afghan intelligence

افغان انٹیلی جنس کے سربراہ کا استعفیٰ

افغانستان کی خفیہ ایجنسی دی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے سربراہ رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کے دورۂ پاکستان اور ان سے پالیسی اختلافات کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے صدر اشرف غنی نے منظور کر لیا ہے۔ یہ اعلان رحمت اللہ نبیل کے دفتر کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے خط میں کیا گیا ہے۔ رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کو لکھے جانے والے خط میں کہا ہے کہ مجھ پر صدر کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کا بے انتہا دباؤ ہے،میں چند حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرتا ہوں۔ نبیل نے سرکاری فیس بک پیج پر غیرمعمولی بیان جاری کیا تھا۔
امر واقع یہ ہے کہ افغانستان کی سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں ایسے عناصر قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں جو افغانستان اور پاکستان کے مابین کسی قسم کی مفاہمت اور مصالحت کوپسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے حوالے سے خوشگوار اور مثبت خیالات کا اظہار کیا تھا۔ پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نوا زشریف نے بھی اشرف غنی کا اس حد تک پرتپاک انداز میں استقبال کیا کہ وہ ایئر پورٹ سے اُنہیں لینے کے لیے خود پہنچے۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے اپنی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اس پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانا چاہئیں اور اپنی توجہات مستحکم افغانستان پر مرکوز کرنا چاہئیں۔ یقیناًیہ مثبت خیالات افغان حکومت میں موجود بھارت نواز عناصر کے لیے غیر زود ہضم تھے۔ ان عناصر کی نمائندگی کرتے ہوئے افغان انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ نے احتجاجاً اپنا استعفیٰ صدر اشرف غنی کو پیش کر دیا۔ افغان ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق ان کا استعفیٰ موصول ہوتے ہی صدر اشرف غنی کی جانب سے کہا گیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ افغانستان کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کے سربراہ اس موقع پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں تاہم وہ ان کے مستعفی ہونے کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ نبیل گزشتہ کئی ماہ سے افغان عوام اور حکومت کی جانب سے جارحانہ تنقید کی زد پر تھے۔ قندوز، ہلمند، قندھار اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں افغان طالبان کی کامیاب ترکتازیوں کا ایک سبب افغان انٹیلی جنس کے ادارے کے سربراہ اور اُن کے ساتھیوں کی غفلت اور تساہل کو بھی قرار دیا جاتا رہا۔ نبیل کا استعفیٰ یقیناًافغان سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان پہلے ہی مستقل وزیر دفاع سے محروم ہے اور سکیورٹی صورت حال بھی بہتر نہیں۔یادرہے کہ نبیل پشاور کے ایک مہاجر کیمپ میں مقیم رہے اور وہ افغانستان اور طالبان کے درمیان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں طے پانے والے جلد مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے مایوسی کا شکار تھے ۔ اسی مایوسی کے عالم میں وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوئے جو اس امر کی علامت ہے کہ وہ افغانستان میں بھارتی ایما پر پائیدار قیام امن کے خواب کو تعبیر آشنا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے بعد افغان صدر نے وطن واپسی پر پہلی فرصت میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل کو عہدے فارغ کیا۔ اس سے یہ امید بنتی ہے کہ آنے والے دنوں میں افغان انٹیلی جنس کا سربراہ کسی بھارت نواز شخص کو نہیں بنایا جائے گا۔

