حکومت اور ریاستی و قومی ادارے ایک دوسرے کے بازو ہیں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پیر کو ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ’ سول ملٹری تناؤ موجود نہیں، اختلاف رائے ہو سکتا ہے ، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے معیشت پر اپنی رائے کا اظہار کیا، آرمی چیف کو معیشت پر رائے دینے کا حق حاصل ہے، اچھی بات ہے آرمی چیف نے پبلک فورم پر بات کی، معیشت پر کچھ لوگوں کوگلاس آدھا خالی نظر آتا ہے،مجھے ہمیشہ آدھا گلاس بھرا نظر آیا ہے،معاشی اعشارئیے بہتری کی طرف ہیں، اختلاف رائے ہر گھر میں ہوتا ہے سب کا مقصد ایک ہے کہ ملک ترقی کرے، شہبازشریف اور نثار کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے مگر پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک بنتا نہیں دیکھ رہا، نثار جمہوریت کی وجہ سے اختلاف رائے کا حق رکھتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ موجودہ قانون میں اداروں کا احتساب ممکن نہیں‘ قانون میں تبدیلی ہو تو ممکن ہے،چاہتے ہیں احتساب کا قانون متفقہ طور پر بنے، آج جو اداروں کے احتساب کی بات کرتے ہیں، کل وہ اس بات کی مخالفت کرتے تھے،صرف سیاسی قیادت عدالتوں اور احتساب کا سامنا کرتی ہے، اتفاق رائے ہو تو فوج اور عدلیہ کے احتساب کیلئے پارلیمنٹ میں بحث کی جا سکتی ہے،فوج اور عدلیہ کیلئے کوئی قانون لانا چاہے تو لا سکتا ہے،پارلیمنٹ ہی عدلیہ اور فوج کا احتساب کر سکتی ہے فی الحال ایسی کوئی تجویز نہیں،احتساب عدالت کے جج چاہیں تو رینجرز کو بلا سکتے ہیں ،سا بق وزیراعظم پر سپریم کورٹ کے حکم پر ریفرنسز چل رہے ہیں، کسی زیرسماعت مقدمے پر تبصرہ کرنا مناسب بات نہیں، ایک وکیل نے پولیس افسر کو تھپڑ مارا، سب کی بدنامی ہوئی، جمہوریت میں بند عدالتوں میں کیس نہیں سنے جاتے‘۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کرم ایجنسی کے قریب بارودی سرنگ کے پھٹنے سے شہید ہو نے والے کیپٹن حسنین نواز شہید کے گھر ننکانہ صاحب پہنچے، انہوں نے شہید کے لواحقین سے اظہار افسوس کیا اور شہید کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی،شہید کیپٹن حسنین نواز کے والد نواز گوہر سے گفتگو کرتے ہوئے شہید کی بہادری اور شجاعت کی تعریف کی اور کہا کہ ’ پوری پاکستانی قوم کو حسنین نواز شہید کی قربانی پر فخر ہے ‘۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ’ میرا بیان فوج کے خلاف نہیں تھا، میرے بیان پر وضاحت آنے کے بعد بات ختم ہوگئی،پاک فوج کی پشت پر حکومت اور حکومت کے پیچھے فوج کھڑی ہے، شہدا ء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، قوم کے جوانوں کا خون رنگ لائے گا،یہ فوجی جوان ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،شہداء کی قربانیوں سے ہمارا ملک امن کا گہوارہ بنے گا، پاکستانی فوج اور قوم قربانیوں سے گھبرانے والے نہیں، پاکستانی قوم کو قربانیوں کی تاریخ رقم کرنے والے افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں پر فخر ہے،دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو ہر صورت جیت کر اس ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنائیں گے،پوری پاکستانی قوم اور حکومت افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے، فوج اور حکومت کے درمیان ذرہ برابر بھی دراڑ نہیں ہے، حکومت اور افواج کے درمیان دوری کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں،ملک دشمن اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں‘ انہوں نے مزید کہا کہ’ کرم ایجنسی کے علاقہ میں کینیڈین شہریوں کی بازیابی کے لئے کئے گئے آپریشن کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اس آپریشن سے ثابت ہوا ہے پاکستانی اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا جائے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں‘۔
یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ اس وقت وطن عزیز کو امن ، رواداری، اتحاد اور مفاہمت کی فضا کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے میں تلخی ، تناؤ ، کشیدگی اور جارحانہ بیانات صورت حال کو مزید گڑ بڑا سکتے ہیں۔ اندریں حالات تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین کو جذباتیت کی بجائے عقلیت سے کام لیتے ہوئے صورت حال کے سدھار کیلئے متفقہ اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ ادارے اور سیاسی قوتیں اگرباہم مخاصمت اور ٹکراؤکی پالیسی پر عمل پیرا رہیں تو اس خدشے سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ منطقی طور پر اس کا نقصان ملک و قوم ہی کو ہوتا ہے۔ ناخوشگوار سیاسی حادثے سے بچنے کے لیے مقتدر سیاست دانوں کو سنجیدگیِ فکر سے کام لینا ہو گا اور خطرات و خدشات کا ادراک کرتے ہوئے 2018ء کے انتخابات کیلئے پر امن فضا کی تشکیل میں معاون اقدامات کرنا ہوں گے۔ اداروں سے ٹکراؤ کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ سیاسی عدم استحکام کی پہلی ضرب ہمیشہ قومی معیشت کو نڈھال اور مضمحل کرنے کا باعث بنتی ہے۔ معاشی استحکام کے لئے ایک اہم ترین عنصر کسی ملک میں ٹکراؤ سے آزاد فضا کی صورت گری ہی ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وطن عزیز تاریخ کے ایک نازک، حساس اور اہم دور سے گزر رہا ہے۔حساس اور اہم ادوار کی نزاکتوں او ر مقتضیات سے صرف نظر کرنے والی اقوام استحکام اور سلامتی کی منازل سے کوسوں پیچھے رہ جایا کرتی ہیں۔کسی بھی ملک و قوم کی ترقی کیلئے معاشی و سیاسی استحکام کا ہونا ازبس ضروری ہوتا ہے۔ معاشی و سیاسی استحکام میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا واحد راستہ فول پروف معاشی پالیسیوں کو اپنانا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ معیشت کی ترقی و استحکام کیلئے کسی بھی ملک میں داخلی سطح پر امن و امان کی صورت حال کابہتر ہونا ناگزیرہے۔ نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرنے والی محب وطن سیاسی قیادتیں اور جماعتیں ملکی معیشت کے استحکام کیلئے امن و امان کی صورت حال کو عدم توازن کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے کبھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتیں۔گزشتہ69 برسوں میں وطن عزیز جن المیوں اور سانحات سے دوچار ہوا ہے، ان کے پیش نظر محب وطن ارباب بصیرت اور صائب الرائے حلقے یہ توقع رکھتے ہیں آئندہ رااحتیاط کے مصداق ہماری قومی ، سیاسی جماعتیں اور قیادتیں اپنے فرائض حب الوطنی، فرض شناسی اور دیانتداری سے ادا کریں گی۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں دنیا بھر میں برسراقتدار جماعت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے وقت صرف اس ایک نکتے کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں کہ آیا برسراقتدار جماعت کی پالیسیاں ملک کے اصولی موقفات اور معاشی استحکام کے ضامن لوائح عمل سے متصادم تو نہیں؟ برسراقتدار جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنا اپوزیشن کا جمہوری اورآئینی حق ہوا کرتا ہے۔لیکن ترقی یافتہ جمہوری مملکتوں اور معاشروں میں ’’اختلاف برائے اختلاف‘‘ اور ’’تنقید برائے تنقید‘‘ کی روش کو کسی بھی طور مثبت جمہوری اور مفید سیاسی روش تصور نہیں کیا جاتا۔ کسی ایک ملک میں موجود سیاسی جماعتوں کے اہداف مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نصب العین ایک ہی ہونا چاہئے کہ وہ ایسے سیاسی اعمال و افعال اور افکار و اقدار کو ترویج دیں جن کے باعث ملک کی معاشی ترقی، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔غیر یقینی سیاسی صورت حال کی بناء پر ملکی معیشت کو اکثر نقصان ہی پہنچا کرتا ہے۔ سنجیدہ فکر حلقے اس پر متفق الرائے ہیں کہ منتخب جمہوری حکمرانوں کے شایانِ شان نہیں کہ وہ عوامی اجتماعات سے خطاب یا میڈیا سے انٹرویو کے دوران کوئی ایسی غیرمحتاط بات کہے جس سے یہ تاثر قوی ہو کہ اربابِ حکومت عدلیہ یا افواج پر بے جا تنقید کو روا رکھے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی تازہ گفتگو اس امر کی مظہر ہے کہ وہ ریاستی و قومی اداروں سے کسی قسم کی مخاصمت نہیں رکھتے بلکہ وہ ملک و قوم کے بہتر مفاد میں قومی و ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ ترقی کی منزل تک رسائی حاصل کی جا سکے۔