syrian-govt

زخم زخم شام: اقوام متحدہ کہاں ہے؟

شام لہو میں نہا رہا ہے اور عالمی طاقت، اس کے اتحادی مغربی ممالک اور عالمی طاقت کا سابق حریف روس بھی شام کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔80 لاکھ سے زائد شام کے شہری اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور جو شہری ملک میں موجود ہیں، وہ انسانی المیوں سے دوچار ہیں۔یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ عالمی طاقت اور ترقی یافتہ مغربی ممالک میں 20ویں صدی کے پہلے عشرہ سے21ویں صدی کے پہلے عشرہ تک اپنی طاقت ، دولت ، ٹیکنالوجی اور وسائل کو وسیع پیمانے پر جنگ کی آگ میں جھونکا ہے۔ جنگ کے الاؤ دہکانے کے لئے ان ممالک نے مختلف ادوار میں مختلف نعروں کا سہارا لیا۔ کبھی کسی ملک پر محض اس لئے جنگ مسلط کر دی گئی کہ وہاں عالمی طاقت اور اس کے حریف مغربی ممالک عسکری آمریت کا خاتمہ کر کے ’’عوامی جمہوریت‘‘ کے قیام کی راہیں ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی موروثی بادشاہت، شہنشاہیت ، ملوکیت اور شخصی حکومتوں کے خاتمے کی آڑ میں غریب ، ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں کشت و خون کا بازار گرم کیا گیا۔ ’’سرد جنگ‘‘ کے دوران پچاس سال تک دو بڑی طاقتیں محض اپنی انا کی خاطر چھوٹے اور کمزور ممالک کو تختہ مشق ستم بناتی رہیں۔ جنگ کا آتش فشاں جو پہلی جنگ عظیم 1914ء سے 1918ء کے دوران پھٹا ، آج تک اس کا لاوا مختلف محروم الوسائل ممالک کو راکھ کر دینے والی اپنی حرارت کی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ اس موقع پر دنیا کا ہر امن پسند شہری سوچ رہا ہے کہ اقوام متحدہ کہاں ہے۔ وہ اقوام متحدہ جو دنیا کے تمام شہریوں کو امن، آزادی، مساوات ، جمہوریت اور بہبود کی فراہمی کو اپنا نصب العین قرار دیتی رہی ہے۔ وہ ادارہ جو بلا امتیاز تمام اقوام کے مابین دوستی کے لئے قائم ہوا تھا رفتہ رفتہ طاقتور ممالک کا ’’کلب‘‘ بن گیا۔ اس کلب پر چند بڑے ممالک کی اجارہ داری ہے۔وہ ادارہ جسے ایک بالا دست حیثیت حاصل ہونا چاہیے تھی ،عالمی طاقت کا زیر دست بن کر رہ گیا۔