govt-pakistan

تمام ادارے آئینی حدود میں بہتر کارکردگی دکھائیں

بلوچستان ہائی کورٹ میں بلوچستان ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ’ہر ادارہ اپنا آئینی کردار ادا کرے ، ملک کومختلف ادوار میں قومی مسائل کاسامنا رہا جن میں وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور احساس محرومی وغیرہ شامل ہیں، انتظامیہ حد سے تجاوز کرے اور انسانی حقوق پامال ہوں تو عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتاہے، معاملات کو ٹھیک رکھنے کیلئے ہرآئینی ادارہ اپناکردار ادا کرے، لاپتا افراد کی تلاش جاری رہنی چاہیے اس معاملے پر سپریم کورٹ مصلحت کا شکار نہیں ہوگی، اداروں کو بہتر طریقے سے چلانا مشترکہ ذمہ داری ہے،انتظامیہ اختیارات سے تجاوز کرتی ہے تو عدلیہ کو کردار ادا کرنا پڑتا ہے، کوئی بھی شخص آئین و قانون سے بالاتر نہیں،ہر شہری کی آزادی کا مکمل تحفظ ہونا چاہیے، جج کا عہدہ ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور احساس محرومی کے خاتمہ کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بلوچستان میں ماتحت عدالتوں میں تمام اسامیاں پوری کرنا احسن اقدام ہے اب امید ہے سائلین کو جلد اورسستا انصاف مہیا ہوگا۔
واضح رہے کہ ریاست کے تین بنیادی مسلمہ ستون ہیں۔ ان ستونوں پر پوری ریاست کی عمارت ایستادہ ہوتی ہے۔ ان میں پارلیمان ،عدلیہ اور انتظامیہ شامل ہیں۔ جہاں تک پارلیمان کا تعلق ہے چونکہ اسے عوامی مینڈیٹ حاصل ہوتا ہے، اس مینڈیٹ کی بدولت اسے، اس کی بالادستی کو تسلیم کرنا تمام اداروں کا منصبی، آئینی اور اخلاقی فرض ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج اور بیوروکریسی اور دیگر ریاستی ادارے اور حکومتی محکمہ جات مسلمہ اداروں کے ماتحت ہیں۔ ریاستی اداروں کے تمام بالغ نظر ذمہ داران اس پر متفق ہیں کہ تمام اداروں کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھانا چاہئیں۔ جب کوئی ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو عدلیہ کاکردار ادا کرنا ایک فطری امر ہے۔ اس میں دو رائیں نہیں ہیں کہ اداروں کو بہتر طریقے سے چلانا تمام مسلمہ ریاستی اداروں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ان اداروں کے وابستگان کو از خود اس امر کا کامل ادراک ہونا چاہیے کہ اپنے فرائض کو بہ طریق احسن ادا کرنے کے لیے وہ جملہ توانائیاں اور وسائل بروئے کار لائیں گے۔ یہ درست ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں کرپشن کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ بھی غلط نہیں ہے کہ ماتحت عدالتوں میں آج بھی کرپشن کی گرم بازاری ہے، اس کے لیے اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کو ماتحت عدالتوں میں عمل تطہیر کو رواج دینا ہو گا۔ سائلین کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے کہ بلوچستان کی طرح دیگر صوبوں کی ماتحت عدالتوں میں بھی خالی اسامیوں پر بلا تاخیر تعیناتیاں کی جائیں تا کہ انصاف کے حصول کے لیے شہریوں کو خوار نہ ہونا پڑے۔ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی ناانصافی کے زمرہ میں آتی ہے۔ یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ کوئی ادارہ مقدس گائے نہیں ہے۔ اگر یہ ادارے خود احتسابی کے عمل کو اپنا شعار بنا لیں تو ملکی معاملات کا قبلہ از خود درست ہو جائے گا۔ اس قبلے کو درست رکھنے کے لیے آئینی اداروں کو آئین کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی روشنی میں اپنے نظام کو بطریق احسن چلانا ہو گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے درست کہا ہے کہ آئین پاکستان ملک کے تینوں ستونوں کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ اداروں کو اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ آئین ریاست پاکستان کے ہر شہری کو جان ، مال اور آبرو کے تحفظ کا بنیادی حق ادا کرتا ہے۔ اس آئینی حق پر کسی بھی ذیلی ماتحت ادارے کو شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ امر عوامی حلقوں کے لے موجب طمانیت ہے کہ جب جب کسی ماتحت ادارے نے اپنے طاقتور ہونے کے زعم میں شہری آزادیوں کو کچلنے کی کوشش کی، اعلیٰ عدلیہ نے اس کی اس آزادی کا مکمل تحفظ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ یہاں ماتحت اداروں کی دیگر اداروں میں مداخلت اور اپنے مفوضہ اختیارات سے تجاوز کو کسی بھی مہذب ریاست میں اچھا شگون تصور نہیں کیا جاتا۔
یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ عدالت عظمیٰ اور عدالت ہائے عالیہ نے لاپتہ افراد کے کیس میں تاریخی اور اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کیس کے دوران عدالت عظمیٰ نے داخلہ، خارجہ اور دفاع کے وفاقی سیکرٹریز کے علاوہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور پولیس سربراہان کو بھی طلب کیا۔ عدالت نے اُن پر واضح کیا کہ ’لاپتہ افراد کیس میں آئین کے تحت حاصل تمام اختیارات استعمال کریں گے، لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے لیے عدالت کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔بعض افسران کی جانب سے جب عدالت عظمیٰ میں پیشی کے معاملے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا تو یہ عدالت عظمیٰ ہی تھی جس نے واضح کیا کہ کوئی افسر اتنا بڑا نہیں ہوتا کہ عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔ اس کیس میں عدالت کی دلچسپی اس حد تک رہی کہ 29 نومبر 2013ء تک لاپتہ افراد کے مقدمے کی 93 سماعتیں ہوئیں۔ سابق چیف جسٹس نے انتہائی بے باکی سے واضح کیا کہ کوئی اس خوش فہمی نہ رہے کہ ’چیف گیا تو معاملہ ختم ہو جائے گا‘۔ عدالت نے تفتیشی اداروں کے ذمہ داران سے استفسار کیا کہ اسے بتایا جائے کہ ’یہاں تفتیشی اداروں کے پر جلتے ہیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ کس کس کے پر جلتے ہیں‘۔ عدالت عظمیٰ نے ایک سے زائد بار تنبیہ کی کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں کسی بھی ایجنسی نے تغافل یا تساہل سے کام لیا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی‘۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ 11 نومبر 2015ء کو پارلیمان کے ایوان بالا میں ارکان نے بھی اس پر زور دیا تھا کہ ’ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور آئین کا تحفظ ہر شہری اور اداروں کی ذمہ داری ہے‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ریاست کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض دیانتداری اور فرض شناسی سے ادا کریں گے تو دیگر ماتحت حکومتی اور ریاستی اداروں میں بھی اصلاح احوال کے امکانات روشن ہوں گے۔