nawaz-khan-meranii-new-copy

CPEC اور ذرا SEE BACK

جسٹس ثاقب نثار کے عدل وانصاف پہ ہمارا دل وجاں نثار ، انہوں نے ملتان بار ملتان بنچ بار کورٹ کے صدر کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں کہا بلکہ اُن سے پوچھا کہ آپ لاہور ہائی کورٹ میں کیوں پیش نہیں ہوئے؟ اگر وزیراعظم عدالتوں میں پیش ہوسکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں پیش ہوئے ۔ میرا خیال ہے کہ دراصل چیف جسٹس یہ کہنا چاہتے ہوں گے ، کہ اگر رستم زماں کا رشتہ دار عدالت میں پیش ہوسکتا ہے تو ”شیر زماں“ کیوں نہیں پیش ہوسکتا، حالانکہ رستم کی دوبدو شیر سے لڑائی ہوئی تھی اور اس نے شیر کو پچھاڑ دیا تھا۔ شیرزماں کی اگر انگلش میں نام کی وضاحت کی جائے، تو بات دورتک چلی جاتی ہے، چیف جسٹس کی بات پر شیرزماں نے کہا کہ نہ تو میں نے عدالت کو تالا لگایا ہے، اور نہ ہی ان کے نام کی تختی اکھاڑی ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کو یہ باتیں ہائیکورٹ میں بتانی چاہئیں تھیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جبکہ اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر ”اَنا“ نہیں یعنی خودی کا مسئلہ نہیں تو ہائیکورٹ میں پیش ہو جائیں، مسئلے میں کبھی اَنا بھی آجاتی ہے۔
ملتان بنچ بدتمیزی کیس میں ”شیرزماں“ نہیں بلکہ ”شیرِزماں“ نے سپریم کورٹ میں اپنا معافی نامہ جمع کرادیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارادل فگار ہوگیا ہے۔ جسٹس کھوسہ صاحب کے جواب میں اگر وکیل شیرزماں یہ کہہ دیتے کہ ہاں میری اناخودی اور غیرت اس بات کی متقاضی تھی کہ میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے سامنے معافی نہ مانگوں، اور ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے بھی معافی نامہ نہ رکھوں، جن کی عدالت میں میرے مو¿کل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ کیونکہ مختاراں مائی بھی غیرت کے نام پہ بے غیرتی کا داغ لگوانے والی اور دیگر پنچایت کے فیصلے کے مطابق عزت گنوانے والی عورتیں بھی جسٹس کھوسہ صاحب کے شہر سے 50میل اور زمانے کے شیر، جن کو سپریم کورٹ سے تھوڑا ریلیف ملتے ہی آنسو بہانے پڑے، کے شہر سے قندیل بلوچ کے شہر جتنا دور ہے، جسٹس کھوسہ صاحب کے انا کا مشورہ دینے پر چیف جسٹس بولے کہ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اس واقعے کی رپورٹ پیش کریں ….اَنا اور غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کو پہلے جو رعایت مل جاتی تھی۔ اس پر ہرفلم میں ایوارڈ حاصل کرنے والی شرمین عبید چنائے نے انا اور غیرت کے نام پر قتل ہونے والوں پر فلم The Girlin Reverبنائی ۔ وزیراعظم ہاﺅس میں جس کو دیکھ کر اور جس سے متاثر ہوکر میاں نواز شریف نے اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیا۔ اور متعلقہ اداروں کو کہا کہ انا اور غیرت کے نام پہ قتل کرنے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بنتا، لہٰذا اس کے بارے میں مناسب قانون سازی کی جائے۔
جیسا کہ کالم کے عنوان سے ظاہر ہے میں سی پیک پہ لکھنے سے پہلے، اور حالیہ چین میں منعقدہ ”برکس کانفرنس“ کے اعلامیے کے ابہام کو دور کرنے کی کوئی دلیل پیش نہیں کروں گا۔ کیونکہ چین کا بار بار یہ اعلان کرنا، کہ وہ کسی ملک کو یہ اجازت باکل نہیں دے گا کہ کوئی ملک پاکستان کے خلاف بیان نہیں دے گا۔ مگر جب اعلامیہ منظر عام پر آیا تو برازیل، جنوبی افریقہ ، روس ، بھارت کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ افغانستان کا روس، اور ترکی کی جانب سے ہارٹ آف ایشیا قرار دے کر اس کو حل کرنا چاہیے۔ اور برکس کے ممالک کے مستقل اور دائمی امن کے لیے ضروری ہے کہ وہاں اُن چند تنظیموں کا سدباب کیا جائے، مثلا تحریک طالبان پاکستان ، لشکرطیبہ اور جیش محمد کا خاص طورپر نام لے کر اس پر زور دیا گیا۔ ان تنظیموں کا ذکر آنے پر بھارت میں خوشیوں کے شادیانے بجنے شروع ہوگئے، اور کانفرنس سے فارغ ہوتے ہی مودی میانمار (برما) وہاں وقت کی ہٹلر آنگ سان سوچی کو مسلمانوں کے خلاف مفت کے مشورے دینے چلا گیا، اور شاید یہ مشورہ مودی نے اس کو دیا ہے کہ اب وہ سرحد پر بارودی سرنگیں بچھانا شروع ہوگئے ہیں۔خداغارت کرے آنگ سان سوچی، حسینہ واجد اور نریندر مودی کو، جو لاکھوں مسلمانوں کے قاتل ہیں اور تینوں کا انجام اور ان کے ظلم کا اختتام عبرت ناک ہوگا۔ جن پر ان کے اپنے ملک میں ماتم کنان کوئی نہیں گا۔
