nasif awan new

یہ رات دھندلی سی

پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ہر چھوٹے بڑے شہر کا ہے۔مگر لاہور میں یہ مسئلہ گھمبیر شکل اختیار کر تا جا رہا ہے۔ جس سے عام لوگ جگر، معدے اور گردوں کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں
یہی وجہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ جو خود کو خادم اعلیٰ کہلوانا پسند کرتے ہیں کو طلب کر کے صورت حال سے متعلق استفسار کیا۔ یقیناًانہوں نے ( وزیر اعلیٰ نے ) تیز تیز بولتے ہوئے کچھ نہ کچھ بتایا ہوگا اور وعدہ بھی کیا ہوگا۔ لہٰذا عین ممکن ہے اب وہ لاہور کے لوگوں کو کم از کم پانی جو شفاف اور جراثیموں سے پاک ہو فراہم کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے کہ عدالت نے انہیں قانون پر عمل در آمد کرنے والا حاکم کہہ دیا ہے اب ان کے پاؤں بھی زمین پر نہیں ٹک رہے ہوں گے۔ ویسے وہ کافی حد تک عدالت کا احترام کرتے ہیں کہ اُدھر اس نے سڑکوں شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانے کو کہا ادھر انہوں نے جھٹ سے صفائی کر وا دی۔ میرے دوست جاوید خیالوی نے استدعا کی ہے جناب خادم اعلیٰ سے کہ وہ عوام کی دہائی کو سنتے ہوئے ان کے دیگر مسائل کو بھی حل کرنے کی کوشش کریں۔ مثال کے طور پر تعلیم کا شعبہ ہے جسے ان کی حکومت روز بروز پیچیدہ بناتی چلی جا رہی ہے۔ بچوں کی حاضری سے لے کر اساتذہ کی چھٹیوں تک کو اس نے مشکل بنا دیا ہے۔ اساتذہ کو پابند کر دیا ہے بچے گھیر گھار کر سکولوں میں لائیں۔ ان کی حاضری کو نوے فیصد بنائیں۔اتفاقیہ رخصت منظور کرانا ہو گی کسی بڑے افسر سے۔ عجیب و غریب قوانین و ضع کیے جا رہے ہیں بھلا
اتفاقیہ کے لیے پہلے منظوری لینا پڑتی ہے؟ اور اساتذہ بچوں کو ان کے گھروں سے لائیں! یہ بھی درخواست گزار ہے کہ غریبوں کے لیے رہائشی سکیموں کے مالکان کو یہ ہدایت جاری کی جائے کہ وہ پلاٹ سستے داموں فروخت کریں اور تمام سہولتیں بھی فراہم کریں۔ مگر افسوس اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ لہٰذا عام آدمی کی زندگی بڑی تلخ اور بد حال ہوتی جا رہی ہے۔ جاوید خیالوی جو میرا بہت پیارا دوست ہے اکثر ایسی فریادیں کرتا رہتا ہے اور حکمرانوں کو متوجہ کرنے کی سعی کرتا ہے مگر ابھی تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ پھر وہ کہتا ہے چلیے عدالت تو کامیاب ہو ہی گئی ہے۔ یہ بھی اس کی کامیابی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اورنج ٹرین کا کارنامہ سر انجام نہ دیا جاتا تو جتنے بھی بنیادی مسائل ہیں آسانی سے حل ہو جاتے مگر خادم اعلیٰ چند ہزار یا چند لاکھ لوگوں کو سفر کی سہولت دے کر اپنے فرض کی تکمیل چاہتے ہیں۔ جس پر لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں اور قصبوں کے لوگوں کو اعتراض ہے کہ وہ ان پر خرچ ہونے والا فنڈ اورنج لائن ٹرین پر صرف کر رہے ہیں کیوں؟ ہو سکتا ہے عدالت یہ بھی پوچھ لے۔
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ حکومت۔۔۔خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اسے اپنے عوام کی صحت و تعلیم کا خیال نہیں اگر ہوتا تو عدالت عظمیٰ کیوں اسے کٹہرے میں آ کر جواب دینے کو کہتی۔ لہٰذا اب اگر رانا ثناء اللہ یا ان کے دوسرے ساتھی وزیر اس عمل کو غیر ضروری تصور کرتے ہیں تو سر پیٹنے کو جی چاہے گا کہ وہ خود بھی کچھ نہیں کرنا چاہتی اور دوسروں کو بھی نہیں کرتے دیکھنا چاہتی ۔ مگر شیر اک واری فیر کا نعرہ بانہیں کھڑی کر کے لگا رہے ہیں۔ ستارے مگر یہ کہتے ہیں کہ اقتدار کا ہما اب کسی اور کے سر پر بیٹھے گا۔ بھلا عوام ان لوگوں کو کیسے جتوائیں گے کہ جنہوں نے انہیں صاف پانی مہیا نہیں کیا۔ تعلیم کے حصول کو آسان نہیں بنایا ۔ ہسپتالوں میں علاج کی سہولت نہیں فراہم کی۔ایک بستر پر تین تین مریضوں کو لٹائے جانے کی اذیت سے نجات نہیں دلائی۔تھانے اور پٹوار خانے مسلسل انہیں نوچتے رہے مگر اس نے آنکھیں بند کیے رکھیں۔ سرکاری ادارے سب کے سب ( سویلین) نذرانے لے کر بھی ان کو جھٹکے لگاتے رہے۔
