mr malik new diary

یونیورسٹی کیمپس میں طلبا کا تعلیمی استحصال

اعلی ٰ تعلیم یافتہ لوگ کسی بھی ملک کی تہذیب و تمدن کے علمبر دار ہونے کے ساتھ ساتھ اس ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ قوموں نے ہمیشہ اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کی ہے تاریخ گواہ ہے کہ وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے ایسے چند تعلیم یافتہ اور عظیم خیالات کے مالک افراد کی کوششوں کے عوض ہمارا وطن پاکستان معرض وجود میں آیا لیکن اس کو پاکستان کی بد قسمتی سمجھ لیں کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک کسی بھی برسر اقتدار حکومت نے تعلیمی شعبہ کی طرف خاص توجہ نہیں د ی اور نہ شرح کواندگی میں اضافے کیلئے کوئی مثبت اقدامات کئے۔ یہی وجہ ہے کہ معرض وجود میں آنے کے 70برس بعد بھی ہمارے ملک کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں ملک کے تعلیمی شعبے میں قدرے ترقی ہوئی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور ملک میں شرح خواندگی میں ہونے والے اضافے میں ایچ ای سی کا کردار ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔شعبہ تعلیم کو بطور تجارت اپنا کر جنوبی پنجاب کو اس وقت انتہائی پر کشش خطہ قرار دیا جارہا ہے۔ نیلسن منڈیلا کے اس قول کہ ’’جن معاشروں میں تعلیم اور صحت کے شعبہ کو بطور تجارت اپنا لیا جائے وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں ‘‘کی عملی شکل ہمیں جنوبی پنجاب میں نظر آتی ہے جہاں ہائر ایجوکیشن کے نجی تعلیمی ادارے زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے مقاصد کی آبیاری کے بجائے تجارتی مراکز نظر آتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے معاشرتی شعور کو اجاگر کرنے کیلئے تعلیم سب کیلئے جس پالیسی کا اغاز اپنے دور حکومت میں مفت بنیادی تعلیم کی سہولیات بہم پہنچا کر کیا تھا۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج زوال پذیر ہوتی گئی روان اور مثالی سرکاری تعلیمی ادارے نجی سیکٹر میں بااثر افراد کو فروخت کئے جاتے رہے۔ ضلع لیہ ہی کی مثال لیں مھض ایک ہی ادارے کا بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا سب کیمپس قانونی ہے جا کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہوا جبکہ دیگر محض فرنچائز ہیں جن کی پیشانی پر سب کیمپس لکھ کر تعلیم کی تجارت کا دھندہ کیا جارہا ہے۔ یہ فرنچائزیں سب کیمپس کے نام پر جس یونیورسٹی سے الحاق کی دعویدار ہوتی ہیں وہ یونیورسٹی انکو محدود سیٹیں مختص کرتی ہیں جس کے تحت متعلقہ یونیورسٹی سے جاری مختص سیٹوں کی تعداد سے زائد داخلے نہیں کئے جاسکتے مگر مطلوبہ تعداد سے زیادہ داخلے کرنا مطمع نظر محض دولت کا حصول ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ سمسٹرز کی بھاری فیسیں وصول کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں سمسٹر فیس4تا 6ہزار روپے جبکہ نجی سیکٹر میں کام کرنے والی ان تجارت گاہوں میں 50روپے وصول کئے جارہے ہیں۔ اسناد کے اجرا میں تاخیر کی بنیادی وجہ اور پس منظر بھی متعلقہ یونیورسٹی کی مختص سیٹوں سے زائد داخلے ہیں گویا پیسے بٹورنے کیلئے طلباء کے لواحقین کو حقائق سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔ ایک بڑی قباحت یہ ہے کہ داخلوں کے وقت میڈیا پرسنز کو خرید کرمثالی تعلیمی سرکاری اداروں کے خلاف باقاعدہ منفی سرگرمیوں کی مہم چلائی جاتی ہے۔
روز نامہ کسک ڈیرہ غازیخان نے اپنے اداریہ میں جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر لکھا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں ناانصافیاں جیسے جنوبی پنجاب کے عوام کا مقدر ہوکر رہ گئی ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کا اگر تعلق پانی سے ہے تو پانی کے معاملہ میں بھی جنوبی پنجاب کے ساتھ ناا نصافی روا رکھی جارہی ہے۔ وطن عزیز میں مون سون کی بارشوں کا 70فیصد جولائی سے ستمبر کے دوران ہوتاہے۔ اس عرصہ کو قیمتی جانتے ہوئے چاہیے تو یہ تھا کہ لاکھوں کیوسک پانی جو سمندر میں گر کر ضائع ہوتا ہے۔ ذخیرۂ آب کے ذریعے اسے استعمال میں لایا جاتا مگر اس کوبھی سیاست کی نذر کر دیا گیا اور ذخیرۂ آب بڑھانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی۔ اس وقت 40فیصد پانی ہر سال سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے کالا باغ ڈیم جیسے عظیم معاشی منصوبہ کی مخالفت میں پیپلزپارٹی ، اے این پی اور اس کے نام نہاد تنخواہ دار دانشور پیش پیش ہیں اور ن لیگ نے تو اپنے منشور سے کالا باغ ڈیم نکال دیا ہے جبکہ جنوبی پنجاب ملک کی 80فیصد غذائی قلت کو بھی پورا کرتا ہے مگریہاں کا کسان بھی تمام زرعی لوازمات سے محروم ہے اور انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے حالانکہ صوبائی وزیر زراعت کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے رہا ہے۔ اس کے باوجود نہری پانی میں جنوبی پنجاب کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اس وقت اپر پنجاب کو فی ہزار ایکڑ پر سات کیوسک ،سندھ کو فی ہزار ایکڑ پر تین کیوسک اور جنوبی پنجاب کو فی ہزار ایکڑ پر ایک کیوسک پانی دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح بجلی کی پیداوار کے حوالے سے بجلی پیدا کرنے کے سب سے بڑے منصوبے مظفر گڑھ تھرمل پاور مظفر گڑھ اور کوٹ ادو تھرمل پاور سٹیشن جنوبی پنجاب میں موجود ہیں مگر اسکے باوجود 19اضلاع کے خطے کو بجلی جیسی سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہے بجلی کی بندش کی جو صورت حال جنوبی پنجاب کی ہے کسی اور خطہ کی نہیں۔
ڈیرہ غازیخان جنوبی پنجاب کی سرحد کو بلوچستان اور سندھ کے ساتھ ملانے والے مغربی اضلاع میں شمار ہو تا ہے جس کا رقبہ 11922مربع کلومیٹر ہے جو دو حصوں میں تقسیم ہے مغرب میں کوہ سلیمان کا پہاڑی سلسلہ ہے جس کی چوٹیاں سطح سمندر سے 2800سے 3000میٹر بلند ہیں اس کی آبادی 24لاکھ 96ہزار اور کلزرعی رقبہ 9لاکھ 36ہزار ایکڑ ہے۔ یہ ضلع تین تحصیلوں ڈیرہ غازی خان ،تونسہ شریف ،اور ٹرائبل ایریا پر مشتمل ہے۔ پہاڑوں کی کوکھ سے سینکڑوں ندی نالے نکلتے ہیں جن سے تقریباًایک لاکھ 79ہزار 15سو کیوسک پانی کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ پانی مختلف مقامات سے ہوتا ہوا سیدھا دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر جا کر گرتا ہے تونسہ بیراج ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو سے مغرب کی طرف چھ کلومیٹر جبکہ تونسہ شہر سے مشرق کی طرف دو کلو میٹر کے فاصلے پر تعمیر کیا گیا ہے۔ ایک عرصہ سے ان پہاڑوں کے پانی سے بجلی پیدا کرنے اور اسے زرعی مقاصد کیلئے زیر استعمال لانے کیلئے مختلف سکیمیں اور تجاویز حکومت کو دی گئیں مگر ان میں سے کسی ایک تجویز پر بھی عمل درآمد نہ ہو سکا ایک انگریز انجینئر نے 1901ء میں تونسہ بیراج کے گردونواح اور کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں کا سروے کیا اور مطالعے کے بعد ان پہاڑوں سے نکلنے والے رود کوہی کے پانی کو ذخیرہ کرکے تونسہ بیراج کے مقام پر ڈیم بنانے کی تجویز دی تھی اگر انگریز انجینئرکی تجویز پر عمل کیا جاتا تو یہ علاقہ آج پاکستان کا منی یونان ہوتا اور پاکستان یوں بجلی کے بحران سے دوچار نہ ہوتا جس طرح آج ہے چین کے ساتھ تونسہ پاور پراجیکٹ کے معاہدہ پر روزنامہ سفیر پنجاب ملتان نے اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ ہم ہر کام موجودہ حالات کو پیش نظر رکھ کر کرتے ہیں ہم یہ نہیں سوچتے کہ مستقبل میں صورت حال کیا ہو گی دس یا بیس سال بعد کیا مشکلات پیش آئیں گی یہی حال بجلی کی پیداوار کا ہے بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے گزشتہ دو دہائیوں سے بھر پور کوششیں کی جا رہی ہیں نئے پاور پراجیکٹس لگانے کی تجاویز مرتب کی جارہی ہیں لیکن حکومت کی طرف سے بجلی کے بحران کے خاتمے کیلئے کوئی عملی اقدام اور سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں موجودہ لوڈشیڈنگ اسی کا شاخسانہ ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دیرینہ ہمسایہ ملک اور دوست چین کا دورہ کیا اور بیجنگ میں تونسہ بیراج سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے آغاز کیلئے چین اور پنجاب کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے جس کے مطابق پاک چائنا تعاون سے شروع ہونے والے منصوبے پر 26ارب لاگت آنا تھی اور 120میگا واٹ بجلی پیدا ہونا تھی یہ منصوبہ تین برسوں میں مکمل ہونا تھا معاہدے پر پنجاب کی جانب سے پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیئر مین بابر ندیم اور چین میں 30 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کارپوریشن کے چیئر مین وانگ شاؤفینگ نے دستخط کیئے لیکن یہ منصوبہ ابھی تکمیل کی راہیں دیکھ رہا ہے ۔