اب ذرا مڑ کر ماضی کی طرف جھانکیں۔ جب برما میں پہلی دفعہ مسلمانوں کو ظلم وستم کا نشانہ (سوچی) بنارہی تھی۔ عین اس وقت حقوق انسانی کی چیمپئن تنظیمیں اور حکومتیں اس بدبخت کو عالمی امن کا نوبل ایوارڈ دے رہی تھیں۔ اسی لیے ان ممالک کی زبانیں گنگ ہو گئی ہیں۔ برما وہ جگہ ہے جہاں آخری تاجدار ہندوستان کو ان کی بیگم زینت محل کے ساتھ اپنے ملک سے کوسوں میل دور رنگون (برما) بھیج دیا گیا تھا۔ اور وہیں انہوں نے وفات پائی۔ آن سانگ سوچی کے ملک کی آدھی آبادی یہودی ہے۔ سرکاری مذہب بدھ مت ہے۔ اس مذہب میں سانپ، بچھو اور دیگر کیڑے مکوڑوں کو بھی مارنے کی اجازت نہیں۔ یہ قاتل عورت جو جنرل کی بیٹی ہے ، جس جنرل کو برما کی آزادی کا حسینہ واجد کے باپ کی طرح ہیرو مانا جاتا ہے۔ اور یہ بدبخت ہندوستان میں سفیر رہ چکی ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی یہ جاہل تعلیم یافتہ جو بظاہر نرم مزاج اور دھیمے انداز میں بات کرتی ہے، اتنی ظالم، سفاک اور بے درد بھی ہوسکتی ہے۔
برما کو چین کی کالونی بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ براہ راست چین ہی اس ملک کا کفیل اور اس کی امداد سے چلتا ہے۔
قارئین کرام میری طرح آپ کا تعلق بھی ایک جذباتی لاابالی قوم سے ہے۔ جو زمینی حقائق کے برعکس فیصلے کرتی ہے۔ اور ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہرے تعلقات کا ذکر شہید بھٹو سے موجودہ حکومت سمیت سبھی کرتے ہیں، مگر وہ اپنے روحانی پیشوا میاں محمد بخشؒ کا یہ شعر صرف سردھننے اور دف بجانے تک محدود کردیتے ہیں۔ لہٰذا ان کا فرمان ہے کہ سمندروں سے گہرے عشق ومحبت والوں کے دلوں کے بھید کون جان سکتا ہے کہ ان کے دل کی گہرائی تو سمندروں سے بھی زیادہ ہے۔ یہی حال چین کا ہے، اس نے اپنے برکس کے اعلامیے میں بیک وقت پاکستان اور بھارت کو خوش کردیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں حالانکہ جن کو پاکستان سے نہیں دوسرے ملکوں سے امداد ملتی ہے ان پر پابندی لگانی چاہیے ، کیونکہ برکس میں شامل ممالک کو امن وسکون چاہیے، تاکہ ان کی معیشت واقتصادیات مستحکم رہے۔ مگر اس ضمن میں بھارت کو بھی ایسے ایشو کو حل کرنا چاہیے جن سے امن کو خطرہ ہے ان کا اشارہ مسئلہ کشمیر کی طرف ہے۔
دراصل چین اپنی تجارتی سرگرمیوں کا دائرہ پوری دنیا تک پھیلانا چاہتا ہے۔ اس لیے اس میں شامل ممالک کی سرحدیں، شمال جنوب اور مشرق مغرب تک ہیں۔ اسے پیسے بنانے کے لیے دو نمبر مال بنانے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔ بھارت میں پاکستان کے مقابلے میں مزدوروں کی اجرت نہایت کم ہے اور بنگلہ دیش میں بھی یہی صورت حال ہے۔ اس کے ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کی سزا موت ہے۔ مخلص ہونے کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ پاکستانی عوام کو ہر سمجھوتے اور ہرمعاہدے میں اعتماد میں لیتا۔ میں ہمیشہ سے یہ لکھتا رہا ہوں کہ ہمیں ہرملک سے دوستی کرتے وقت اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر قوم کا مفاد مقدم رکھنا چاہیے۔ اور کسی دہریے کی بجائے توکل کرتے ہوئے اپنے خالق ورازق کی طرف دیکھنا چاہیے۔
ہمارے وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر خارجہ خواجہ آصف یقیناً یہ جانتے ہیں کہ ہم بھی چین کے مخلص دوست ہیں، ہم نے ہی چین اور امریکہ کی سردجنگ ختم کرائی۔ ہم نے ہی ان کے سفارتی تعلقات قائم کرائے۔ ہماری وجہ سے ہی چین کو ایک تجارتی منڈی کی سہولیات میسر آئیں، لہٰذا وزیر خارجہ چین کے دورے پر اس لیے ترجیحاً گئے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے آزمائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بھی ذہن میں رہے کہ بھارت پاکستان کے مقابلے میں بہت بڑا ملک ہے، جہاں چین کا تجارتی مال سرعت اور تیزی سے کھپ سکتا ہے۔ خودی وانا کے بارے میں علامہ اقبال کا شعر قوم اور جسٹس کھوسہ کی نذر
خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر
قفس ہوا ہے حلال۔ اور آشیانہ حرام!
خودی کی موت سے پیرِحرام ہوا مجبور
کہ بیچ کھائے مسلمانوں کا جامہ¿ احرام!