بہر حال ادھر کچھ بھی ممکن ہے کیونکہ عوامی جذبات، آنسوؤں کے اسیر دیکھے گئے ہیں۔ لہٰذا اگر حکمرانوں میں سے کسی نے کسی عوامی اجتماع میں آ کر نیر بہائے تو رائے عامہ تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میاں نواز شریف کے تواتر کے ساتھ جلسوں سے خطاب کرنے پر دھیرے دھیرے ان کے مخالفین میں سے بعض کے دل پسیجتے جا رہے ہیں۔ ان کی سوچ بدل رہی ہے کہ سیاسی فیصلے وہ خود کریں گے۔ مگر پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے کوئی غلط طریقے سے دولت حاصل نہیں کی تو انہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے اور عدالتوں کو جواب دینا چاہیے۔ کیونکہ عدالتوں میں ہی قانونی فیصلے ہوتے ہیں۔
بات کا رخ دوسری طرف مڑ گیا۔ پانی کے مسئلے نے جہاں عوام کی صحت پر براہ راست منفی اثرات مرتب کیے ہیں وہاں ان کے ماہانہ بجٹ کو بھی متاثر کیا ہے کہ وہ ایسا پانی پینے پر مجبور ہو گئے ہیں اور جو کمپنیاں تیار کرتی ہیں اور کئی بار زیادہ تر کے معیار کو غیر صحت مند قرار دے دیا گیا ہے۔
ان میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جن کے مالکان با اثر تھے، اب بھی ہوں گے۔ اس طرح غریب عوام کو دوہری پریشانی کا سامنا ہے۔ مگر حکومت کو معذرت کے ساتھ اپنی پڑی ہوئی ہے، وہ آئندہ کے لیے تیاری پکڑ رہی ہے۔ ٹھیک ہے اگر وہ چند ماہ میں نظام زندگی تبدیل کر دیتی ہے۔ بد عنوانی، رشوت، کشیش، تھانہ کلچر، روزگار، ماحولیات، مہنگائی، ملاوٹ اور قبضہ گیری سے متعلق اقدمات کرتی ہے تو پھر عوام کی اکثریت اسے کامیابی دلوا دے گی بصورت دیگراسے مختلف صورت حال سے دوچار ہونا پڑے گا۔ مگر لگ رہا ہ کہ وہ یہ سب کرنے میں ناکام رہے گی۔ کیونکہ شاید اس کے بس میں نہیں رہا۔ وہ سیاسی الجھاؤ میں الجھ چکی ہے لہٰذا اب عدلیہ کوہی بگڑے کام درست کرنا ہوں گے۔ اس کے لیے وہ اپنا آئینی اور قانونی کردار ادا کرنے کے لیے مستعد نظر آ تی ہے تا کہ ملک میں جو مایوسی اور بد دلی پھیل
رہی ہے اسے ختم کیا جا سکے۔ پانی ایسے مسئلے کے لیے اس کا از خود نوٹس لینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون اور آئین خاموش نہیں رہ سکتے۔ انہیں آ گے بڑھ کر اس دھرتی پر جو دھند لکے چھا رہے ہیں اس سے چھٹکارا دلانا ہے۔ مگر بات سوچنے کی ہے کہ جب حکومت اپنے تمام وسائل کے ساتھ موجود ہے ہر نوع کی مشینری اس کے ساتھ کھڑی ہے تو وہ عوامی فلاح کے لیے کیوں متحرک نہیں ہو سکتی۔ دراصل وہ لوگوں کو کسی بھی طرح سے صحت مند دیکھنا نہیں چاہتی کیونکہ وہ جب ذہنی اور جسمانی طور سے توانا ہو جاتے ہیں تو حکمرانوں اور حکمرانی کے بارے میں یکسو ہو کر سوچنے لگتے ہیں۔ اور جدوجہد کی راہ پر نکل پڑتے ہیں تاکہ اپنے فیصلے خود کرنے کے لیے ایوانوں تک رسائی حاصل کر سکیں، جو سرمایہ داری نظام کے حامی و محافظ حکمرانوں کے وارے میں نہیں۔ لہٰذا وہ ایک طرف عوام کو بیماریوں میں مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں تو دوسری جانب ان کی جمع پونجی کو بھی ہتھیاتے ہیں۔ مگر عرض ہے کہ اب مزید ان کا یہ عیارانہ و مکارانہ طرز عمل جاری نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ عوام میں بد گمانی و بد حالی عروج پر پہنچی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ جو کسی طور پر کسی حوالے سے درست نہیں۔ لہٰذا امید کی جاتی ہے کہ اب قانون اور آئین کا راج ہو گا۔ لہٰذا عوام بہت جلد اپنی خواہشوں کو پورا ہوتا دیکھیں گے۔