حکومت اس ضمن میں 80 ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اتنی خطیر رقم پاکستان سٹیل کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور مینجمنٹ کو بہتر کرنے پر خرچ کی جاتی تو پاکستان سٹیل اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی تھی مگر پاکستان سٹیل کو چلانے کی بجائے اعلیٰ حکومتی شخصیات کی دلچسپی اس کی اراضی کی تقسیم سے ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سٹیل اپنی ساڑھے 19 ہزار ایکڑ اراضی میں سے تقریباً ساڑھے 12 ہزار ایکڑ اراضی سے محروم ہو چکی ہے جبکہ سی پیک کے لئے بھی 15سو ایکڑ اراضی اسے دینا پڑے گی۔ بند ہونے سے سٹیل کی اربوں روپے کی مشینری بھی ناکارہ ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان سٹیل کی بحالی کے لئے پرائیویٹ کمیشن نے اس برس کے اوائل میں ایک منصوبہ تیار کیا تھا جس کے تحت غیرملکی کمپنیوں کے ایک کنسور شیم کے سپرد پاکستان سٹیل کر دی جاتی۔ یہ کنسور شیم سرمایہ لگا کر پاکستان سٹیل میں پیداواری عمل کو شروع کرتا۔ وزارت پیداوار اس کنسور شیم کے ساتھ پاکستان سٹیل میں حصے دار ہوتی اور وہ سرمایہ کاری کے لئے کنسور شیم کی معاونت کرتی۔ پاکستان سٹیل چلنے کے بعد اس کے منافع میں حصے دار ہوتی۔ تاہم نجکاری کمیشن کے سربراہ کو گورنر سندھ بنا دیا گیا اور یہ منصوبہ فائلوں میں دب کر رہ گیا ہے۔ حکومت پاکستان کو نجکاری کمیشن کے اس منصوبے پر عمل درآمد کے لئے کارروائی کا آغاز کرنا چاہئے تاکہ پاکستان سٹیل بحال ہو سکے۔ کسی ملک کی معیشت میں سٹیل کی پیداوار کا اہم کردار ہوتا ہے۔ پاکستان سٹیل پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار رکھتی تھی مگر اس کو سیاسی فیصلوں، ناجائز بھرتیوں اور غلط فیصلوں سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان کو اس بارے میں فوری قدم اٹھانا چاہئے کیونکہ پاکستان سٹیل بند ہونے سے اس کے ہزاروں ملازم شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اسی طرح 60 سال کی عمر کو پہنچنے والے ملازم ریٹائر ہونے پر ملنے والے واجبات کی ادائیگی سے محروم ہیں۔ ان کو پنشن کی ادائیگی بھی نہیں ہوتی۔ اس صورت حال میں ان کے لئے زندگی کے دن گزارنا مشکل ہو گئے ہیں۔ حکومت پاکستان سٹیل کی بحالی کا اس لئے بھی انتظام کرے کیونکہ سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل کے لئے سٹیل کی ضرورت میں اضافہ ہو گا جو باہر سے منگوانا پڑے گا۔ پاکستان سٹیل کے فعال ہونے سے اس کی پیداوار ملک میں استعمال ہو گی اور اس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان سٹیل کی بحالی کے لئے فوری اقدامات شروع کرے گی تاکہ معیشت پر بوجھ کم ہو سکے۔