سری لنکا کا کرکٹ ٹیم لاہور بھیجنے کا اعلان، مثبت پیش رفت

سری لنکا کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم 29 اکتوبر کو لاہور میں پاکستان کے خلاف سیریز کا تیسرا ٹی 20 میچ کھیلے گی اور ٹیم متحدہ عرب امارات سے 28 اکتوبر کو لاہور پہنچے گی۔ اس ضمن میں سری لنکن کرکٹ بورڈ کا اہم اجلاس ہوا جس میں آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے فول پروف سکیورٹی مہیا کئے جانے کی یقین دہانی پر متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ اس خط کے بعد کیا گیا ہے جو سری لنکا کے 40 کھلاڑیوں کی طرف سے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو لکھا گیا تھا جس میں کھلاڑیوں نے لاہور جانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور بورڈ سے کھیل کے میدان کو تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔ سری لنکا ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان نے اس میچ میں شرکت سے معذوری کا اظہار کیا ہے اور اس میچ میں شرکت سے دستبردار ہو گئے ہیں جبکہ تیز گیند باز لکمل اور لیستھ ملنگا نے بھی پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے۔ سری لنکا کرکٹ بورڈ ٹی ٹونٹی سیریز کے لئے ٹیم کے 15 کھلاڑیوں کا اعلان 20 اکتوبر کو کرے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے سری لنکا کی حکومت، پاکستانی حکومت، پی سی بی اور آزاد سکیورٹی ماہرین کی جانب سے موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر سکیورٹی معاملات کی جانچ پڑتال کی جا رہی تھی جبکہ آئی سی سی کی جانب سے حالیہ رپورٹوں کو بھی کمیٹی کے اجلاس میں پیش نظر رکھتے ہوئے سری لنکا کی ٹیم نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سری لنکا کرکٹ بورڈ کی طرف سے سرکاری طور پر پاکستان آنے کے فیصلے کی اطلاع ملتے ہی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لئے عہدے داروں کی میٹنگ طلب کر لی۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ آکلینڈ میں ویسٹ انڈین حکام سے بھی ملاقات ہوئی ہے جو آئندہ ماہ نومبر میں کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجیں گے۔ سری لنکا کے کرکٹ بورڈ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کر کے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پی ایس ایل کے فائنل کے لاہور میں انعقاد اور ورلڈ الیون کے خلاف تین میچوں کی سیریز کا انعقاد پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پنجاب کی اہم کامیابی تھی۔ جس کے بعد سری لنکا کی ٹیم پاکستان آ رہی ہے اور اگلے ماہ ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم بھی پاکستان آئے گی۔ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر مارچ 2009ء میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کی کرکٹ نے 8 برسوں میں بہت مشکل حالات کا سامنا کیا ہے مگر کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرا کر اس سلسلے میں اہم کامیابی حاصل کی۔ آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی جیتنے کے بعد ورلڈ الیون پاکستان بھجوانے کا اعلان کیا اور سیاسی مشکلات کے باوجود ورلڈ الیون نے کامیاب دورہ کیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جو کامیابی حاصل کی ہے اس کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں صورت حال بہت بہتر ہے۔ ملک میں دہشت گردی تقریباً ختم ہو کر رہ چکی ہے مگر پاکستان کے دشمن ابھی تک ہمت نہیں ہارے اس لئے کرکٹ بورڈ، پنجاب حکومت اور سکیورٹی اداروں کو سری لنکا کے ساتھ میچ کے دوران سکیورٹی معاملات کو اعلیٰ ترین معیار پر قائم کرنا چاہئے تاکہ یہ میچ پُرامن انداز میں بہترین طریقے سے ہو سکے اور اگلے ماہ ویسٹ انڈیز ٹیم کے دورے کے لئے کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے سندھ حکومت سے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ پی ایس ایل کے کچھ میچ کراچی میں کرانا چاہتے ہیں۔ حکومت سندھ اس حوالے سے کرکٹ بورڈ کی معاونت کرے اور اس سلسلہ میں آج ان کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات ہو گی۔ ملک میں دہشت گردوں کو مکمل شکست دینے کے لئے تمام اداروں کو مربوط کوششوں کے ساتھ کرکٹ میچوں کے انعقاد میں فول پروف سکیورٹی دینی چاہئے تاکہ ملک کا امیج ایک پُرامن اور سکیورٹی رسک فری کے طور پر نمایاں ہو سکے۔