وفاقی محتسب: شکایات جلد نمٹانے کا منصوبہ
شذرہ
پاکستان میں عدالتوں پر مقدمات کے دباؤ، انصاف کے لیے شواہد اور گواہوں کی پیشی کے مسائل، وکلاء کا طرز عمل، مقدمے کے ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو تنگ کرنے کے لیے مقدمے کو طول دینے کی کوشش، ہڑتال اور احتجاجوں کی وجہ سے عدالتوں میں کام کی بندش اور دیگر کئی مسائل کی وجہ سے انصاف کا حصول انتہائی دشوار عمل ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے عدالتوں سے کام کے بوجھ کو کم کرنے کی پالیسی وضع کی جس کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں مقدمات نمٹانے کی رفتار میں اضافہ ہوا تاہم اس کے باوجود اعلیٰ عدالتوں اور ضلعی عدالتوں میں مقدمات نمٹائے جانے کا عمل ابھی تک خاطر خواہ حد تک تیز نہیں ہو سکا۔ وفاقی محتسب کا ادارہ 80 کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد سرکاری وفاقی اداروں سے عوام کو در پیش معاملات کو جلد از جلد نمٹانا تھا اس مقصد کے لیے ملک میں وفاقی محتسب کو تعینات کیا گیا اور وفاقی محتسب کا پورا ادارہ تشکیل دیا گیا۔ اس ادارے میں عوامی شکایات کو تیز رفتاری سے نمٹانے کے نتیجے میں عوام کو بڑی حد تک ریلیف ملا۔ اسی ادارے کی کارکردگی سے متاثر ہو کر چاروں صوبوں میں صوبائی محتسب کا ادارہ قائم ہوا۔ بعد میں خواتین کے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے خاتون محتسب کا تقرر بھی کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے وفاقی ٹیکس محتسب بھی مقرر کیا جس کی وجہ سے عوام کو اپنی شکایات دور کرنے کے لیے آسانی حاصل ہوئی۔ وفاقی محتسب کے پاس شکایت درج کرانا نہایت آسان رکھا گیا۔ یہاں وکیل کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور مقررہ مدت میں ہر شکایت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ وفاقی محتسب نے شکایات میں اضافے کے بعد ان کو جلد نمٹانے کے لیے بعض سفارشات تیار کی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی محتسب میں ہر سال 75 ہزار سے زائد شکایات دائر ہوتی ہیں۔ موجودہ وفاقی محتسب کے دور میں 2 لاکھ سے زائد درخواستوں کو نمٹایا جا چکا ہے۔ تاہم درخواستوں کو جلد نمٹانے کے لیے اور شکایت کنندگان کو انصاف ان کے گھر کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے محکمے نے رپورٹ تیار کر لی ہے جو بین الصوبائی رابطہ کمیٹی سے منظوری کے بعد مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کر کے اس کی منظوری لے کر اسے نافذ کیا جائے گا۔ وفاقی محتسب کی انتظامیہ نے اس منصوبہ پر وزارت قانون اور آئینی وقانونی ماہرین سمیت سٹیک ہولڈروں سے جامع مشاورت کی ہے۔ تمام صوبوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریوں سے بھی باضابطہ مشاورت کی گئی ہے۔ اس منصوبہ کے تحت ابتدائی طور پر ملک بھر میں 138 اضلاع اور 435تحصیلوں میں ایک ہی جگہ بیٹھ کر وفاقی اور صوبائی محتسب کے افسران مل بیٹھ کر شکایات کی سماعت کریں گے جبکہ اس منصوبہ کے نتیجے میں عوامی شکایات پر 60 دن کی بجائے اب صرف 15 دن کے اندر فیصلے سنائے جائیں گے۔ جس سے شکایت کنندگان کو جلد از جلد انصاف مل سکے۔ وفاقی محتسب کے ہاں مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کی شرح سو فیصد ہے جبکہ وفاقی محتسب کے فیصلوں پر عمل درآمد کی شرح 97 فیصد ہے جس سے عوام کو بے پناہ ریلیف ملتی ہے۔ وفاقی محتسب کے ادارے نے اپنے لیے جو سفارشات تیار کی ہیں، بین الصوبائی رابطہ کمیٹی اور مشترکہ مفادات کونسل جلد از جلد منظور کرے تا کہ وفاقی محتسب اپنے اوپر لاگو کر کے عوام کی شکایات جلد از جلد نمٹائے تا کہ عوام کو اس حوالے سے پریشانی ختم ہو اور انہیں ریلیف ملنے میں کم سے کم وقت لگے۔