عدالتوں میں زیر التوا مقدمات، تعداد کیسے کم ہو ؟

پنجاب میں عدالتوں میں مقدمات کی تیز رفتار سماعت اور جلد فیصلوں کے لیے عدالت عالیہ کے چیف جسٹس صاحبان مسلسل کوششیں کرتے رہے ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب میں زیر التوا کیسوں کی بڑی تعداد ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا کیسوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے جبکہ پنجاب کی ضلعی عدلیہ میں ایسے کیسوں کی تعداد 12 لاکھ اڑسٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔ ان میں دیوانی اور فوجداری مقدمات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں، بینکنگ عدالتوں، گارڈین عدالتوں اور دیگر خصوصی عدالتوں میں بھی لاکھوں مقدمات زیر سماعت ہیں۔ گزشتہ برس اعلیٰ عدلیہ نے خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اس حوالے سے غیر ضروری مقدمہ بازی کرنے والوں کے خلاف ذمہ دار فریق کو سزا ہونی چاہیے کیونکہ غیر ضروری التوا کی وجہ سے مقدمات کی لاگت بھی بڑھتی جاتی ہے اور سماعت میں بھی تاخیر ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت نے غیر ضروری مقدمہ بازی کی روک تھام کے لیے ایک قانون منظور کرایا ہے جس کے تحت مقدمہ ہارنے والا فریق دوسرے فریق کو مقدمہ کی لاگت ادا کرے گا۔ اس بل کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کیا جا رہا ہے بعد میں اس کا دائرہ صوبوں تک بڑھا دیا جائے گا۔ پنجاب حکومت بھی ضابطہ فوجداری کی شقوں 510، 161، 173 میں ترامیم کا فیصلہ کر چکی ہے۔ مجوزہ ترامیم کے ڈرافٹ کے مطابق قتل سمیت دیگر مقدمات میں جھوٹی گواہی کا جرم ثابت ہونے پر کم از کم سز تین سال اور زیادہ متعلقہ مقدمہ کی سزا کے مطابق سنائی جا سکتی ہے۔ دفعہ 510 کے تحت ڈی این اے اور فرانزک شہادت کی اہمیت کم ہے اسے اعلیٰ درجے کی شہادت قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ کیبنٹ کمیٹی کی سفارشات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب ان مجوزہ تجاویز کو قانونی شکل دینے کے لیے وفاقی وزارت قانون کو بھجوائیں گے۔ مقدمات کی تیز اور جلد سماعت کے لیے فوجداری کیسوں میں جدید آلات اور فرانزک نتائج کو بطور اعلیٰ شہادت تسلیم کرنے سے مقدمات کی سماعت میں تیزی آ سکتی ہے۔ عدالت عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان نے اس ضمن میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنے، وکلاء کی طرف سے ہڑتال کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی اور ججوں اور عدالتی عملے کی تنخواہوں اور مراعات میں بہتری لانے کی تجاویز دی تھیں جس کے بعد ضلعی عدلیہ میں ججوں تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ ہائی کورٹ میں ججوں کی منظور شدہ تعداد پوری کی گئی ہے۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ ضلعی ججوں اور عدالتی عملے کی تنخواہوں اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ان تمام تر کاوشوں کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ مزید ججوں کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے چیف جسٹس اپنی ضرورت سے آگاہ کریں ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکومت ججوں اور عدالتی عملے کی تعداد بڑھا دے گی جس سے مقدمات کی جلد اور تیز سماعت ممکن ہو گی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے گزشتہ روز بھی ججوں کی ایک تقریب میں کہا کہ ہم ججوں کو جوڈیشل اکیڈمی میں کورسز کرا رہے ہیں اس سے بہت بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا سیشن جج کا کردار اپنے متعلقہ ضلع میں چیف جسٹس سے کم نہیں اس لیے چیف جسٹس بن کر فیصلے کریں۔ ضلعی عدالتوں میں مقدمات کے طویل عرصہ تک زیر التوا رہنے میں وکلاء بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض وکلاء مقدمات کو لٹکائے رکھنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کو اس ضمن میں وکلاء نمائندوں کو بھی مشاورت میں شامل کرنا چاہیے تا کہ مقدمات کو جلد نمٹانے کا عمل تیز ہو سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات نمٹانے کی رفتار تیز ہو گی تو لوگوں کو انصاف بھی جلد مل سکے گا کیونکہ انصاف دیر سے ملنا بھی بہت بڑی نا انصافی ہے۔