complain

وفاقی محتسب: شکایات جلد نمٹانے کا منصوبہ

پاکستان میں عدالتوں پر مقدمات کے دباؤ، انصاف کے لیے شواہد اور گواہوں کی پیشی کے مسائل، وکلاء کا طرز عمل، مقدمے کے ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو تنگ کرنے کے لیے مقدمے کو طول دینے کی کوشش، ہڑتال اور احتجاجوں کی وجہ سے عدالتوں میں کام کی بندش اور دیگر کئی مسائل کی وجہ سے انصاف کا حصول انتہائی دشوار عمل ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے عدالتوں سے کام کے بوجھ کو کم کرنے کی پالیسی وضع کی جس کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں مقدمات نمٹانے کی رفتار میں اضافہ ہوا تاہم اس کے باوجود اعلیٰ عدالتوں اور ضلعی عدالتوں میں مقدمات نمٹائے جانے کا عمل ابھی تک خاطر خواہ حد تک تیز نہیں ہو سکا۔ وفاقی محتسب کا ادارہ 80 کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد سرکاری وفاقی اداروں سے عوام کو در پیش معاملات کو جلد از جلد نمٹانا تھا اس مقصد کے لیے ملک میں وفاقی محتسب کو تعینات کیا گیا اور وفاقی محتسب کا پورا ادارہ تشکیل دیا گیا۔ اس ادارے میں عوامی شکایات کو تیز رفتاری سے نمٹانے کے نتیجے میں عوام کو بڑی حد تک ریلیف ملا۔ اسی ادارے کی کارکردگی سے متاثر ہو کر چاروں صوبوں میں صوبائی محتسب کا ادارہ قائم ہوا۔ بعد میں خواتین کے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے خاتون محتسب کا تقرر بھی کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے وفاقی ٹیکس محتسب بھی مقرر کیا جس کی وجہ سے عوام کو اپنی شکایات دور کرنے کے لیے آسانی حاصل ہوئی۔ وفاقی محتسب کے پاس شکایت درج کرانا نہایت آسان رکھا گیا۔ یہاں وکیل کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور مقررہ مدت میں ہر شکایت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ وفاقی محتسب نے شکایات میں اضافے کے بعد ان کو جلد نمٹانے کے لیے بعض سفارشات تیار کی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی محتسب میں ہر سال 75 ہزار سے زائد شکایات دائر ہوتی ہیں۔ موجودہ وفاقی محتسب کے دور میں 2 لاکھ سے زائد درخواستوں کو نمٹایا جا چکا ہے۔ تاہم درخواستوں کو جلد نمٹانے کے لیے اور شکایت کنندگان کو انصاف ان کے گھر کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے محکمے نے رپورٹ تیار کر لی ہے جو بین الصوبائی رابطہ کمیٹی سے منظوری کے بعد مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کر کے اس کی منظوری لے کر اسے نافذ کیا جائے گا۔ وفاقی محتسب کی انتظامیہ نے اس منصوبہ پر وزارت قانون اور آئینی وقانونی ماہرین سمیت سٹیک ہولڈروں سے جامع مشاورت کی ہے۔ تمام صوبوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریوں سے بھی باضابطہ مشاورت کی گئی ہے۔ اس منصوبہ کے تحت ابتدائی طور پر ملک بھر میں 138 اضلاع اور 435تحصیلوں میں ایک ہی جگہ بیٹھ کر وفاقی اور صوبائی محتسب کے افسران مل بیٹھ کر شکایات کی سماعت کریں گے جبکہ اس منصوبہ کے نتیجے میں عوامی شکایات پر 60 دن کی بجائے اب صرف 15 دن کے اندر فیصلے سنائے جائیں گے۔ جس سے شکایت کنندگان کو جلد از جلد انصاف مل سکے۔ وفاقی محتسب کے ہاں مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کی شرح سو فیصد ہے جبکہ وفاقی محتسب کے فیصلوں پر عمل درآمد کی شرح 97 فیصد ہے جس سے عوام کو بے پناہ ریلیف ملتی ہے۔ وفاقی محتسب کے ادارے نے اپنے لیے جو سفارشات تیار کی ہیں، بین الصوبائی رابطہ کمیٹی اور مشترکہ مفادات کونسل جلد از جلد منظور کرے تا کہ وفاقی محتسب اپنے اوپر لاگو کر کے عوام کی شکایات جلد از جلد نمٹائے تا کہ عوام کو اس حوالے سے پریشانی ختم ہو اور انہیں ریلیف ملنے میں کم سے کم وقت لگے۔