Waleed Malik

یہودی اپنے خاتمے کی جانب گامزن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب بیت المقدس کو نسل پرست ریاست ( اسرائیل ) کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا تو راقم بالکل حیران نہیں ہوا ۔ کیونکہ راقم گذشتہ چھ سال سے دینی و مذہبی حلقوں اور خاص کر ان کی قیادتوں کو باور کروانے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں نے تین دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں جو خون ریز جنگوں کا الاؤ بھڑکیا ہوا ہے ، جس کا دوسرا سرا افغانستان و پاکستان سے جا ملتا ہے۔ یہ سب گریٹر اسرائیل کے لیئے ہو رہا ہے ۔ جس کا اگلا مرحلہ مسجد اقصیٰ کو گرا کر تیسرے ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر ہے، جو لعین دجال کا ہیڈ کوارٹر ہو گا ۔11ویں صدی عیسوی سے صلیبی جنگوں کے آغاز سے ہی ملعون یہودیوں نے اس کا خواب دیکھنا شروع کر دیا تھا یہودی دجالی تنظیم’’. فری میسن ‘‘کا 1771میں قیام اور 1923 میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اسی طرح 23جولائی2014 کو اسرائیل کے ریٹائرڈ ملٹری انٹیلی جنس چیف ، میجر جنرل آموس یلدن نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے غزہ پر ننگی جارحیت کو مقدس جنگ قرار دے کر مسققبل کے اپنے خوفناک ارادوں کو ظاہر کر دیا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ نسل پرست ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فرانسیسی ، ارجنٹائن اور روسی یہودیوں کے علاوہ 2000 امریکی یہودیوں نے بھی اس ننگی جارحیت میں حصہ لیا تھا ۔ درحقیقت لعین ، مملکت اسلامیہ پاکستان ، افغانستان ، شام ، فلسطین ، عراق ، سعودی عرب اور یمن میں اپنے شیطانی دجالی منصوبے کے حصول کے لیے اپنے گماشتوں سمیت متحرک ہو چکے ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ آج تک ان ملاؤں نے اس منظرنامے اور تلخ حقائق کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ درحقیقت اس طبقے نے اپنے ارد گرد ایک محدود فکر کا دائرہ کھینج لیا ہے ، جونہ تو خود اس دائرہ سے باہر نکلتے ہیں اور نہ ہی کسی اورکو ۔ حالانکہ دین اسلام پوری کائنات اور اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے ۔جس سے کٹ کر آپ دین اسلام کی دعوت و منہج جہاد نبوی کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے ۔جس کا ہولناک نتیجہ خوارج ، تکفیریت اور رافضیت جیسے فتنوں کی شکل میں نکلتا ہے ۔
انتہا پسند ٹرمپ کے اعلان سے امت اسلامیہ کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ اعلان خود نسل پرست ریاست کے خاتمے کی جانب ایک اور قدم ہے ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آج سے چودہ سو سال قبل اس سارے منظرنامے کو کیسے شاندار نصیحت آموز طریقے سے امت اسلامیہ کے ہر فرد کو سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ ’’ان کی شدید دشمنی تو ان کے مونہوں سے ظاہر ہو چکی ہے اور جو کچھ ان کے سینے چھپا رہے ہیں وہ زیادہ بڑا ہے ۔ بے شک ہم نے تمہارے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں اگر تم سمجھتے ہو ‘‘ (العمران ۱۱۸)راقم کی رائے میں عالم اسلام کی دینی ، مذہبی و جہادی قیادتوں کاا س وقت جو کرنے کا کام ہے وہ یہ ہے کہ نوجوان نسل کو قرآن وسنت کی رو سے آنے والے اس جہاد عظیم کے لیے تیار کریں ۔کیونکہ یہ جنگیں ہمارے مقدروں میں لکھی جاچکی ہیں۔
یہودی ایک نسل پرست اور اللہ کی طرف سے دھتکاری ہوئی قوم ہے ۔ جن کی تاریخ ہی دہشت گردی ، انسانیت اور انبیاء کے قتل وغارت جیسے قبیح جرائم سے بھری پڑی ہے۔ یہ ملعون بنیادی طور پر ایک متعصب ، عیار ، بزدل ، مغضوب اور قرآن کی نص کی رو سے اسلام اور اس کے ماننے والوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ملعون گریٹر اسرائیل کے چکر میں شعوری یا لا شعوری طور پر اپنے خاتمہ Elimination Of the Jews کی طرف تیزی سے گامزن ہیں۔سابق امریکی وزیر خارجہ اور یہودی دانشور ہنری کسنجر نے اکتوبر2012 میں اپنے خاتمے کے حوالے سے کڑوا سچ بولتے ہوئے کہا تھا’’ کہ آئندہ دس سال میں اسرائیل کے وجودکا خاتمہ ہو جائے گا ‘‘ ۔ ان شاء اللہ
صہیونی ریاست کے اختتام کی یہی شروعات ہیں۔ اس کی پہلی دلیل وہ حدیثِ مبارکہؐ جس کے مطابق اس وقت یہودیوں کو کہیں بھی پناہ نہیں ملے گی سوائے غرقد کے درخت کے ، کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے ۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وقت پورے اسرائیل میں بیس کروڑ سے بھی زیادہ غرقد کے درخت کاشت کیے جا چکے ہیں ۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ اپنے مسیح( لعین دجال ) کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے بچانے کے لیے اس کے فرار کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ’’لد Lod-Lydda ‘‘ میں اسرائیل نے دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی او ر اعلیٰ سیکورٹی سے لیس ایک ایئر پورٹ بنایا ہے ۔ جو تل ابیب سے جنوب مشرق میں 24کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔ جس کے دروازے پرسیدنا عیسیٰ علیہ السلام اپنے خنجر سے لعین دجال کو جہنم واصل کریں گے ۔ جس کے بعدپوری دنیا پر اسلام کا غلبہ ہو جائے گا اور قرآن و سنت کی حامل خلافت قائم ہو جائے گی۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ نسل پرست ریاست مستقبل میں مجاہدین اسلام کی یلغاروں کو روکنے کیلئے اپنی تمام سرحدوں پر سکیورٹی کے نام پر کنکریٹ کی دیوار یں تعمیر کر رہی ہے۔ 2002 میں شروع کیے گئے اس منصوبے پر 90فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔ ان دیواروں کی زمین سے اونچائی 5میٹر سے لیکر 8میٹرتک ہے اور زمین میں گہرائی 3سے 4میٹر تک ہے۔ دیواروں کے اوپر کانٹے دار الیکٹرک ڈبل وائرلگائی گئی ہے جس پر الیکڑونک سینسر بھی لگائے گئے ہیں جو پاس سے گزرنے والے کی ہرحرکت کو نوٹ کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ خوف زدہ ملعونوں نے شمالی اسرائیل کی طرف سمندر میں کئی کلومیٹر تک باڑ لگانے کا کام شروع کر رکھا ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ جب کہ اس سے قبل نسل پرست ریاست غزہ کی جانب سے ساحل سمندر پر ایک باڑ لگا چکی ہے ۔ اگر ایک جانب ملعون یہودی دنیا ئے اسلام پر غلبہ کا خواب دیکھ رہے ہیں تو دوسری جانب اپنے خاتمہ کے سلسلے میں بھی پریشان ہیں کیونکہ وہ اس شعر کا مطلب باخوبی سمجھتے ہیں ۔
خیبر خیبر یا یہود ۔۔۔ جیشُ محمدؐ سوف یعود