tariq mehmood ch

یہ ہے نائن الیون کا کمال

کامل 16 سال گزر گئے، امریکی اسلحہ ساز فیکٹریاں ڈبل شفٹ میں کام کر رہی ہیں۔ دہشت گردی کا بظاہر سب سے بڑا مخالف ملک حکومتوں کے ساتھ بھی ہے اور ان سے لڑنے والے باغیوں کے ساتھ بھی۔ وہ دہشت گردوں کو بھی فراخ دلی سے اسلحہ دے رہا ہے اور ان سے نمٹنے والی فورسز کو بھی۔ اس کا دھندہ جاری ہے اور مال ہے کہ دونوں ہاتھوں سے سمیٹا جا رہا ہے۔ یہ ہے نائن الیون کا کمال۔
16 برس پہلے 4 مسافر بردار طیارے یکے بعد دیگرے امریکی سطوت و جبروت شاہی کی علامت بن کر سر اٹھائے کھڑے جڑواں ٹاوروں سے ٹکرائے۔ اس نحوست زدہ، قیامت صغریٰ نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ 11 ستمبر کی صبح جب ابھی دنیا کے مختلف ممالک میں کہیں شام کے سائے، کہیں رات کی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ نیویارک میں ابھی کاروبار زندگی کا آغاز ہو رہا تھا کہ یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا۔ اس روز دہشت گردی کے نام پر ایسا جن بوتل سے آزاد ہوا، جو آج بھی نسل آدم کو شکار کرتا پھر رہا ہے۔ آج سولہ برس بعد دیکھا جائے تو امریکی مختلف خطوں میں نائن الیون کے بہانے اپنے قدم جمانے کی کوشش میں مصروف ہیں، وہ کامیاب ہیں یا ناکام۔ اس بات کا فیصلہ فی الحال نہیں ہو سکا۔ ابھی تک یہ بھی فیصلہ نہیں ہو سکا کہ اس سانحہ کا اصل ذمہ دار کون تھا؟ القاعدہ، سی آئی اے یا کوئی اور پس پردہ ہاتھ؟ جو آج بھی اسرار کی تہوں کے پیچھے پوشیدہ ہے۔ کون جانتا ہے کہ کب حالات کا کوئی منہ زور جھکڑ، اس راز سے پردہ اٹھاتا ہے۔ آج سولہ سالوں بعد اگر اس کا حساب کتاب لگایا جائے۔ سودو زیاں کی جمع تفریق کی جائے، یہ دیکھا جائے کہ کون خسارے میں گیا۔ کون فائدے میں رہا۔ لیکن بہت سی جبینوں پر شکنیں پڑ جائیں گی۔ مگر اس خاکسار کی رائے ہے کہ اکلوتی سپر پاور امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہا۔ آج اس عالمی تھانیداری کی عملداری کا دائرہ وسیع ہو چکا۔ اگرچہ طاقت کے نئے مراکز ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ چین، معاشی طور پر ایک طاقت بن کر سامنے آ رہا ہے۔ روس نئی انگڑائی لے کر طلوع ہونے کیلئے کوشاں ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کی کئی طاقتیں بتدریج سکڑ رہی ہیں۔ جاپان اب وہ ماضی قریب کا جاپان نہیں۔ شمالی کوریا اس کو مسلسل چیلنج کر رہا ہے اور جاپان کے ایوان ہائے اقتدار پر لرزہ طاری ہے۔ جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جاپان نے اپنے دفاع سمیت اپنی بقا کی ذمہ داری امریکہ پر ڈال رکھی ہے۔ جاپانی قوم یہ بھول گئی کہ گھر دولت سے بھرا ہوا ہو، لیکن اس کی حفاظت اغیار کے ذمہ ڈال دی جائے تو وہ لوٹ مار کرنے والوں کی آماجگاہ بن جایا کرتا ہے۔ یورپ میں یورپی یونین کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ برطانوی عوام نے اتحاد کے نام پر مہاجرین کی یلغار سے تنگ آ کر بریگزٹ کے نام پر ریفرنڈم میں فیصلہ کر دیا۔ انہوں نے اتحاد کی زنجیروں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ اب برطانیہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر چند جزیروں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد عالم انسانی پر جو جنگیں مسلط کیں۔ برطانیہ ہی نہیں اس کے نیٹو اتحادی، امریکہ کو خوش کرنے اور مال غنیمت میں سے حصہ بقدر جثہ وصول کرنے کے چکر میں، ان بے مقصد جنگوں میں کود پڑے۔ برطانیہ، عراق جنگ میں سب سے آگے تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ نصف عراق کا مالک بن جائے گا۔ نوآبادیاتی دور کی طرح۔ لہٰذا کیمیائی ہتھیاروں کی کھوج کے نام پر وہ امریکہ کا ہراول دستہ بن گیا۔ آخرکار طویل عرصہ بعد یہ راز خود برطانوی پارلیمنٹ کے قائم کردہ کمیشن نے فاش کر دیا۔ کیمیائی ہتھیاروں کا کوئی ثبوت نہ ملا۔ ٹونی بلیئر اپنی قوم سے منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔ مال غنیمت سے حصہ تو کیا ملتا، الٹا دہشت گردی سات سمندر پار کر کے اس میں آ کودی ہے۔ لندن سے لے کر کئی چھوٹے بڑے شہر آج خوف، بے یقینی کی لپیٹ میں ہیں۔ یورپ میں بھی یہی کچھ ہوا۔ اہل یورپ اس بات پر شاداں و فرحاں تھے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ ان کے پرسکون آشیانوں سے بہت دور، مشرق وسطیٰ، اس سے بھی آگے، افغانستان کے ریگزاروں، اس کے ہمسایہ، پاکستان کی سرزمین پر لڑی جا رہی ہے۔ وہ مطمئن تھے کہ وہ آگ صرف مسلمانوں کے گھروندے جلا کر بھسم کر رہی ہے۔ ان کے بچے یتیم، ان کی عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں۔ لیکن یہ سوچ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ آگ، بھڑکتی ہوئی آگ کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔ اہل یورپ خوشی سے بغلیں بجا رہے تھے کہ ہم نے اپنے ائیرپورٹ، اپنی بندرگاہیں، مسلمانوں پر بند کر دیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ان کی اپنی گود میں پلنے بڑھنے والے نوجوان، زمینی یلغار کا سامنا نہ کر سکے۔ ناانصافی نے ان کے ذہنوں کو مسخر کر لیا۔ پہلے میڈرڈ پھر پیرس، پھر برسلز، پھر پیرس، برلن، دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ جب کوئی بغاوت پر اتر آئے تو پھر ہتھیار کا ہونا یا نہ ہونا غیر اہم ہو جاتا ہے۔ ان ہاتھوں نے جلتی گاڑیوں کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں تیزرفتار گاڑیوں کے نیچے ہجوم کو کچل کر دہشت گردی کا بازار گرم کرتے ہیں۔ لیکن اہل یورپ کو ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ غلطی پر ہیں۔ وہ آج بھی سپر پاور کو خوش کرنے کیلئے افغانستان کی سفاک باغی سرزمین پر موجود ہیں۔ امریکہ اپنے مزید ساڑھے تین ہزار سپاہی افغانستان تعینات کر رہا ہے۔ جبکہ نیٹو اتحادی بھی، مزید افواج بھجوانے مع مزید رقم خرچ کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ لیکن وہ دہشت گردی کی اس آگ کو کیسے بجھائیں گے، جو نائن الیون کی سفاکیوں کے بطن سے بھڑکی ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ فوری طور پر افغانستان اور عالم اسلام پر چڑھ دوڑا۔ افغانستان کے عوام کا نائن الیون کے حملوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسامہ بن لادن نے اس واقعہ کے بعد اپنے کئی انٹرویوز میں اس سانحہ سے لاعلمی کا اعلان کیا۔ لیکن امریکہ کو تو موقع چاہئے تھا کہ وہ وسطی ایشیا اور چین کے دہانے پر براہ راست بیٹھ جائے۔ نائن الیون کے بہانے امریکہ عراق پر قابض ہوا۔ آج وہاں کٹھ پتلی حکومت ہے۔ شام کے اتنے ٹکڑے ہو چکے کہ اب ان کو سمیٹنا ناممکن ہو چکا۔ لیبیا نام کا ملک اب صرف نقشے پر ہے۔ عملی طور پر ان کا کوئی وجود نہیں۔ سعودی عرب اور قطر باہم برسرپیکار ہیں۔ سعودی عرب کے نرخرے پر امریکہ کا آہنی انگوٹھا ہے۔ ایران اپنی بقا کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ افغانستان، عراق، شام پر ڈمی حکمران مسلط ہیں۔ امریکہ اربوں ڈالر خرچ کر کے افغانستان میں اپنا تسلط برقرار رکھ رہا ہے۔ اب اس نے خطہ میں بالادستی کیلئے بھارت کی شکل میں اپنی نئی پراکسی تیار کی ہے۔ بھارتی جنتا، شاید امریکی قربت سے خوش ہے۔ اس بات سے بے خبر کہ مستقبل میں اس کی کیا قیمت ادا کرنا ہوگی۔ امریکہ کو نائن الیون سے فائدہ ہوا یا نقصان۔ یہ سوال ابھی تشنہ جواب ہے۔ لیکن اگر کوئی خسارہ میں ہے تو وہ عالم اسلام۔ جس پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کا لیبل لگ گیا۔ اس کی قیمت ادا کی تو پاکستان نے۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔ نئی دہشت پسند تنظیمیں وجود میں آئیں۔ آج سولہ سال بعد امریکہ کی بالادستی کو قائم رکھنے کے جنون نے امن عالم کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ تو معلوم نہیں کہ نائن الیون کا ماسٹر مائنڈ کون ہے۔ لیکن اس کا بینیفشری صرف اور صرف امریکہ ہے۔